ارئین ہر کسی مذہب کی تعلیمات امن ، محبت ، اخوت اور بھائی چارے پر مبنی ہے ۔ کوئی بھی مذہب ہو اس کے اصل پیروکاروں اور رہبروں نے اپنے ماننے والوں اور مقلدین کو کبھی بھی تشدد اور انسانیت کے خلاف کسی قسم کے جرم کی اجازت نہیں دی ہے اور ناہی مذہب کے نام پر خون خرابہ کا درس دیا گیا ہے بلکہ مذاہب دنیا میں امن اور اخوت کا پیغام دیتے ہیں ۔ وادی کشمیر کی سرزمین کو ہمیشہ روحانیت کی آماجگاہ کہا گیا ہے۔ یہاں مذہب صرف عبادت تک محدود نہیں رہا بلکہ روزمرہ زندگی، سماجی تعلقات اور اجتماعی شعور کا حصہ بن کر پروان چڑھا ہے۔ وادی کی شناخت محض جغرافیہ یا سیاست سے نہیں بنی، بلکہ خانقاہوں، مساجد، مندروں، درگاہوں اور روحانی مراکز نے اس کے سماجی ڈھانچے کو تشکیل دیا۔ جدید ریاستی اداروں کے وجود سے بہت پہلے یہی مذہبی مراکز عوام کے لیے اخلاقی رہنمائی، فلاحی امداد، تعلیم اور تنازعات کے حل کا ذریعہ تھے۔قارئین وادی کشمیر میں مذہبی رواداری کا دور دورہ رہا ہے جس کی وجہ سے صدیوں تک کشمیر کی تہذیبی روح کو “کشمیر یت” کے نام سے جانا گیا، جو برداشت، ہمدردی اور بقائے باہمی کے اصولوں پر استوار تھی۔ اس فکر کی آبیاری میں مذہبی اداروں اور روحانی شخصیات نے بنیادی کردار ادا کیا۔ آج بھی، دہائیوں پر محیط تنازعات اور بداعتمادی کے باوجود، یہی ادارے معاشرے میں سب سے زیادہ قابلِ اعتماد سمجھے جاتے ہیں۔ اگر خطے میں پائیدار امن کی بات کی جائے تو ان اداروں کے کردار کو سمجھنا ناگزیر ہے، کیونکہ امن محض نافذ نہیں کیا جاتا بلکہ سماجی قبولیت کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔کشمیر کی مذہبی روایت تصادم کے بجائے تدریجی امتزاج کا نتیجہ ہے۔ بدھ مت، شیو مت اور اسلام نے اس خطے میں باہمی اثر و رسوخ کے ذریعے ایک ایسی تہذیبی ہم آہنگی کو جنم دیا جس نے رِشی اور صوفی روایت کی بنیاد رکھی۔ اسی روایت کے نمایاں نمائندہ شیخ نور الدین نورانی، جنہیں نند رِشی بھی کہا جاتا ہے، نے خدمتِ خلق، سادگی اور انسان دوستی کا پیغام عام کیا۔ ان سے منسوب مزار چرارِ شریف آج بھی روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے جہاں مختلف طبقات کے لوگ یکساں عقیدت کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔شیخ العالم شیخ نورالدین ولیؒ نے صوفیت اور تصوف کا جو تصور اپنے اشعار میں پیش کیا ہے اس میں خالص بھائی چارہ اور امن کا پیغام ہے ۔ صوفی خانقاہیں صرف عبادت گاہیں نہیں تھیں بلکہ سماجی مکالمے کے مراکز بھی تھیں۔ یہاں غربت، باہمی جھگڑوں اور اخلاقی رہنمائی جیسے معاملات پر بات ہوتی تھی۔ دیہاتی اکثر حکمرانوں کے مقابلے میں روحانی بزرگوں پر زیادہ اعتماد کرتے تھے۔ یہی اخلاقی اثر و رسوخ معاشرتی کشیدگی کو کم کرنے اور باہمی مصالحت کو ممکن بنانے میں معاون ثابت ہوا۔ موجودہ دور میں بھی صوفی مراکز کو مضبوط کرنا اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ ان کی تعلیمات شمولیت اور ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں۔
یہاں اس بات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وادی کشمیر میں شہر و دیہات میں ہر جگہ کسی نہ کسی صوفی بزرگ کا مزار ہے جن سے لوگوں کا عقیدہ جڑا ہوا ہے اوروادی کی یہ درگاہیں سماجی استحکام کا ذریعہ رہی ہیں۔ سرینگر کی معروف درگاہ دستگیر صاحب درگاہ تاریخی طور پر سماجی و مذہبی سرگرمیوں کا مرکز رہی ہے۔ ایسے مقامات پر لنگر کا اہتمام، مسافروں کے لیے پناہ، مذہبی تعلیم اور کمیونٹی سطح پر ثالثی جیسے کام انجام
دیے جاتے رہے ہیں۔ کشیدگی کے ادوار میں لوگ یہاں سکون اور ذہنی اطمینان کی تلاش میں جمع ہوتے ہیں۔ سیاسی اجتماعات بعض اوقات تقسیم پیدا کرتے ہیں، مگر مذہبی میلوں اور عرس کی تقریبات نے اکثر سماجی فاصلے کم کیے ہیں۔اسی طرح جہاں مساجد عبادت کےلئے مختص ہیں جہاں پر نماز پنجگانہ کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کا عمل جاری رہتا ہے وہیں مساجد نے بھی ہمیشہ سماجی رابطے کا کردار ادا کیا ہے۔ خطبات عوامی رائے پر فوری اثر ڈالتے ہیں۔ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد سرینگر کے منبر سے متعدد مواقع پر بھائی چارے اور پرامن حل کی تلقین کی گئی۔ چونکہ علماءکو عموماً اخلاقی رہنما سمجھا جاتا ہے، اس لیے ان کی اپیلیں عوام میں وزن رکھتی ہیں۔ محرم یا دیگر حساس مواقع پر مختلف مکاتب فکر کے رہنماو ¿ں کا مشترکہ پیغام کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
قارئین انیسویں اور بیسویں صدی کے سیاسی ہنگاموں کے بعد 1990 کی دہائی میں کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی ایک بڑا سانحہ تھا۔ اس خلیج کو پاٹنے کے لیے سیاسی معاہدوں سے زیادہ سماجی اعتماد درکار ہے۔ اسی تناظر میں بعض مذہبی رہنماو ¿ں نے پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرواعظ عمر فاروق کی قیادت میں بین المذاہب رابطوں کی کوششیں اس سمت ایک قدم سمجھی جاتی ہیں۔ سرینگر میں مسلمانوں اور پنڈتوں کا مشترکہ اجتماع ماضی کی مشترکہ ثقافت کی یاد تازہ کرنے کی علامت بنا۔کئی سیاسی لیڈران اور مذہبی لیڈران نے بھی کشمیری پنڈتوں کی پُرامن وطن واپسی پر زور دیا ہے اور کئی طرح کی کوششیں انجام دیں ہیں۔ موجودہ دور میں مذہبی ادارے صرف وعظ تک محدود نہیں رہے بلکہ منظم امن سازی کی سرگرمیوں میں بھی شریک ہیں۔ بین المذاہب مکالمے، نوجوانوں کے لیے تعلیمی پروگرام اور رواداری پر مبنی نصاب اس کی مثالیں ہیں۔ نوجوانوں میں احساسِ محرومی اکثر نظریاتی شکل اختیار کر لیتا ہے، ایسے میں مثبت مذہبی رہنمائی انتہا پسند بیانیوں کا توڑ بن سکتی ہے۔ جب مذہب کو مقامی ثقافت، شاعری اور اخلاقیات کے ساتھ جوڑا جائے تو وہ شدت پسندی کے خلاف ایک مضبوط حصار بن جاتا ہے۔اقلیتوں کے مذہبی اداروں کا تحفظ بھی امن کی علامت ہے۔ دھرمارتھ ٹرسٹ کی جانب سے مندروں اور فلاحی سرگرمیوں کا انتظام خطے میں معمول کی زندگی اور بقائے باہمی کا پیغام دیتا ہے۔ کسی معاشرے میں جب مسجد، مندر اور درگاہ ساتھ ساتھ فعال ہوں تو یہ منظر خود امن کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔فلاحی خدمات مذہبی اداروں کا ایک اور اہم پہلو ہیں۔ زکوٰة، صدقات، خوراک کی فراہمی، تعلیم اور قدرتی آفات کے دوران امداد جیسے اقدامات معاشی محرومی کو کم کرتے ہیں۔ چونکہ غربت اور بے بسی اکثر تشدد کو جنم دیتی ہے، اس لیے فلاحی سرگرمیاں بالواسطہ طور پر امن کے قیام میں کردار ادا کرتی ہیں۔ ریاست قانون نافذ کرتی ہے، مگر مذہبی ادارے ضمیر کو متاثر کرتے ہیں۔ قانونی خوف عارضی اطاعت پیدا کرتا ہے، جبکہ اخلاقی یقین دیرپا قبولیت۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مذہبی پلیٹ فارم ہمیشہ مثبت اثرات کے حامل نہیں ہوتے۔ اگر انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے یا تعصبات کو ہوا دی جائے تو یہی ادارے کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ مسئلہ مذہب کا نہیں بلکہ اس کی تعبیر کا ہے۔ جب تعبیر ہمدردی اور احترام پر مبنی ہو تو امن کو تقویت ملتی ہے، اور جب اسے شناختی سیاست کا ہتھیار بنایا جائے تو تقسیم بڑھتی ہے۔کشمیر میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ مذہبی اداروں کو منظم امن عمل کا حصہ بنایا جائے۔ ضلعی سطح پر بین المذاہب کونسلوں کا قیام، مشترکہ ثقافتی تقریبات، مدارس میں امن کی تعلیم، مذہبی رہنماو ¿ں کی تنازعات کے حل کی تربیت اور مشترکہ ورثے کی بحالی جیسے اقدامات اس سمت مو ¿ثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
کشمیر کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ جب روحانیت نے معاشرے کی رہنمائی کی تو ہم آہنگی نے جنم لیا، اور جب سیاست نے شناخت کو ہتھیار بنایا تو فاصلے بڑھے۔ مذہبی ادارے یہاں صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ اخلاقی مراکز، سماجی مکالمے کی جگہیں اور عوامی اعتماد کا سرچشمہ ہیں۔ اگر انہیں ذمہ داری اور بصیرت کے ساتھ فعال رکھا جائے تو وہ مسلط کردہ نہیں بلکہ قبول شدہ امن کی بنیاد بن سکتے ہیں ، وہ امن جو خوف کی خاموشی نہیں بلکہ ایمان سے پیدا ہونے والی ہم آہنگی کا نام ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ وادی کشمیر میں جو کشمیریت کی روح ہے کو زندہ رکھنے کےلئے اقدامات کئے جائیں اور مذہبی رواداری کو مزید فروغ دینے کی کوششیں کی جائیں ۔