قارئین ہندوستان ایک امن پسند اور جمہوری ملک ہے جس نے ہمیشہ سے ہی امن ، بھائی چارے اور رواداری کو ترجیح دی ہے البتہ ملک کی سالمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔جدید ہندوستانی جمہوریہ کی تاریخ میں حالیہ برسوں کو ایک نمایاں موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں ریاست نے اپنی خودمختاری، وحدت اور آئینی ڈھانچے کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ ماضی میں بھارت کو اکثر ایک محتاط اور تحمل پسند ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، جو سخت ردعمل کے بجائے سفارتی اور سیاسی راستوں کو ترجیح دیتی تھی۔ تاہم موجودہ دور میں قومی سلامتی کے حوالے سے پالیسی میں واضح تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے، جس کے تحت دہشت گردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے خلاف سخت قانونی و انتظامی حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے۔ یہ تبدیلی محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ قانون سازی، ادارہ جاتی اصلاحات اور عدالتی عمل کے ذریعے عملی صورت اختیار کر چکی ہے۔موجودہ حکومت دفاعی صلاحیت اور ملکی سالمیت کےلئے جو اقدامات اُٹھارہی ہے اس سے پہلے اس طرح کے اقدامات نہیں اُٹھائے جاتے تھے ۔ بھارت میں نوآبادیاتی دور کے تعزیراتی قوانین سے ہٹ کر نئے قانونی ڈھانچے کی تشکیل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بھارتیہ نیایا سنہیتا جیسے قوانین کو اس پس منظر میں متعارف کرایا گیا کہ ریاستی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کو زیادہ واضح اور مو ¿ثر انداز میں یقینی بنایا جا سکے۔ بغاوت (سیڈیشن) جیسی مبہم اصطلاحات کی جگہ ایسی دفعات متعارف کرائی گئیں جن کا مقصد ریاست کی وحدت اور سالمیت کے خلاف سرگرمیوں کی واضح تعریف اور ان کے سدباب کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرنا ہے۔ اس تبدیلی کو حامی حلقے ایک جدید اور مضبوط قانونی فریم ورک کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ ناقدین اس کے ممکنہ اثرات پر بحث کرتے ہیں۔ بہرحال، یہ امر واضح ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات کو اب زیادہ منظم اور مربوط انداز میں نمٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔تحقیقی اور انسدادی اداروں کی فعالیت بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کو انسدادِ دہشت گردی کے مرکزی ادارے کے طور پر مضبوط کیا گیا ہے، اور بعض سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں میں اس کی جانب سے زیرِ سماعت مقدمات میں نمایاں شرحِ سزا حاصل کی گئی ہے۔ اس نوعیت کے دعوے ریاستی بیانیے کو تقویت دیتے ہیں کہ شواہد اکٹھا کرنے اور قانونی چارہ جوئی کے عمل کو زیادہ مو ¿ثر بنایا گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ریکارڈنگ اور مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے نظام کو بہتر بنانے کی کوششیں بھی اسی تناظر میں دیکھی جاتی ہیں، تاکہ قومی سلامتی سے متعلق خطرات کا بروقت سراغ لگایا جا سکے۔ریاستی حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو مالیاتی ذرائع کی نگرانی اور انسداد بھی ہے۔ غیر قانونی سرگرمیوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے )اور منی لانڈرنگ سے متعلق قوانین کے تحت اثاثوں کی ضبطی اور مالی ریکارڈ کی چھان بین جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔ سرکاری موقف یہ ہے کہ دہشت گردی یا تخریبی سرگرمیوں کا ڈھانچہ مالی معاونت کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتا، اس لیے اس کے معاشی پہلو کو ہدف بنانا ضروری ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت بعض علاقوں میں جائیدادوں کی ضبطی اور مشتبہ مالی لین دین کی تحقیقات عمل میں لائی گئی ہیں۔منی لانڈرنگ کے خلاف سرکار کی دو ٹوک پالیسی کے نتیجے میں ”دہشت گردی “فنڈنگ میں کمی ہوئی ہے اور ان افراد کے خلاف سخت کارروائی سے اس پر روک لگ چکی ہے ۔ اسی طرح خارجہ سطح پر بھی بھارت نے جو پالیسی اختیار کی ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت نے بعض مقدمات میں حوالگی ایکسٹریڈیشن کے ذریعے مطلوب افراد کو واپس لانے کی کوشش کی ہے۔ طویل قانونی کارروائیوں کے بعد بعض ملزمان کی حوالگی کو ریاستی عزم کی علامت قرار دیا گیا۔ اسی طرح مالی جرائم یا قومی سلامتی سے متعلق الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کے خلاف بیرونِ ملک مقدمات اور اپیلوں کو بھی بھارتی عدالتی نظام کے دائرہ کار کی توسیع کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ وقت یا سرحدیں قانونی احتساب میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔جہاں تک جموں کشمیر کی بات ہے تو جموں و کشمیر کے تناظر میں بعض نمایاں عدالتی فیصلوں کو بھی اسی پالیسی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ کچھ علیحدگی پسند رہنماو ¿ں کے خلاف مقدمات میں سزاو ¿ں اور ضمانت کی درخواستوں کے مسترد ہونے کو ریاستی ادارے قانون کی بالادستی کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ عدلیہ نے ان مقدمات میں قومی سلامتی اور انفرادی آزادی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے ایک طرف قانونی طریقہ کار کی پاسداری پر زور دیا ہے، تو دوسری جانب ایسے قوانین کی سخت دفعات کو بھی برقرار رکھا ہے جہاں بادی النظر میں الزامات سنگین نوعیت کے سمجھے گئے۔آج متعدد اعلیٰحدگی پسند لیڈران عدالتی کارروائی کا سامنا کررہے ہیں اور متعدد ہنوز پابند سلاسل ہیں ۔یہ پورا منظرنامہ ایک وسیع تر بحث کو جنم دیتا ہے کہ قومی سلامتی اور شہری آزادیوں کے درمیان حدِ فاصل کہاں قائم کی جائے۔ ریاست کا مو ¿قف یہ ہے کہ دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے خلاف سخت مو ¿قف جمہوریہ کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ دوسری طرف انسانی حقوق کے حلقے اس امر پر زور دیتے ہیں کہ قانون کا اطلاق شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ہونا چاہیے تاکہ بے گناہ افراد متاثر نہ ہوں۔ عدلیہ کا کردار اسی نازک توازن کو برقرار رکھنے میں کلیدی ہے۔بالآخر، ”انصاف کی ناگزیریت“ کا تصور ریاستی بیانیے میں ایک عزم کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ایک وعدہ کہ دہشت گردی کے متاثرین کو انصاف ملے گا اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ وعدہ قوانین کی اصلاح، ادارہ جاتی فعالیت اور سیاسی عزم کے ذریعے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم کسی بھی جمہوری معاشرے میں انصاف کی اصل طاقت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب وہ شفافیت، منصفانہ سماعت اور آئینی اصولوں کے تابع ہو۔ہندوستان کے حالیہ اقدامات کو اسی وسیع تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ایک طرف قومی سلامتی کے تحفظ کا عزم، اور دوسری طرف قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری۔ وقت کے ساتھ یہ توازن ہی طے کرے گا کہ انصاف کا نظام کس حد تک مو ¿ثر، منصفانہ اور پائیدار ثابت ہوتا ہے۔غرض موجودہ سرکار کی جانب سے جو ملکی سلامتی اور قیام امن کی خاطر اقدامات اُٹھائے ہیں اس کے نتائج ہم جموں کشمیر میں صاف دیکھ رہے ہیں جہاں پر نہ صرف امن قائم ہوا ہے بلکہ تعمیر و ترقی کا ایک نیا دور بھی شروع ہوچکا ہے ۔ قارئین یہ جبری امن نہیں ہے بلکہ یہ اُن اقدامات کا نتیجہ ہے جو مرکز نے اُٹھائے ہیں اور لوگوں نے بھی اس کو قبول کرلیا ہے ۔
