تقارئین ہندوستان اورپاکستان ایک ساتھ وجود میں آئے البتہ ہندوستان آج دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن رہا ہے اور اگلے بیس برسوں کے دوران ’’ویشوگرو‘‘ بننے جارہاہے جبکہ پاکستان آج سے پچاس برس پہلے جہاں تھا آج بھی وہی ہیں اور معاشی لحاظ سے پیچھے ہی جارہا ہے ۔ قارئین 1947 میں دو قومی نظریے کے نام پر شروع ہونے والا تجربہ آج ایک ایسے انجام تک پہنچ چکا ہے جہاں پاکستان نہ قوم کی صورت میں کھڑا ہے اور نہ جمہوریت کی شکل میں، بلکہ ایک مذہبی پناہ گاہ کی مانند ہے جس میں شدت پسندی کو ریاستی پالیسی بنا دیا گیا ہے۔ بھارت نے ترقی، سائنس اور خلا کی دنیا میں قدم بڑھایا، جبکہ پاکستان نے مذہب کو سیاسی ہتھیار بنا کر اپنے عوام کو صدیوں پرانے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ یہ زوال حادثاتی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا، جسے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اس وقت اختیار کیا جب اسے اندازہ ہوا کہ وہ ترقی، سیکولرزم پر بھارت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور نے اس رجحان کو قانونی اور ادارہ جاتی شکل دی۔ حدود آرڈیننس اور توہینِ رسالت کے قوانین نے ریاست کو اپنے ہی شہریوں کا سب سے بڑا دشمن بنا دیا۔ اسی دور میں جہاد انڈسٹری نے جنم لیا، جہاں عسکریت پسندوں کو تربیت دے کر بھارت اور افغانستان کے خلاف استعمال کیا گیا۔ لیکن یہ پالیسی جلد ہی اپنے ہی خالقین کے خلاف پلٹ گئی، اور وہی گروہ جو راولپنڈی کی گود میں پروان چڑھے تھے، آج ریاست کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئے ہیں۔ پاکستان نے جس بندوق کلچر کو جنم دیا آج وہی بندوق اس کے گلے کی ہڑی بن کے رہ گیا ہے ۔ پاکستان میں مذہب کے اس ہتھیار کا سب سے خوفناک مظہر توہینِ رسالت کا قانون ہے، جس کے تحت ایک الزام ہی کسی کی زندگی ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ آسیہ بی بی اور مشال خان جیسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ معاشرہ کس طرح انتہا پسندی کا شکار ہو چکا ہے۔ جب ایک طالب علم کو اس کے اپنے ساتھی یونیورسٹی میں قتل کر دیتے ہیں، تو یہ علم و اخلاق کی مکمل شکست ہے۔ تحریک لبیک جیسے گروہ اس انتہا پسندی کو مزید تقویت دیتے ہیں، اور ریاست ان کے سامنے بے بس ہو کر عدالتی فیصلے تک بدل دیتی ہے۔ اقلیتوں کے لیے یہ زمین مزید تنگ ہو چکی ہے۔ احمدیہ برادری کو قانونی طور پر مذہب کی آزادی سے محروم کر دیا گیا ہے، جبکہ ہندو اور مسیحی بچیوں کو اغوا کر کے زبردستی شادیوں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ پاکستان جو کبھی اقلیتوں کے تحفظ کا وعدہ کرتا تھا، آج اقلیتیوں کےلئے قبرستان بن چکا ہے۔
ایک طرف اگر ہم دیکھیں کہ ہندوستان میں جمہوری طرز زندگی پنپ رہی ہے اور تعلیم مساوی اور جمہوری اقدار پر مبنی ہے ۔ وہیں پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں بھی مذہب کو ہتھیار بنا دیا گیا ہے۔ نصابِ تعلیم میں نفرت اور جہاد کی تمجید نے نئی نسل کو انتہا پسندی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ بچے سچائی اور اخلاق کو صرف مسلمانوں کی خصوصیت سمجھتے ہیں، جبکہ غیر مسلموں کو دشمن کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ اس ذہنی آلودگی نے تنقیدی سوچ کو ختم کر دیا ہے اور نوجوانوں کو عسکریت پسند تنظیموں کے لیے آسان شکار بنا دیا ہے۔ معاشی طور پر بھی یہ مذہبی جنون پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لے آیا ہے۔ احتجاجوں سے معیشت کا پہیہ رکتا ہے، سرمایہ کار بھاگ جاتے ہیں، اور ملک بار بار آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ عالمی برادری اب پاکستان کو دہشت گردی کے مرکز کے طور پر دیکھتی ہے، اور دہشت گردی کا لقب محض طنز نہیں بلکہ حقیقت بن چکا ہے۔ پاکستان کی یہ کہانی دنیا کے لیے ایک سبق ہے کہ جب ریاست مذہب کو اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کرتی ہے، تو وہ نہ زیادہ مذہبی بنتی ہے اور نہ محفوظ، بلکہ ایک کمزور اور تنہا ملک میں بدل جاتی ہے۔ بھارت کی جمہوری اور کثیرالثقافتی کامیابی پاکستان کے دو قومی نظریے کو عملی طور پر رد کرتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ مذہب کے نام پر جنگی جنون کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ آگ جو پڑوسی کو جلانے کے لیے بھڑکائی گئی تھی، اب خود پاکستان کے دروازے پر پہنچ چکی ہے۔ دنیا کو چاہیے کہ اس ریاست کو اس کے اعمال کے لیے جواب دہ ٹھہرائے، ورنہ یہ خود ساختہ مذہبی انتہا پسندی نہ صرف پاکستان کو بلکہ پورے خطے کو ایک بڑے المیے کی طرف دھکیل سکتی ہے۔