اسلامک سکالر
آج ہندوستانی مسلمانوں میں شناخت کا بحران اکثر بیرونی سیاسی طاقتوں کے خلاف جدوجہد کے طور پر دیکھا جاتا ہے. تاہم، اس کے ساتھ ساتھ ایک اتنی ہی اہم اندرونی کشمکش بھی جاری ہے: بیرونی سخت گیر نظریات کے باعث مقامی اور ہم آہنگ سنکریٹک) روایت کا زوال یہ مذہبی طرز عمل میں تبدیلی کی علامت ہے۔ مزید یہ کہ یہ اس بات میں بھی ایک بنیادی تبدیلی ہے کہ جنوبی ایشیا میں اسلام کس طرحکارفرما رہا ہے۔ ہندوستان میں اسلام کسی ایک سخت اور جامد صورت میں وارد نہیں ہوا تھا۔ بلکہ یہ ایک مقامی شکل اختیار کرنے والا مذہب تھا، جس نے برصغیر کے پیچیدہ سماجی اور ثقافتی ڈھانچے کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت سے اپنی طاقت حاصل کی۔ آج اس ورثے کو ایسے سخت لفظی تفسیری رجحانات سے چیلنج کیا جا رہا ہے جو بندوستانی اسلام کی ہندوستانیت کو اس کی اصل طاقت کے بجائے ایک خامی سمجھتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہندوستانی ہم آہنگی سے وابستہ محض جذباتی رویے سے آگے بڑھیں اور ان فکری اور سماجی ڈھانچوں کی سنجیدہ بازیافت کریں جنہوں نے اس سرزمین میں اسلام کو مقامی اور دیسی بنایا۔
اسلام کی ہندوستان میں تاریخی کامیابی کی بنیاد اس کی انطباق پذیری (adaptability) پر تھی نہ صرف زبان کے سطح پر بلکہ سماجی اور روحانی تصورات کے میدان میں بھی۔ تیرہویں اور چودھویں صدی کی صوفی روایتیں اسلام کے غیر ملکی پس منظر اور ہندوستان کے عوامی و معاشرتی تجربے کے درمیان ایک نہایت اہم پل ثابت ہوئیں۔ چشتی اور سروردی سلسلوں کی خانقاہیں محض روحانی ریاضت کے مراکز نہیں تھیں، بلکہ وه ایسی فکری روحانی فضا تھیں جہاں اسلامی کا تعامل بندوستانی فلسفیانہ روایتوں اور مختلف مذہبی افکار سے ہوا۔ اسی بابعی تعامل کے نتیجے میں اسلام کی ایک ایسی صورت تشکیل پائی جو اپنی بنیادی عبادات اور عقائد کو برقرار رکھتے ہوئے مقامی رسوم ثقافت اور سماجی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئی۔ اس لچک اور وسعت نظر نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اسلام نہ تو ایک اجنبی مذہب بن کر محدود رہا اور نہ ہی صرف اشرافیہ تک مقید ہوا، بلکہ رفتہ رفتہ بندوستان کی ثقافتی )metaphysics( مابعد الطبيعات شناختوں میں سے ایک شناخت بن گیا، آج بھی اس کی جھلک مقامی بولیوں، استعارات لوک روایتوں اور روزمرہ مذہبی و سماجی عملی اظہار میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
تایم، حالیہ دہائیوں میں ایک زیادہ خود آگاہ اور اصلاحی رجحان کی طرف تبدیلی کا آغاز ہوا ہے۔ بعض تحریکوں نے ایک خالص اسلام کی وکالت شروع کی۔ متن کی اس لفظی تشریح کو جدید دور میں عالمی نیٹ ورکس اور خاص طور پر اسی مقصد کے لیے تیار کیے گئے مواد کی اشاعت نے مزید تقویت دی ہے۔ یہ نظریہ ایک سخت گیر، تطہیری اسلام کو اس کے مقابل پیش کرتا ہے جسے آلودہ با منحرف بندوستانی اسلام قرار دیا جاتا ہے۔ ایسا اسلام جس کی خصوصیات درگاہوں کی تعظیم تہواروں کی تقریبات اور مشترکہ ثقافتی روایات میں شرکت ہیں۔
ثقافت کے اس زوال کی فکری قیمت ہندوستانی مسلمانوں کے لیے نہایت بھاری ثابت ہوئی ہے. اس کے نتیجے میں برادری کو اپنے ہی ورثے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ وہ وہی اوزار کو دیتی ہے جو اسے ہندوستان کے متنوع معاشرے میں بقائے باہمی اور ترقی کی صلاحیت فراہم کرتے تھے۔ امتزاجیت اسپنکریلزم) نے بندوستانی مسلمانوں کو اپنی مذہبی شناخت پر سمجھوتہ کیے بغیر وسیع تر ہندوستانی بیانیے میں شریک ہونے کا موقع دیا۔ مشترکہ زبانیں، شاعری، طرز تعمیر اور موسیقی نے ایک مشترک تہذیبی بنیاد فراہم کی۔ اس سب کو ترک کر کے یک رخی لفظی تعبیر کو اختیار کرنے کی کوششیں نادانستہ طور پر اس بیرونی فرقہ وارانہ بیانیے کی توثیق کرتی ہیں جو مسلمانوں کو ایک دوسر ۱۱ قرار دیتا ہے. جن کی وفاداریاں اور ثقافتی وابستگیاں کہیں اور سمجھی جاتی ہیں۔
سخت گیری اکثر خود اسلامی فقہ کی اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتی ہے کہ اس نے تاریخی طور پر زمان (وقت) اور مکان (جگہ) کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ ہندوستانی اسلام کے علماء جن میں ابوالکلام آزاد بھی شامل ہیں، اس بات کو سمجھتے تھے کہ دین کو اپنے ماحول کی مخصوص صورت حال سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، آزاد نے متحدہ قومیت کا جو تصور پیش کیا وہ محض ایک سیاسی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک فقهی و الهجائي مؤقف تھا۔ ان کا استدلال تھا کہ اسلام کا آفاقی پیغام ہندوستان کی تاریخی اور جغرافیائی حقیقتوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے، سیاق و سباق سے عاری لفظی تعبیر کی طرف جھکاؤ اس فکری ورثے سے انحراف کی نمائندگی کرتا ہے