سال 1947 محض ایک جمہوریہ کے قیام کا سال نہیں تھا؛ یہ دراصل ایک ایسی اخلاقی اور سیاسی عہدنامه کی تکمیل کی علامت تھا جو اُن لوگوں کے درمیان طے پایا جنہوں نے نو آبادیاتی ظلم سہہ کر اور تقسیم کے زخم جھیل کر بھی استقامت دکائی بھارتی مسلمان کے لیے یہ جمہوریہ کا جنم ایک اثبات کا لمحہ تھا۔ یہ وہ تاریخی موز تھا جہاں ایک ہزار سالہ برصغیری اسلام کی میراث مساوات کے جدید وعدے سے ہم آغوش ہوئی۔ اگر بھارتی آئین کو محض قانونی زاویے سے دیکھا جائے تو اس کی روحنظروں سے اوجھل رہ جاتی ہے؛ یہ اپنی اصل میں ایک مقدس عبد انصاف ہے جو باعزت، با ایمان اور ترقی یافتہ زندگی کے لیے ایک ایسے کثرتی معاشرے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
وہ بیانیہ جو اکثر مسلمان عقیدے کو آئین کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے، در اصل ایک جدید تشکیل ہے ایسا تصور جو نہ صرف اسلام کی گہری اخلاقی جڑوں کو نظرانداز کرتا ہے بلکہ بھارتی ریاست کی جامع و ہمہ گیر فطانت کو بھی بھلا دیتا ہے۔ موجودہ دور کے مباحث میں اسلام کو عموماً ایک سخت تعزیری قانون یا سیاسی مطالبات کے مجموعے تک محدود کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اس کے کلاسیکی مقاصد یعیشہ سے انسانی جان، مال، عقل، اقلیتوں اور ان کے مذاہب کے تحفظ پر مبنی رہے ہیں۔ جب ہم بھارتی آئین کو ان مقاصد کے ساتھ رکھ کر دیکھتے ہیں تو ایک ہم آینگی محسوس ہوتی ہے۔ سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف کے لیے آئینی عزم دراصل اسلامی تصور عدل (یعنی کامل انصاف اور احسان (یعنی حسن و اخلاق و مهربانی کی جدید تعبیر ہے۔ وہ آئین جو عبادت کے حق کا تحفظ کرتا ہے، کمزور کو طاقتور کے ظلم سے بچاتا ہے، اور پر شہری کو قانون کے سامنے مساوی حیثیت فراہم کرتا ہے – دراصل ایمان کا مخالف نہیں بلکہ اس اخلاقی زندگی کا معاون ہے جس کا مطالبہ خود ایمان کرتا ہے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ مسلمان رہنما جو دستور ساز اسمبلی میں بیٹھے تھے، اس دستاویز کے معمار تھے جسے وہ سماجی و سیاسی زندگی میں نافذ کرنا چاہتے تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور سید محمد سعد الله جیسے رہنماؤں نے مسلمان شناخت کو ایک سیکولر جمہوریہ کے متصادم نہیں سمجا. مولانا آزاد کے نزدیک آئین دراصل میثاق مدینہ کی جدید تعبير لا – تاریخ کا پہلا تحریری آلین – جس میں نبی اکرم نے ایک
ايما کثرتی ریاستی نظام قائم کیا تھا جو مسلمانوں، یہودیوں اور مشرکین سب کے لیے مذہبی آزادی اور اجتماعی تحفظ کی ضمانت دینا تھا۔ ان رہنماؤں نے یہ حقیقت بخوبی سمجھ لی تھی کہ ایک متنوع قوم کے لیے سیکولر ریاست ہی اس تنوع اور وسعت کی واحد عمالت ہے۔ فرقہ وارائم شناختوں کے بجائے مشترکہ شہریت کو اختیار کرنا اس بات کی علامت لها کہ کمیونٹی کا تحفظ تنہائی میں نہیں بلکہ مشترکہ جمہوری اداروں کی مضبوطی میں مضمر ہے۔
وہ بیانیہ جو مذہبی قانونی نظاموں کو آئین کے متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے، دراصل خود اُس ایمان کے ساتھ نا انصافی کرتا ہے جس کے پیروکار وہ لوگ ہیں اسلامی علماء نے واضح کیا ہے کہ جو مسلمان کسی ملک میں معاہدے یا عید کے تحت رہتے ہیں، ان پر شرعاً لازم ہے کہ اس ملک کے قوانین کی پاسداری کریں – بشرطیکہ وہ قوانین آنمین اپنے بنیادی عقیدے سے دستبردار ہونے پر مجبور نہ کریں۔ بھارتی آئین واضح طور پر ضمیر کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ دفعات 25 سے 30 کے تحت ہر آئین اقلیتوں کے ثقافتی اور تعلیمی حقوق کو جس حد تک تحفظ فراہم کرتا ہے، وہ دنیا کی آئینی تاریخ میں کم ہی مثال رکھتا ہے۔ یہ اکثریت کی طرف سے کوئی رعایت نہیں بلکہ ریاست کا یہ عہد ہے کہ بھارت ان تمام لوگوں کا وطن ہے جو اس میں بھلے ہیں۔ یہ کہنا کہ آئین کوئی اجنبی نے ہے، ان مسلمان مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو نظر انداز کرتا ہے جنہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ بھارت کبھی بھی ایک مذہبی ریاست نہ بنے۔
خلیقی انصاف، جیسا کہ آئین نے اس کا تصور پیش کیا ہے، محض امتیاز کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ اخوت کے فروغ کا عمل ہے۔ اخوت کا تصور جیسا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے بیان کیا، دراصل جمہوریت ہی کا دوسرا نام ہے۔ جب آئین امتیازی رویوں کو علم کرتا ہے یا خواتین اور پسماندہ طبقات کے حقوق کو فروغ دیتا ہے تو یہ مذہب پر حملہ نہیں يوتا، بلکہ عقل و فہم کا اظہار ہوتا ہے – ایک ایسی کوشش جو ہے يقبلی بنائی ہے کہ عزت نفس اور مساوات کی قدریں اکیسویں صدی کی عملی زندگی پر منطبق ہوں، وہ انصاف جو پہلی کے حقوق یا پسمانده ایماندہ طبقے کی حرمت کو نظرانداز کرے، دراصل اپنی سمت کھو چکا اور یہی وہ مقام ہے جہاں آئین ایک اصلاحی قطب نما کا کردار ادا کرتا ہے۔
بھارتی سیکولرازم کا ماڈل بنیادی طور پر مغرب میں پائے جانے والے ریاست اور مذہب کی علیحدگی کے تصور سے مختلف ہے۔ یہ اصولی فاصلہ کے نظریے پر مبنی ہے، جو ریاست کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ مذہبی اداروں اور شخصی قوانین کی معاونت کرے، مگر ساتھ ہی سماجی انصاف کے تقاضوں کے تحت ان میں اصلاح کا حق بھی محفوظ رکھے، یہی ملیت تعلق وہ عنصر ہے جو ایک مسلمان کو اپنی شناخت اور روزمرہ مذہبی عمل کو برقرار رکھتے ہوئے جج، سائنس دان یا سپاہی بننے کا موقع دیتا ہے۔ آئین ایسے نظامی ذرائع فراہم کرتا ہے ۔ جیسے عدالتی اداری ووت کا حق اختلاف والے کا حق اور قانونی چارہ جوئی کے ذرائع – جن کے ذریعے مسائل اور تنازعات کو حل کیا جا سکتا ہے۔ آئین ہی وہ واحد دستاویز ہے جو شہری اور ریاست یا اجتماعی قوت کے ممکنہ چیر کے درمیان ایک محافظ دیوار کے طور پر قائم ہے۔
بھارتی مسلمان کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ کسی خیالی ماضی میں پناہ لینے یا حال کو مسترد کرنے میں نہیں بلکہ الینی حب الوطنی کو اپنانے میں ہے۔ یہ ایسی حب الوطنی ہے جو صرف علامتوں پر نہیں بلکہ دنیا چے میں بیان کرده اقدار سے وابستگی پر مبنی ہے۔ یہ اس شعور کیا نام ہے کہ آئینی حقوق کے دفاع کی جدوجہد بذات خود ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ جب کوئی مسلمان قانون کی بالادستی، عدلیہ کی خود مختاری اور کمزور ترین افراد کے حقوق کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو وہ دراصل اپنے شیری فرض کے ماله ماله أبن دینی ذمہ داری کو بھی پورا کرتا ہے جو انصاف کا تقاضا کرتی ہے۔
اسلام اور آئین کی اقدار کا بیانی باہم متصادم نہیں، جب تک ہم التها يخلدون با مخالفین آئین کو یہ موقع نہ دیں کہ وہ اپنے مفاد کے لیے اختلاف اور تفرقہ پیدا کریں، ایک مسلمان شہری کے لیے اعلی ترین قانون وہی ہے جو انصاف فراہم کرے اور اس کی مذہبی شناخت کے ساله بین المذاہب تعلقات کا تحفظ کرے اگر بھارتی آلين يمين مساوات پر مبنی معاشرہ قائم کرنے، اپنی اولاد کو تعلیم دینے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن کے ساتھ جینے کے ذرائع فراہم کرتا ہے، تو یہ محلی ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ایک مقدمی عہد ہے۔ بھارتی مسلمان برادری آئین کو اپنے عقیدے کے لیے چیلنج نہیں سمجھتی بلکہ اسے اپنی سیاسی، سماجی اور معاشی زندگی کا سب سے مضبوط محافظ تصور کرتی ہے۔ مذہبی ریاست کے قیام با روایتی مذہبی احکام کے تحت حکومت کے مبہم تصورات پر انحصار دراصل آن آئینی عمائلوں اور تحفظات کو نظرانداز
کرتا ہے جو ہمیں حاصل ہیں۔ ایسا رویہ بالآخر آن دائیں بازو کے گروپوں کے لیے میدان ہموار کر سکتا ہے جو مذہب کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور نتیجتا مع معاشره اکثریتی خواہشات کے تصادم کا شکار ہو سکتا ہے۔
