قسط نمبر 27
خوف سے فہم تک
(گزشتہ سے پیوستہ)
برزہوم کی ہوا میں آج کچھ بدلا ہوا تھا۔ایسا نہیں کہ ہوا تیز تھی یا موسم بدلا تھا….بلکہ یوں لگتا تھا جیسے زمین خود سانس لے رہی ہو۔
پروفیسر کول آہستہ آہستہ آگے بڑھے۔انہوں نے ایک کھلے میدان کی طرف اشارہ کیا….نہ دیوار، نہ گڑھا، نہ کوئی چھت۔بس کھلا پن… اور خاموشی۔
”یہاں خالی گھر نہیں بنتے تھے“۔
پروفیسرصاحب نے دھیرے سے کہا:
”یہاں انسانی تہذیب کے خدو خال تراشے جارہے تھے۔”
جذلان نے اس خالی میدان کو دیکھا۔اچانک اسے خالی نہیں لگا۔وہاں قدموں کی آہٹ تھی،سانسوں کی گھبراہٹ تھی اور آنکھوں میں چھپا خوف تھا۔
پروفیسر صاحب چند لمحے خاموش رہے۔ جیسے وقت کو پیچھے پلٹتے دیکھ رہے ہوں۔
”تمہیں ایک بات سمجھنی ہوگی“۔
وہ آہستہ بولے:
”برزہوم کا انسان اکیلا نہیں تھا۔وہ دنیا کے دوسرے قدیم انسانوں کی طرح اسی سوال سے دوچار تھا—زندہ کیسے رہا جائے؟“
انہوں نے ہلکی سی جنبش کے ساتھ ہاتھ ہوا میں اٹھایا۔
”اسی زمانے میں….نیل کے کنارے انسان پتھر تراش رہا تھا،میسوپوٹیمیا میں شکار سے کھیتی کی طرف بڑھ رہا تھااور وسطی ایشیا کے میدانوں میں انسان جانور کے پیچھے نہیں اپنے مستقبل کے پیچھے چل رہا تھا۔”
طلبہ ہمہ تن گوش تھے۔
”فرق صرف یہ تھا“
پروفیسر صاحب نے بات آگے بڑھائی۔
” برزہوم کا انسان یہ سب سردی، برف اور خاموش پہاڑوں کے بیچ کر رہا تھا۔“
انہوں نے زمین کی طرف دیکھا۔
”یہ آسان نہیں تھا۔یہاں نہ دریا مہربان تھے،نہ موسم….پھر بھی وہ زندہ رہنے کی تگ ودو میں الجھا رہا۔“
نادیہ بے اختیار بول اٹھی:
”یعنی… وہ دنیا میں کسی سے پیچھے نہیں تھا؟“
پروفیسر صاحب مسکرائے۔
“نہیں۔وہ بس الگ حالات میں وہی تجربہ کر رہا تھا جو دنیا کے دوسرے قدیم انسان کر رہے تھے۔”
وہ ذرا رکے، پھر آہستہ سے بولے:
“اور یہی چیز برزہوم کو خاص بناتی ہے۔یہاں کا انسان شکار جانتا تھا۔اس لئے اوزار بنانے میں سبقت لی ۔ سب سے اہم بات،وہ جینے کا گر سیکھ رہا تھا۔“
ہوا میں خاموشی پھیل گئی۔
”یاد رکھو….!!“
پروفیسرصاحب سے طلبا سے مخاطب ہو کر کہا:
”ترقی کا مطلب ہمیشہ آگے ہونا نہیں ہوتا….کبھی کبھی مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم اپنے وقت کے تقاضوں کو سمجھ لو۔“
جذلان نے دل ہی دل میں سوچا:
برزہوم کا انسان پیچھے نہیں تھا…وہ اپنے وقت کے عین درمیان کھڑا تھا۔
نادیہ کچھ لمحے خاموش رہی۔پھر جیسے اس کے اندر کی الجھن بول اٹھی۔
”سر… ایک بات پوچھوں؟“
پروفیسر صآحب نے اس کی طرف دیکھا۔
”ہم یہ سب اکثر Discovery چینل پر دیکھتے ہیں نا…
وہی شکار، وہی دوڑ، وہی تیر…وہاں سب کچھ ۔۔۔ آسان سا لگتا ہے۔“
یہ سنتے ہی چند طلبہ بے اختیار ہنس پڑے۔جذلان اپنی مسکراہٹ چھپا رہا تھا لیکن فضا ایک لمحے کو ہلکی ہو گئی۔
پروفیسرصاحب بھی مسکرا دیے۔
”ہاں….!!“
انہوں نے آہستہ کہا:
”وہاں کیمرہ ہوتا ہے…یہاں زندگی تھی۔“
وہ ذرا رکے۔
”اسکرین پر نہ خوف دکھائی دیتا ہے،نہ بھوک،نہ وہ ہاتھ جو کانپتے ہیں۔“
مسکراہٹ آہستہ آہستہ معدوم ہو گئی۔
پروفیسر صاحب کی آواز بھاری ہوگئی تھی :
”خوراک درختوں سے نہیں ملتی تھی….وہ چلتی تھی… دوڑتی تھی…اور کبھی پلٹ کر انسان کو گرا بھی دیتی تھی۔“
نادیہ کی آواز لرز گئی:
”سر ۔۔۔آپ شکار کی بات کر رہے ہیں؟“
پروفیسر صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔
”شکار کوئی مہم نہیں تھا….یہ زندگی کو سمجھ کر اٹھایا گیا قدم تھا۔“
انہوں نے زمین پر ایک لکیر کھینچی۔
”یہ لکیر… انسان اور جانور کے درمیان تھی۔اور اسی لکیر نے انسان کو سوچنا سکھایا۔“
جذلان کی آنکھوں کے سامنے منظر بدلنے لگا۔۔۔
ایک آدمی،ہاتھ میں لکڑی،لکڑی کے سرے پر پتھربندھا ہوا۔۔۔دل زور زور سے دھڑکتا ہوا۔
”یہ نیزہ تھا….!!“
پروفیسر صاحب بولے :
”خام، بے تراش… مگر فیصلہ کن۔یہ مارنے کے لیے نہیں بلکہ خود کو بچانے کے لیے تھا۔“
ہوا میں اچانک سردی گھل گئی۔
”اور جب جانور اور انسان کے فاصلے بڑھے ،تو انسان نے بازو پر بھروسا کیا۔“
پروفیسر صاحب نے آسمان کی طرف دیکھا۔
”تب تیر اور کمان وجود میں آئے۔چھوٹے… خاموش… مگر سیدھے دل تک اترنے والے ۔“
جذلان نے آہستہ سے کہا:
”یعنی طاقت نہیں… نشانہ اہم تھا؟“
پروفیسر صاحب مسکرائے۔
”ہاں۔یہ وہ لمحہ تھا جب انسان نے طاقت چھوڑ کر سمجھ کو چنا۔“
وہ جھکے، زمین سے ایک ہڈی اٹھائی۔
”اور جب پتھر کم پڑا…تو ہڈی نے زبان پکڑی۔ پھر کانٹے دار نوکیں …. مچھلی کو پکڑنے کے کام آءیں۔۔“
جذلان نے تصور میں دیکھا….پانی کی سطح،اچانک جنبش اور پھر ایک خاموش جدوجہد۔
جب پروفیسر صاحب نے بات ختم کی تو چند لمحوں کے لیے فضا جیسے ساکت ہو گئی۔
پھر دھیرے سے بولے:
“ جس دن برزہوم کے انسان نے شکار کرنے کا گُر سیکھ لیا…اس دن وہ صرف طاقتور نہیں ہوا تھا بلکہ اس دن اس کے کندھوں پر ذمہ داری رکھ دی گئی تھی۔“
جذلان نے نظریں جھکا لیں۔
اس کے دل میں ایک خیال ابھرا….گہرا، بھاری، مگر روشن:
“یہ وہ لمحہ تھا جب انسان نے صرف جینا نہیں سیکھا،بلکہ زندگی کا بوجھ اٹھانا سیکھا۔یہ وہ ساعت تھی جب شکار محض بھوک کا جواب نہ رہا،بلکہ بقا کی ذمہ داری بن گیا۔اور انسان… فطرت کا مسافر نہیں،اس کا نگہبان بننے

