• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Monday, February 16, 2026
Jammu Kashmir News Service | JKNS
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
Jammu Kashmir News Service | JKNS
No Result
View All Result
Home Article

سیاحتی مقامات کا تحفظ اور ماحولیاتی آلودگی

ارشید رسول by ارشید رسول
February 15, 2026
in Article, اردو خبریں
A A
FacebookTwitterWhatsapp

قارئین سیاحت کو عموماً تہذیبوں، معیشتوں اور قدرتی مناظر کے درمیان ایک پل قرار دیا جاتا ہے۔ یہ لوگوں کو نئی ثقافتوں سے روشناس کراتی، قدرت کے قریب لاتی اور لاکھوں افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگر ہم وادی کشمیر کی بات کریں تو یہ خطہ بھی سیاحت کے لحاظ سے کافی اہمیت کا حامل ہے اور اپنی قدرتی خوبصورتی وجہ سے دنیا بھر کے سیلانیوں کےلئے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔

مگر جہاں ماحول نہایت حساس اور کمزور ہو، وہاں یہی سیاحت خاموشی سے نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ پہاڑی سلسلے، مرجانی چٹانیں، صحرا، دلدلی علاقے اور قطبی خطے ایسے ماحولیاتی نظام ہیں جو معمولی دباؤ بھی مشکل سے برداشت کرتے ہیں۔ ان مقامات پر لطف اندوزی اور تباہی کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ جاتا ہے۔ اسی لیے پائیدار سیاحت کا تصور محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن جاتا ہے۔نازک ماحولیاتی نظام وہ ہوتے ہیں جہاں قدرتی توازن ذرا سی مداخلت سے بگڑ سکتا ہے۔ یہاں کی مٹی آہستہ بحال ہوتی ہے، جنگلی حیات مخصوص رہائش گاہوں تک محدود ہوتی ہے اور پانی و نباتات جیسے وسائل پہلے ہی کم ہوتے ہیں۔ اگر سیاحتی سرگرمیاں بے قابو ہو جائیں تو چند مہینوں میں وہ نقصان ہو سکتا ہے جس کی تلافی میں برسوں لگیں۔ جب بغیر منصوبہ بندی کے بڑی تعداد میں لوگ کسی مقام پر پہنچتے ہیں تو پہاڑی راستے چوڑے زخموں میں بدل جاتے ہیں، دریاؤں کے کنارے کچرے سے بھر جاتے ہیں، جنگلی جانور اپنے محفوظ مسکن چھوڑ دیتے ہیں اور مقامی آبادی بھیڑ اور دباؤ کا بوجھ محسوس کرنے لگتی ہے۔ ابتدا میں معاشی فائدہ نظر آتا ہے، مگر رفتہ رفتہ ماحولیاتی اور سماجی مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔

کشمیر جیسے پہاڑی خطے اس کشمکش کی واضح مثال پیش کرتے ہیں۔ بلند مقامات کی ٹھنڈی آب و ہوا اور دلکش مناظر سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، لیکن اکثر وہاں بنیادی ڈھانچہ محدود ہوتا ہے۔ جنگلات کو کاٹ کر سڑکیں بنائی جاتی ہیں، ڈھلوانوں پر ہوٹل تعمیر ہوتے ہیں جو لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں، اور کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانا ایک سنگین مسئلہ بن جاتا ہے۔ پلاسٹک کی بوتلیں اور پیکنگ کا سامان وادیوں اور ندی نالوں میں برسوں تک پڑا رہتا ہے۔ دیہات کے لیے مخصوص پانی کے ذرائع سیاحتی رہائش گاہوں کی ضروریات پوری کرنے میں صرف ہونے لگتے ہیں۔ یوں وہ حسن جو لوگوں کو اپنی جانب کھینچتا تھا، آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگتا ہے۔قارئین کو پتہ ہوگا کہ وادی کشمیر کے سیاحتی مقامات خاص کر دور دراز علاقوں میں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کےلئے کوئی موثر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں جگہ جگہ پالتھین اور ڈسپوزل اشیا بکھری ملتی ہے ۔

جہاں کشمیری جیسے بالائی علاقوں میں قدرتی حسن کو کوڑا کرکٹ کی نذر کیاجاتا ہے وہیں سمندری اور ساحلی علاقوں کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ مرجانی چٹانیں، مینگرووز اور ریتیلے ساحل حیاتیاتی تنوع کے خزانے ہیں، مگر بے حد حساس بھی ہیں۔ کشتیاں، غوطہ خوری اور ساحلی ریزورٹس کی تعمیر سمندری حیات کو متاثر کرتی ہے۔ لاپروائی سے لنگر ڈالنے یا چٹانوں پر قدم رکھنے سے مرجان ٹوٹ جاتے ہیں۔ ہوٹلوں کا گندا پانی سمندر میں شامل ہو کر آبی معیار کو خراب کرتا ہے اور مچھلیوں کی افزائش متاثر ہوتی ہے۔ جب سمندری حیات کم ہوتی ہے تو ماہی گیر برادریوں کی معیشت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ یوں خوشحالی کی امید رکھنے والی سیاحت بسا اوقات بگاڑ کا سبب بن جاتی ہے۔پائیدار سیاحت اس رجحان کو بدلنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ آج کی ضروریات پوری کرتے ہوئے آنے والی نسلوں کے حق پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ اس کے لیے طویل المدت منصوبہ بندی، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ حکومتیں، کاروباری ادارے، مقامی آبادی اور سیاح سب کو مشترکہ مقصد کے تحت کام کرنا ہوتا ہے تاکہ ترقی اور تحفظ ساتھ ساتھ چل سکیں۔

اس ضمن میں ایک اہم تصور ’’برداشت کی حد‘‘ ہے، یعنی کسی مقام پر اتنے ہی افراد کو آنے کی اجازت دینا جتنے ماحول برداشت کر سکے۔ جب تعداد حد سے بڑھ جائے تو بگاڑ شروع ہو جاتا ہے۔ اجازت ناموں، مقررہ اوقات اور موسمی بندش جیسے اقدامات کے ذریعے دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی قومی پارکس اسی طرز کی پابندیاں نافذ کر چکے ہیں۔ بظاہر یہ قدغنیں ناگوار محسوس ہو سکتی ہیں، مگر درحقیقت یہی قدرتی حسن کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔ماحول دوست بنیادی ڈھانچے کی تعمیر بھی ناگزیر ہے۔ حساس علاقوں میں بننے والے ہوٹل اور رہائش گاہیں فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوں، نہ کہ اس پر حاوی۔ مقامی تعمیراتی مواد کا استعمال، کم سے کم زمین کی صفائی اور توانائی بچانے والے ڈیزائن ماحولیاتی اثرات کم کرتے ہیں۔ شمسی توانائی جیسے متبادل ذرائع آلودگی کو گھٹاتے ہیں، جبکہ بارش کے پانی کا ذخیرہ اور جدید فضلہ صفائی نظام وسائل پر دباؤ کم کرتے ہیں۔ جب تعمیرات ماحول کا احترام کریں تو وہ اس کا حصہ بن جاتی ہیں، بوجھ نہیں۔مقامی برادریوں کی شمولیت پائیدار سیاحت کی روح ہے۔ جنگلات، دریاؤں اور جنگلی حیات کے بارے میں ان کا روایتی علم قیمتی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اگر انہیں محض خدمت گار سمجھ کر نظرانداز کیا جائے تو ناہمواری اور ناراضی جنم لے سکتی ہے۔ اس کے برعکس جب وہ فیصلہ سازی میں شریک ہوں اور فوائد میں حصہ دار بنیں تو وہ خود تحفظ کے نگہبان بن جاتے ہیں۔ ہوم اسٹے، مقامی رہنمائی اور دستکاریوں کی ترویج نہ صرف ثقافتی تجربے کو مستند بناتی ہے بلکہ آمدنی کو بھی کمیونٹی کے اندر رکھتی ہے۔تعلیم اور آگاہی بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ اکثر نقصان لاعلمی سے ہوتا ہے۔ کوڑا پھینک دینا، تصویروں کے لیے جانوروں کو پریشان کرنا یا پانی کا اسراف معمولی باتیں لگتی ہیں مگر اثرات سنگین ہوتے ہیں۔ واضح ہدایات، معلوماتی بورڈ اور آگاہی مہمات ذمہ دارانہ رویے کو فروغ دیتی ہیں۔ جب سیاح سمجھتے ہیں کہ ان کے فیصلے اہم ہیں تو وہ زیادہ محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں۔مؤثر پالیسی اور نگرانی اس پورے نظام کی بنیاد ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات، جنگلات کی کٹائی اور آلودگی کے خلاف سخت قوانین ضروری ہیں۔ بڑے منصوبوں کے لیے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لازمی ہونا چاہیے اور حاصل ہونے والی آمدنی کا حصہ تحفظ اور بنیادی سہولیات پر خرچ ہونا چاہیے۔ اگر نگرانی کمزور ہو تو تجارتی مفادات ماحول پر غالب آ سکتے ہیں۔ٹیکنالوجی بھی اس سمت میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے سیاحوں کی تعداد کو منظم کیا جا سکتا ہے، ری سائیکلنگ کے عمل کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور برقی گاڑیوں جیسی سہولیات سے اخراج کم کیا جا سکتا ہے۔ درست رہنمائی کے ساتھ جدت ماحول دوست سیاحت کو فروغ دے سکتی ہے۔بالآخر ذمہ داری صرف اداروں پر نہیں بلکہ ہر مسافر پر عائد ہوتی ہے۔ ماحول دوست رہائش کا انتخاب، یک بار استعمال ہونے والی اشیا سے پرہیز، مقامی ثقافت کا احترام اور مقامی کاروبار کی حمایت ایسے اقدامات ہیں جو بڑا فرق ڈال سکتے ہیں۔ سفر کا مقصد کسی مقام کو استعمال کرنا نہیں بلکہ اس کا احترام کے ساتھ تجربہ کرنا ہونا چاہیے۔پائیدار سیاحت کے فوائد محض ماحولیاتی تحفظ تک محدود نہیں۔ یہ ثقافتی تبادلے کو فروغ دیتی، مقامی معیشت کو مضبوط کرتی اور موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں معاشروں کو زیادہ مضبوط بناتی ہے۔ جب کمیونٹیز کو صحت مند ماحول سے فائدہ ملتا ہے تو وہ اس کی حفاظت میں مزید سنجیدہ ہو جاتی ہیں۔ یوں پائیداری اخلاقی ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر بھی دانشمندانہ انتخاب ثابت ہوتی ہے۔آج جب دنیا بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور وسائل کی قلت کا سامنا کر رہی ہے، تو حساس ماحولیاتی نظام بے سوچے سمجھے فروغ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ مستقبل کی سیاحت کو محض تعداد اور منافع سے آگے بڑھ کر معیار، تحفظ اور مقامی فلاح کو ترجیح دینا ہوگی۔درحقیقت پائیدار سیاحت توازن کا نام ہے۔ یہ تسلیم کرتی ہے کہ انسان اور فطرت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ خوشحالی تبھی ممکن ہے جب تباہی سے گریز کیا جائے۔ حدود کا احترام، جدت کا درست استعمال اور مقامی آبادی کو بااختیار بنانا وہ راستہ ہے جس سے سیاحت ایک مثبت قوت بن سکتی ہے۔ خاموش پہاڑوں، شفاف ساحلوں اور سرسبز جنگلات کی فضا میں ایک ہی پیغام گونجتا ہے: یہ مقامات محض تفریح گاہیں نہیں بلکہ زندگی کو سہارا دینے والے نظام ہیں۔ ان کا تحفظ انتخاب نہیں، ذمہ داری ہے۔ پائیدار سیاحت وہ راستہ دکھاتی ہے جہاں سیاحت اور تحفظ ایک ساتھ قدم بڑھاتے ہیں، تاکہ زمین کی خوبصورتی آنے والی نسلوں تک سلامت پہنچ سکے۔

 

 

Previous Post

Shaan-e-Varmul 2.0: Indian Army Honours 20 Unsung Heroes of Baramulla in Grand Civic Tribute

Next Post

پاکستان میں مذہب کے نام پر تشدد ایک المیہ

ارشید رسول

ارشید رسول

Next Post

پاکستان میں مذہب کے نام پر تشدد ایک المیہ

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.