• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Thursday, February 19, 2026
Jammu Kashmir News Service | JKNS
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
Jammu Kashmir News Service | JKNS
No Result
View All Result
Home Article

بلوچستان ، ہراسانیاں اور عدالتی کردار

از:خضر محمد by از:خضر محمد
February 18, 2026
in Article, اردو خبریں
A A
FacebookTwitterWhatsapp

قارئین بلوچستان کو قدرت نے بہت سے وسائل سےنوازا ہے اور کئی طرح کی معدنیات نکلنے کے باوجود بھی اس خطے میں غربت ، بے روزگاری اور کمزور معیشت ہے ۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس خطے کو سرے سے ہی نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور ایک غلام خطہ تصور کرکے پاکستانی ادارے اس کے ساتھ استحصالی سلوک روا رکھے ہیں ۔ قارئین پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں بلوچستان ایک ایسا خطہ ہے جو تضادات کی علامت بن چکا ہے۔ رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ، قدرتی وسائل سے مالا مال، مگر ترقی اور سہولیات کے لحاظ سے سب سے پیچھے۔ اس کی زمین گیس، کوئلہ، تانبہ اور سونے کے ذخائر سے بھری ہوئی ہے، اس کا ساحل عالمی تجارت کے امکانات رکھتا ہے اور اس کی جغرافیائی حیثیت جنوبی ایشیا کو وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے جوڑتی ہے۔ لیکن اسی سرزمین کے بہت سے باشندے بنیادی صحت، تعلیم اور صاف پانی جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔ یہی عدم توازن برسوں سے حقوق، خودمختاری اور باوقار شناخت کی جدوجہد کو جنم دیتا آیا ہے۔ اس کشیدہ ماحول میں، جہاں سیاسی کشمکش، سیکیورٹی کارروائیاں اور لاپتہ افراد کے الزامات موجود رہے، عدلیہ کو اکثر انصاف کی آخری امید کے طور پر دیکھا گیا۔ تاہم اس کا کردار ہمیشہ سادہ یا یکساں نہیں رہا بلکہ پیچیدہ اور بعض اوقات متنازع بھی ثابت ہوا۔پاکستان کا آئین عدالتوں کو بنیادی حقوق کے تحفظ کا اختیار دیتا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتظامیہ اور ریاستی اداروں کو قانون کی حدود میں رہنے کا پابند بنائے۔ نظری طور پر یہ اختیار بلوچستان جیسے متاثرہ علاقوں کے شہریوں کو ایک قانونی راستہ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنے حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ، انسانی حقوق کے کارکن اور سماجی تنظیمیں بارہا عدالتوں سے رجوع کرتی رہی ہیں، اس امید کے ساتھ کہ عدلیہ دباؤ سے بالاتر ہو کر انصاف فراہم کرے گی۔بلوچستان کے تناظر میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ عدالتی کردار کا سب سے نمایاں پہلو بن کر سامنے آیا۔ برسوں سے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں افراد کے لاپتہ ہونے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ خاندانوں کے بیانات میں اچانک گرفتاریوں، نامعلوم گاڑیوں اور طویل خاموشی کی داستانیں شامل ہوتی ہیں۔ ایسے میں عدالت ہی وہ فورم بن جاتی ہے جہاں ان کی فریاد سنائی دے سکتی ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں کے نتیجے میں بعض اوقات حکام کو حراستی فہرستیں پیش کرنی پڑیں، وضاحتیں دینی پڑیں اور چند افراد کو رہا بھی کیا گیا۔کچھ ادوار میں عدلیہ نے فعال رویہ اختیار کیا۔ ازخود نوٹس لیے گئے، کوئٹہ میں سماعتیں ہوئیں اور کھلی عدالتوں میں اہلِ خانہ نے اپنے دکھ بیان کیے۔ بعض مواقع پر خفیہ اداروں کے نمائندوں کو طلب کر کے جواب دہی کا تقاضا کیا گیا۔ یہ لمحات غیر معمولی تھے کیونکہ انہوں نے بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے معاملات کو عوامی نگرانی کے دائرے میں لایا۔ اس سے یہ تاثر ابھرا کہ انسانی قیمت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔تاہم نتائج ہمیشہ توقعات کے مطابق نہ رہے۔ کچھ مقدمات میں پیش رفت ہوئی، مگر کئی فائلیں بدستور التوا کا شکار رہیں۔ عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا ایک مستقل مسئلہ رہا۔ اس خلا نے عدالتی فعالیت اور عملی نفاذ کے درمیان فاصلے کو واضح کیا۔ تاہم عدالتیں بھی قومی مفادات کی آڑ میں انصاف کو بالا ئے طاق رکھتے ہوئے معتصبانہ رویہ اختیار کرتی ہے اور اکثر فیصلہ جات حفاظتی اداروں کے حق میں ہوتے ہیں ۔ اس تعصبانہ عدالتی رویہ ہے بلوچستان کے عوام بھی دل برداشت ہوچکے ہیں ۔جب انتظامی اور سیکیورٹی اداروں کا تعاون محدود ہو تو عدالتی فیصلوں کی تاثیر بھی کم ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً عوامی اعتماد کبھی امید میں بدلتا ہے تو کبھی مایوسی میں۔عدلیہ کا کردار صرف جبری گمشدگیوں تک محدود نہیں رہا۔ وسائل کی تقسیم، رائلٹی اور ترقیاتی منصوبوں کے معاملات بھی عدالتوں تک پہنچتے رہے ہیں۔ بلوچستان کی ایک بڑی شکایت یہ ہے کہ اس کی قدرتی دولت سے حاصل ہونے والا فائدہ صوبے کے عوام تک مناسب انداز میں نہیں پہنچتا۔ بعض فیصلوں میں عدالتوں نے آئینی اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے منصفانہ تقسیم پر زور دیا اور صوبائی حقوق کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ ایسے فیصلوں کی علامتی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ وہ بلوچستان کو وفاق کا برابر کا شریک تسلیم کرتے ہیں، نہ کہ محض وسائل فراہم کرنے والا خطہ۔بڑے ترقیاتی منصوبے، جیسے گوادر بندرگاہ اور اقتصادی راہداری، امید اور خدشات دونوں کو جنم دیتے ہیں۔ ایک طرف معاشی تبدیلی کے دعوے ہیں، دوسری طرف مقامی آبادی میں بے دخلی اور آبادیاتی تبدیلی کے اندیشے۔ عدالتوں نے بعض مواقع پر معاوضے اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ہدایات جاری کیں، مگر شاذ و نادر ہی ان منصوبوں کے وسیع سیاسی تناظر کو چیلنج کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قومی معاشی بیانیہ اکثر مقامی رضامندی پر غالب آ جاتا ہے۔بلوچستان ہائی کورٹ، جو عوام کے قریب ترین عدالتی ادارہ ہے، بھی اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ زمین کے تنازعات، پولیس کی زیادتیوں اور انتظامی کوتاہیوں کے مقدمات میں اس نے مداخلت کی اور بعض اوقات تحقیقات کا حکم دیا۔ ان فیصلوں سے شہریوں کو جزوی ریلیف ضرور ملا، لیکن محدود وسائل، سیکیورٹی خدشات اور سیاسی دباؤ کے ماحول میں مکمل خودمختاری برقرار رکھنا آسان نہیں۔قارئین اکثر لوگوںکوبلاوجہ ہراساں کرنے ، اور مختلف بہانوں سے نوجوانوں کو جیل کی زیننت بنانے کے عمل نے لوگوںکوحفاظتی اداروں کے خلاف لاکھڑا کردیا ہے ۔ صوبے میں سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی تحریکوں کے مقدمات بھی عدالتوں میں زیرِ سماعت رہے ہیں۔ جب کارکنوں پر سنگین دفعات عائد کی جاتی ہیں تو عدالتیں اس امر کا تعین کرتی ہیں کہ اختلافِ رائے کو جرم سمجھا جائے یا آئینی حق۔ بعض فیصلوں میں ضمانتیں منظور ہوئیں اور سیاسی سرگرمیوں کو قانونی دائرے میں تسلیم کیا گیا، جبکہ دیگر مواقع پر سخت قوانین برقرار رکھے گئے۔ یہی توازن سیکیورٹی تقاضوں اور شہری آزادیوں کے درمیان کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔عدلیہ کی ساکھ کا انحصار عوامی تاثر پر بھی ہے۔ اگر فیصلے غیر مؤثر یا متضاد نظر آئیں تو شکوک و شبہات بڑھتے ہیں۔ اس کے برعکس جب جج آزادی اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اعتماد بحال ہوتا ہے۔ چیلنج صرف انصاف فراہم کرنا نہیں بلکہ اسے غیر جانبدار اور شفاف انداز میں ہوتا ہوا دکھانا بھی ہے۔یہ حقیقت بھی تسلیم کی جاتی ہے کہ عدالتیں تنہا بلوچستان کے بحران کا حل پیش نہیں کر سکتیں۔ سیاسی مکالمہ، معاشی اصلاحات اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم ناگزیر عناصر ہیں۔ تاہم عدلیہ کی علامتی قوت کو کم نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایک فیصلہ جو آئینی حقوق کی توثیق کرے، یہ پیغام دیتا ہے کہ قانون اب بھی بالادست ہے۔ یہی احساس شہریوں کو مکمل مایوسی سے بچاتا ہے۔مستقبل میں عدلیہ کا کردار بدستور اہم رہے گا۔ عدالتی آزادی کو مضبوط بنانا، گواہوں کے تحفظ کا نظام بہتر کرنا، عدالتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور غریب خاندانوں کو قانونی معاونت فراہم کرنا عملی اقدامات ہو سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کے مقدمات میں حساس اور فوری سماعت بھی اعتماد سازی میں مدد دے سکتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ اصول دہرانا ضروری ہے کہ آئین کی ضمانتیں جغرافیہ یا سیاست کی بنیاد پر تبدیل نہیں ہوتیں۔بلوچستان کی جدوجہد دراصل شناخت اور وقار کی تلاش

ہے۔ عدلیہ قانون اور امید کے سنگم پر کھڑی ہے۔ وہ چاہے تو دوریوں کو بڑھا سکتی ہے اور چاہے تو شمولیت کا پل بن سکتی ہے۔ اگر وہ بلا خوف و امتیاز انصاف کے اصولوں پر قائم رہے تو ریاست اور محروم شہریوں کے درمیان اعتماد کی بحالی ممکن ہے۔بلوچستان میں عدلیہ کی کہانی کسی انقلابی تبدیلی سے زیادہ تدریجی پیش رفت کی داستان ہے۔ یہ ایک ایسے نظام کی تصویر پیش کرتی ہے جو طاقتور ڈھانچوں کے درمیان آئینی اصولوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر لاپتہ افراد کے خاندانوں، انصاف کے متلاشی کارکنوں اور اپنے حصے کی خوشحالی کے طلبگار عوام کے لیے ہر سماعت اور ہر فیصلہ ایک نئی امید کی کرن ہے۔ اسی نازک امید میں بلوچستان کی طویل جدوجہد میں عدلیہ کی اصل اہمیت پوشیدہ ہے۔عدالت کا رول اُسی وقت موثر اور عوام دوست تصور کیا جاسکتا ہے جب ایسے اداروں کو بھی جوابدہ بنایا جائے جو جبری گمشدگی ، ہراستی ہلاکتوں میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کرکے انہیں سزا دی جائے تبھی جاکر عوام میں عدالتی نظام پر بھر پور اعتماد بڑھ سکتا ہے ۔

 

Previous Post

SIA Files Chargesheet Against Two for Alleged Hizbul Propaganda Network in Kashmir

Next Post

Suspected Unattended Suitcase Found at Narbal, Security Measures Initiated

از:خضر محمد

از:خضر محمد

Next Post
Suspected Unattended Suitcase Found at Narbal, Security Measures Initiated

Suspected Unattended Suitcase Found at Narbal, Security Measures Initiated

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.