قارئین وادی کشمیر کئی دہائیوں تک نامساعد حالات کی شکار رہی ہے اور سیاسی خلفشاری ، تاریک دنوں اور دیگر مسائل کی وجہ سے ذرائع ابلاغ کی نظروں میں رہی ہے یہاں تک کہ ترقی کی داستان طویل عرصے تک سڑکوں، پلوں، سرکاری منصوبوں اور سیاسی مباحث کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اخبارات اور تقریروں میں ترقی کا ذکر عموماً بڑے منصوبوں اور اعلانات کے حوالے سے کیا جاتا رہا، مگر اسی دوران خاموشی سے ایک اور انقلاب جنم لیتا رہا۔ یہ تبدیلی کسی بڑے ٹھیکے یا سرکاری فرمان کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اُن خواتین کی مسلسل جدوجہد کا ثمر ہے جنہوں نے اپنے گھروں، دیہات اور مقامی معیشت کو اپنے حوصلے اور باہمی تعاون سے نئی شکل دی۔ آج کشمیر کے دور دراز علاقوں سے لے کر شہری مراکز تک خواتین کی قیادت میں ترقی کے ایسے نمونے سامنے آ رہے ہیں جو استقامت، اشتراک اور سماجی اعتماد پر مبنی ایک مضبوط خاکہ پیش کرتے ہیں۔یہاں خواتین نے جہاں ہر دور میں ظلم و ستم اور زیادتی کو سہا ہے وہیں اس صنف نازک نے ہر دورمیں ہمت اور حوصلے کی مثال بھی پیش کی ہے ۔ کشمیر کی معاشرتی ساخت میں عورت کا کردار ہمیشہ بنیادی رہا ہے۔ کھیتوں کی دیکھ بھال، باغات کی نگہداشت، مویشی پالنا، گھریلو بجٹ سنبھالنا اور بچوں کی پرورش—یہ سب ذمہ داریاں طویل عرصے تک خواتین کے کندھوں پر رہیں، مگر ان کی محنت کو اکثر رسمی اعتراف نہ مل سکا۔ حالیہ برسوں میں یہی خاموش طاقت گھر کی چار دیواری سے نکل کر سماجی اور معاشی میدان میں قدم رکھ چکی ہے۔ اب خواتین محض فلاحی منصوبوں کی مستفید نہیں رہیں بلکہ منصوبہ ساز، کاروباری شخصیت اور فیصلہ ساز کے طور پر ابھر رہی ہیں۔ یوں ترقی کا تصور انحصار سے نکل کر خود مختاری کی طرف بڑھ رہا ہے۔
قارئین شہری علاقوں کی خواتین نے جہاںہر شعبے کو اپنا کر اپنے روشن مستقبل کی راہ سنوار لی وہیں ، دیہی کشمیر میں سیلف ہیلپ گروپس کا پھیلاؤ اس تبدیلی کی نمایاں مثال ہے۔ جن دیہات میں روزگار کا انحصار صرف موسمی زراعت یا بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم پر تھا، وہاں خواتین نے مل بیٹھ کر معمولی بچت سے اجتماعی فنڈ قائم کیے۔ بظاہر چھوٹی سی بچت نے باہمی تعاون کا مضبوط نظام تشکیل دیا۔ انہی رقوم سے سلائی مراکز، ڈیری فارمز، پولٹری یونٹس، مصالحہ جات کی تیاری، فوڈ پروسیسنگ اور دستکاری کے چھوٹے کاروبار شروع ہوئے۔ اگرچہ آمدنی بہت زیادہ نہیں، مگر تسلسل اور پائیداری نے انہیں باوقار معاشی خود مختاری عطا کی۔جب ایک گاؤں میں درجنوں خواتین سرگرم معاشی کردار ادا کرنے لگیں تو اثرات بھی وسیع ہوتے ہیں۔ گھریلو آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے، بچوں کی تعلیم اور صحت پر زیادہ خرچ ممکن ہوتا ہے، اور مقامی منڈیاں متحرک ہو جاتی ہیں۔ ترقی پھر کسی سرکاری اصطلاح کی بجائے روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔دستکاری کا شعبہ اس پیش رفت کی ایک اور روشن مثال ہے۔ کشمیر کی پہچان اس کی نفیس کشیدہ کاری، قالین بافی اور پیپر ماشی سے ہے۔ ماضی میں یہ کام گھروں کے اندر خواتین انجام دیتی تھیں جبکہ منافع زیادہ تر درمیانی افراد لے جاتے تھے۔ اب بہت سی خواتین نے کوآپریٹو تنظیمیں بنا کر اس استحصالی نظام کو چیلنج کیا ہے۔ نمائشوں، آن لائن پلیٹ فارمز اور سرکاری میلوں کے ذریعے براہِ راست فروخت نے نہ صرف آمدنی بہتر کی بلکہ روایتی ہنر کو نئی زندگی بھی بخشی۔
تعلیم نے اس سفر میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں کشمیر میں لڑکیوں کی تعلیمی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تعلیم یافتہ خواتین حساب کتاب، مارکیٹ کی ضروریات اور سرکاری امور کو بہتر انداز میں سمجھتی ہیں۔ وہ نامیاتی کاشتکاری، جدید پیکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگی جیسے رجحانات کو اپناتے ہوئے روایت اور جدت میں توازن پیدا کر رہی ہیں۔یہ پیش رفت صرف معاشی دائرے تک محدود نہیں۔ کئی دیہات میں خواتین کے گروپس صفائی مہمات، صحت آگاہی اور بچیوں کی تعلیم کے فروغ میں سرگرم ہیں۔ چونکہ یہ اقدامات مقامی سطح سے اٹھتے ہیں، اس لیے ان کا اثر بھی زیادہ دیرپا ہوتا ہے۔طویل تنازعات اور غیر یقینی حالات سے گزرنے والے خطے میں یہ لچک اور خود انحصاری مزید اہم ہو جاتی ہے۔ جب بڑے کاروبار متاثر ہوتے ہیں تو گھریلو سطح کے چھوٹے یونٹس نسبتاً کم وسائل میں بھی جاری رہتے ہیں۔ یہی خصوصیت انہیں زیادہ مضبوط بناتی ہے۔اگرچہ راستے میں مشکلات موجود ہیں—بڑی منڈیوں تک رسائی، ڈیجیٹل مہارت، سماجی رویے اور مالی سہولیات—مگر اب تک کی پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ رکاوٹیں ناقابلِ عبور نہیں۔خواتین کی قیادت میں ہونے والی یہ ترقی اپنی فطرت میں انسانی اور ہمہ گیر ہے۔ خواتین اپنی آمدنی کو تعلیم، صحت اور غذائیت پر خرچ کرتی ہیں، یوں فائدہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتا ہے۔ ترقی محض معاشی نہیں رہتی بلکہ سماجی استحکام کا ذریعہ بن جاتی ہے۔کشمیر کا تجربہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ پائیدار تبدیلی اکثر نچلی سطح سے جنم لیتی ہے۔ بڑے منصوبے سرخیاں ضرور بنتے ہیں، مگر حقیقی انقلاب تب آتا ہے جب عام لوگ اپنی تقدیر خود سنبھالتے ہیں۔ وادی کی خواتین نے ثابت کیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود اجتماعی عزم سے مضبوط اور خوشحال معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔آج جب کشمیر استحکام اور خوشحالی کی نئی سمتوں کی تلاش میں ہے تو خواتین کی قیادت میں یہ ماڈلز امید کی روشن کرن ہیں۔ یہ محض نعرہ نہیں بلکہ عملی حکمتِ عملی ہیں جو خاندانوں کو مضبوط، معیشت کو متحرک اور سماج کو ہم آہنگ بناتی ہیں۔ کھیتوں، گھروں اور بازاروں میں سرگرم یہ خواتین دراصل ترقی کے مفہوم کو ازسرِ نو متعین کر رہی ہیں—ایسی ترقی جو وقار، اعتماد اور اشتراک سے جنم لیتی ہے اور جس کی جڑیں انہی کے مضبوط ہاتھوں میں پیوست ہیں۔کشمیری خواتین ہر شعبے میں اپنی بہترین کارکردگی کامظاہرہ کرتے ہوئے ایک نئی داستان رقم کررہی ہیں۔
