خود ارادیت کا ذکر عموماً بڑے اور پُرطنطنہ الفاظ میں کیا جاتا ہے۔ یہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، سفارتی تقاریر اور ریاستوں کے درمیان قانونی دلائل میں نمایاں نظر آتی ہے۔ مگر زیادہ تر لوگوں کے لیے خود ارادیت کانفرنس ہالوں میں ہونے والی بحث نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو روزمرہ زندگی میں محسوس کی جاتی ہے، یا پھر اسی روزمرہ میں اس کی عدم موجودگی کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہ اس اطمینان میں جھلکتی ہے کہ کوئی والدین اپنے بچے کو بلا خوف اسکول بھیج سکیں،لوگ اپنی پسند کا پیشہ اختیار کر سکیں، بلا تذبذب طبی سہولت حاصل کر سکیں، اپنے خیالات کا اظہار بیخوف کر سکیں، اور ایسے ووٹ کا حق استعمال کر سکیں جس کی کوئی معنویت ہو۔
خود ارادیت اصل میں سیاسی ہونے سے پہلے نفسیاتی تصور ہے۔ ایڈورڈ ڈیسی اور رچرڈ ریان کی پیش کردہ “سیلف ڈیٹرمنیشن تھیوری (Self Determination Theory)” کے مطابق، اس کا مطلب اپنی زندگی کے بارے میں فیصلے کرنے اور عزت و وقار کے ساتھ ان پر عمل کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ خودمختاری، مواقع اور وابستگی کے احساس پر قائم ہوتی ہے۔ سادہ لفظوں میں اگر بیان کرنا ہو تو اس کا مطلب اپنی زندگی کی کشتی خود چلانے جیسی ہے اور اس احساس کے بغیر کہ کوئی اور اس کی سمت کا فیصلہ کر رہا ہو۔
دنیا کے طویل تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں یہی بنیادی خودمختاری سب سے پہلے قربان ہوتی ہے۔ ایسے مقامات پر اسکول، روزگار، سفر اور علاج جیسی معمول کی سرگرمیاں اس قدر بار بار متاثر ہوتی ہیں کہ معمول کی زندگی حق کے بجائے ایک مراعت محسوس ہونے لگتی ہے۔ برسوں تک بھارتی ریاست جموں و کشمیر میں یہی صورتحال رہی۔
وادی کشمیر میں پرورش پانے والی نبھے اور اسی والی نسلوں کے لیے بچپن مین تعلیمی سیشن معمول کے مطابق ہونا پیمانہ نہیں تھے بلکہ کتنے دن کھلا رہے یہ تھا ۔ سرحد پار سے حمایت یافتہ علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے دی جانے والی ہڑتالیں زندگی کا مستقل حصہ تھیں ،سڑکیں سنسان، اسکول بند، اور اسپتالوں تک جانا ہی سب سے مشکل تر کام تھا۔یعنی جو چیزیں معمول ہونی چاہئیں تھیں، جیسے صبح اسکول جانے کی بس کا معمور ، وہ سب سے غیر یقینی بن جاتی تھیں۔ المیہ یہ تھا کہ ایسی روزمرہ انتخابوں کو بھی “خود ارادیت” کے نام پر جائز ٹھہرایا جاتا رہا۔
حالیہ برسوں میں یہ تجربہ نمایاں اور ٹھوس انداز میں بدلتا دکھائی دیتا ہے۔ آج کشمیر میں بچے یونیفارم پہن کر ایسی پیش بینی کے ساتھ اسکول جاتے ہیں جو کبھی ایک نایاب احساس تھا۔ تعلیمی ادارے باقاعدگی سے کام کر رہے ہیں، جبکہ صحت کی سہولتیں، جو کبھی صرف اُن لوگوں تک محدود تھیں جو خطے سے باہر جا سکتے تھے یا نجی انتظامات کے متحمل ہو سکتے تھے، قریب قریب ہر علاقے مین دستیاب ہیں۔ بظاہر یہ معمولی تبدیلیاں لگ سکتی ہیں، مگر درحقیقت یہی انسانی وقار کی بنیاد ہیں۔ چاہے گریز، ٹنگدار، سورنکوٹ جیسے دور درا زسرحدی علاقے ہوں یا سرینگر، جموں اور ڈوڈہ جیسے نمایاں شہر، جموں و کشمیر کے کسی بھی کونے کے لوگوں سے بات کیجیے، وہ آپ کو بتائیں گے کہ سماجی و معاشی خودمختاری کا مطلب یہ چھوٹی چھوٹی آزادیاں ہوتی ہے۔
اگر ہم بات کرےصحت کے شعب کی تو خدمات کی تو اسکی آسان فراہمی خودارادیت کا ایک واضح آئینہ ہے۔ جیسے جیسے مرکزی حکومت کی کاوشوں سےکشمیر میں امن اور استحکام مضبوط ہوا، لوگوں کی نجی زندگیوں میں روزمرہ انتخاب کے دائرے بھی وسیع ہوئے۔ آج جموں و کشمیر میں بنیادی، ثانوی اور اعلیٰ سطح پر چار ہزار سے زائد طبی ادارے موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً ہر 3500 افراد کے لیے ایک ادارہ قایم ہے، جو کہ قومی اوسط (6000 افراد فی ادارہ) سے کہیں بہتر ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں 11 میڈیکل کالج مستقبل کے ڈاکٹروں کو تربیت دے رہے ہیں۔ سرکاری شعبے کے ساتھ ساتھ نجی صحت کا نظام بھی مسلسل فروغ پا رہا ہے، جہاں معروف ہاسپٹل چینز کشمیر کا رخ کر رہی ہیں اور مریضوں کو بہتر علاج کے انتخاب میسر کر رہی ہیں۔صحت تک رسائی صرف بقا کا مسئلہ نہیں؛ یہ انفرادی اختیار کے استعمال کا سوال بھی ہے۔ یہ خود ارادیت کی ایک خاموش شکل ہے، یہ نعرے نہیں بلکہ انتظار گاہوں اور او پی ڈی میں عمل میں آنے والی۔
یہی اصول سیاسی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ شہری مفہوم میں خود ارادیت کا مطلب اپنے نمائندے منتخب کرنے یا دوسروں کے لیے نمائندہ بننے کی بامعنی صلاحیت ہے۔ جموں و کشمیر کا سیاسی منظرنامہ، جسے اکثر دور سے یک رخی اوربےایمانہ انداز میں پیش کیا جاتا رہا، اس صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے، اور 2024 کے اسمبلی انتخابات اس کی واضح مثال ہیں۔ ان انتخابات میں قریب 65 فیصد ریکارڈ ووٹر شمولیت اور 90 رکنی اسمبلی کے لیے 873 امیدواروں کی غیر معمولی شرکت دیکھنے میں آئی۔ لوگ لمبی قطاروں میں اس لیے کھڑے نہیں تھے کہ انہیں مجبور کیا گیا تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی شمولیت کی اہمیت ہے۔
یہ فرق معمولی نہیں، خاص طور پر ایک ایسے خطے میں جہاں طویل عرصے تک بیلٹ کے مقابلے میں بائیکاٹ کو فروغ دیا گیا۔ آج، جنوبی ایشیا کے دیگر حصوں میں جمہوری عمل کی ساکھ پر سوال اٹھ رہے ہیں، جیسا کہ پاکستان کے 2024 کے عام انتخابات، جن پر فوجی مداخلت کے الزامات لگے، وہی کشمیر کے انتخابات نے ایک بنیادی جمہوری اعتماد کی عکاسی کی۔ یہاں ووٹ دینا مزاحمت نہیں بلکہ انتخاب کا اظہار بن گیا، یعنی یہ حقیقی معنوں میں خودمختاری کی اک بے لوث مشق بن کر ابھر آیا۔
اب سوال یہ اٹھےگا کہ یہ سب آج کیوں اہم ہے؟ اس لیے کہ جب اس کا موازنہ خطِ کنٹرول کے اُس پار پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی نسبتاً خاموش اور محدود صورتحال سے کیا جائے تو فرق نمایاں ہو جاتا ہے۔ سرحد کے اس پار تو خود ارادیت کی زبان کثرت سے استعمال تو ہوتی ہے، مگر وہ روزمرہ حالات جو اسے حقیقت بناتے ہیں، کہیں زیادہ محدود ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیاسی انتخاب ہمیشہ آرمی کےبندوق کے سایے میں کرنا پڈا ہے۔ اس خطے کی پاکستان کی قومی اسمبلی میں عملی طور پر کوئی نمائندگی نہیں، جس کے باعث عوام مرکزی فیصلوں میں براہِ راست آواز سے محروم ہیں۔ علاوہ ازین ان کے امور وفاقی وزارتِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان کے تحت ایک کمیٹی کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔ اگرچہ مقامی انتخابات ہوتے ہیں، مگر وہاں کے مبصرین بھی اس خودمختاری کی حدود کو تسلیم کرتے ہیں اور کہتے ہیں اصل طاقت منتخب نمائندوں کے بجائے منگلا اور راولپنڈی کے موجود فوجی کمانڈروں کے پاس ہے۔ خود مقامی سیاسی قیادت اعتراف کرتی رہی ہے کہ اہم حکومتی فیصلے فوجی افسران کی ہدایات کے بغیر ممکن نہیں۔
صحت کا شعبہ یہاں بھی واضح موازنہ پیش کرتا ہے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں تقریباً 1088 طبی ادارے ہیں، جو نسبتاً زیادہ اور جغرافیائی طور پر پھیلی ہوئی آبادی کے لیے ناکافی ہیں۔ ماہر ڈاکٹروں اور ڈینٹسٹس کی دستیابی تقریباً 0.07 فی ہزار افراد ہے، جو بھارتی کشمیر کے مقابلے میں کہیںزیادہ کم ہے۔ اس کا مطلب کم انتخاب، علاج کے لیے طویل سفر اور باہر سے کیے گئے فیصلوں پر زیادہ انحصار ہے۔ ان مشکلات میں اضافہ اس لیے بھی ہوتا ہے کہ پورے خطے میں نہ ریلوے ہے اور نہ ہوابازی کی سہولت۔ وہاں صرف اسکردو میں ایک محدود خدمات والا ہوائی اڈہ موجود ہے۔
اس سب کو سمجھنے کے لیے جذباتی زبان کی ضرورت نہیں۔ نتائج خود بولتے ہیں۔ جہاں نظام لوگوں کو باقاعدگی سے تعلیم، مقامی علاج، بلا خوف اظہارِ رائے اور ایسے انتخابات میں شرکت کی اجازت دیتے ہیں جو حکمرانی کو شکل دیں، وہاں خود ارادیت محض دعویٰ نہیں بلکہ عملی حقیقت بن جاتی ہے۔ اور جہاں یہ انتخاب محدود ہوں، وہاں خود ارادیت محض ایک تجریدی تصور رہ جاتی ہے، چاہے اس کا ذکر جتنا بھی کیا جائے۔
یہ موازنہ کامیابی اور ناکامی کے درمیان نہیں، بلکہ سمت کے تعین کا ہے۔ کیا جموں و کشمیر کو، دیگر تنازعات زدہ خطوں کی طرح، چیلنجز درپیش ہیں؟ یقیناً۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ روزمرہ زندگی کے انتخاب کس سمت جا رہے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ شکایات،وہ ہر جگہ ہوتی ہیں، موجود ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا لوگوں کے پاس انہیں پُرامن اور معمول کے طریقوں سے حل کرنے کی گنجائش اور اعتماد موجود ہے۔
عوام کے لیے حقیقی خود ارادیت بلند آواز میں اعلان نہیں کرتی۔ یہ ناشتہ کی میز پر ظاہر ہوتی ہے، جب والدین بچوں کے دن کی منصوبہ بندی کسی رکاوٹ کے اندیشے کے بغیر کرتے ہیں۔ یہ کھلے رہنے والے اسکولوں، اسپتالوں، پولنگ بوتوں اور اس ثقافتی ماحول میں دکھائی دیتی ہے جو خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ جیا اور منایا جاتا ہے۔
جیسے جیسے پاکستان کشمیر پر اپنی روایتی بیان بازی جاری رکھے ہوئے ہے، جو آنے والے دنوں میں 5 فروری کے نام نہاد “یومِ یکجہتی کشمیر” کے قریب مزید نمایاں ہوگی، تو شاید ایک سادہ سوال پر رک کر غور کرنے کا وقت ہے: عام کشمیری کہاں اس اعتماد کے ساتھ بیدار ہوتا ہے کہ اس کے چھوٹے اور بڑے فیصلوں کا احترام کیا جائے گا؟ کہاں روزمرہ زندگی وقار، مواقع اور مستقبل کا احساس فراہم کرتی ہے؟ کیونکہ آخرکار خود ارادیت جھنڈوں یا سرحدوں کا نام نہیں، بلکہ اس بات کا کہ لوگ اعتماد کے ساتھ زندگی گزار سکیں، خوف کے بغیر انتخاب کر سکیں، اور امید کے ساتھ مستقبل کا تصور کر سکیں.

