قارئین مساجد اور دینی مراکز کا نظام ہمیشہ سے ہی مقامی سطح پر چلایا جاتا رہا ہے اور اس میں سرکار کی جانب سے کوئی بھی مداخلت نہیں ہوتی ۔ البتہ سرکار کے پاس مساجد اور دیگر مذہبی مقامات کا اعدادوشمار ہونا لازمی ہے تاکہ یہ پتہ چلے کہ کس علاقے میں کتنی مساجد ، درسگاہیں ، عبادت گاہیں اور دیگر مذہبی مقامات ہیں اور اس ڈیٹا کو اکٹھا کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں کیوں کہ جب سرکار کے پاس مکمل ڈیٹا ہوگا تو ہی وہ ان عبادت گاہوں کیلئے سہولیت کا بندوبست کیا جائے ۔ قارئین وادی کشمیر میں مساجد سے متعلق حالیہ انتظامی اقدامات پر پیدا ہونے والا شور کوئی نیا رجحان نہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ معمول کی حکمرانی اور دفتری عمل کو فوراً مذہبی دباؤ یا مذہبی آزادی پر حملہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ ایسی تشریحات وقتی طور پر جذبات کو تو بھڑکا سکتی ہیں، مگر اصل معاملے کی نوعیت کو سمجھنے میں وہ مددگار ثابت نہیں ہوتیں۔
اگر سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو یہ پورا عمل دستاویزی ریکارڈ، تصدیق اور انتظامی نگرانی سے متعلق ہے۔ یہ ایسے اقدامات ہیں جو دنیا بھر میں ریاستیں اْن اداروں کے لیے اختیار کرتی ہیں جو عوامی دائرے میں کام کرتے ہیں، املاک کی نگرانی کرتے ہیں یا مالی وسائل کو استعمال میں لاتے ہیں۔ یہ تصور کہ مساجد کو مکمل طور پر کسی بھی قانونی یا انتظامی فریم ورک سے باہر ہونا چاہیے، نہ عملی ہے اور نہ ہی عالمی روایات سے ہم آہنگ۔قارئین کو بتادیں کہ مسلم دنیا کے مختلف ممالک میں سرکاری سطح پر مساجد کی نگرانی ایک عام اور مستحکم عمل ہے، اور کئی جگہوں پر یہ نظام کشمیر کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت ہے۔ پاکستان میں مساجد کا قانونی طور پر رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے، زمین کی ملکیت کا ریکارڈ اور تعمیر کے لیے سرکاری اجازت لازمی سمجھی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں مساجد کا انتظام مکمل طور پر وزارتِ اسلامی امور کے تحت ہے، جہاں ائمہ سرکاری ملازمین کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ ترکی میں مذہبی امور کا بڑا حصہ دیانت (Diyanet) کے زیرِ انتظام ہے، جو مساجد، خطباء اور مذہبی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے۔اسی طرح دیگر ممالک میں بھی یہی طرزِ عمل نظر آتا ہے۔ ملائیشیا میں کسی مسجد کے قیام یا استعمال کے لیے ریاستی اسلامی کونسل کی تحریری منظوری ضروری ہے۔ مصر میں وزارتِ اوقاف مساجد کی نگرانی کرتی ہے اور خطبات تک پر نظر رکھتی ہے۔ خلیجی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات اور قطر میں مساجد کے لیے لائسنسنگ نظام موجود ہے جو تعمیر، عملے کی تعیناتی، مالی معاملات اور روزمرہ انتظام تک کو منظم کرتا ہے۔ انڈونیشیا میں مساجد کی رجسٹریشن وزارتِ مذہبی امور کے تحت لازمی ہے۔
اس عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو کشمیر میں مساجد سے متعلق انتظامی تصدیق یا ریکارڈ سازی کوئی غیر معمولی یا امتیازی قدم نہیں لگتی۔ یہ وہی حکمرانی کا طریقہ ہے جو دنیا کے مختلف خطوں میں اپنایا جاتا ہے، حتیٰ کہ اْن ممالک میں بھی جہاں اسلام ریاستی مذہب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس طرح کی نگرانی دراصل عقیدے پر کوئی تبصرہ نہیں بلکہ سرکار کی اس ذمہ داری کا حصہ ہے جس کے تحت وہ قانونی حیثیت اور شفافیت کو یقینی بناتی ہے۔وادی کشمیر میں اس معاملے کو پیچیدہ بنانے والی اصل وجہ وہ سیاسی اور جذباتی فضا ہے جس میں انتظامی فیصلے لیے جاتے ہیں۔ برسوں کی بے یقینی اور عدم استحکام نے ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ معمول کے دفتری اقدامات بھی شکوک کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ مگر اگر ہر انتظامی قدم کو مذہبی نشانہ سازی کے طور پر پیش کیا جائے تو اس کے نتائج بھی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اس سے حکمرانی بذاتِ خود مشکوک
بن جاتی ہے اور حقیقی مسائل اور مبالغہ آرائی کے درمیان فرق مٹنے لگتا ہے۔اس رویے کا ایک اور پہلو عوامی مکالمے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ جب عام انتظامی عمل کو مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا جانے لگے تو خود مذہبی آزادی کی اصطلاح اپنی معنویت کھونے لگتی ہے۔ مذہبی آزادی ایک سنجیدہ آئینی اصول ہے، محض ریاستی نگرانی کی مخالفت کا نعرہ نہیں۔ دونوں کو خلط ملط کرنا حقوق اور آزادیوں پر ہونے والی سنجیدہ بحث کو کمزور کر دیتا ہے۔قارئین کو بتادیں کہ جموں کشمیر میں اس طرح مساجد سے متعلق جانکاری اور ڈیٹا جمع کرنے کا عمل آج کا نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی اس طرح کے اقدامات کئے گئے ہیں یہاں تک کہ سرکاری سطح پر مندروں ، گردواروں ، گرجا گروں اور دیگر مذہبی مقامات کا ڈیٹا بھی جمع کیا جاتا ہے اور یہ عمل مذہبی امور میں مداخلت نہیں گردانی جاسکتی بلکہ یہ محض ریکارڈ محفوظ رکھنے کی مشق ہے ۔اس طرح کی کارروائیوں پر سیاست کرنا اور لوگوں کے جذبات کو اُبھارنا نہ صرف امن وقانون کی صورتحال کو بگاڑ سکتی ہے بلکہ سرکاری عمل میں بھی رُکاوٹ بن سکتی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گفتگو میں توازن اور سنجیدگی لائی جائے۔ یہ تسلیم کیا جائے کہ ضابطہ اور مذہبی عمل ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ کشمیر کا تجربہ، اگر غیر جانب دارانہ نظر سے دیکھا جائے، تو وہ اسی عالمی طرزِ عمل کا حصہ نظر آتا ہے جہاں ریاستیں مذہبی اداروں کی نگرانی کرتی ہیں، بغیر اس کے کہ ان کے روحانی کردار کو ختم کیا جائے۔حکمرانی کا جائزہ حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے، خوف اور جذبات کی بنیاد پر نہیں۔ اصل چیلنج نگرانی کے عمل میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ عوامی بحث حقیقت سے جڑی رہے، نہ کہ محض جذباتی بیانیے کا شکار ہو۔

