کئی دنوں سے جذلان اپنے ہی کمرے میں بند تھا۔کتابیں، نوٹس اور ادھورے سوال۔۔۔۔سب اس کے گرد بکھرے ہوئے تھے۔
دوپہر کا وقت تھا۔آنگن میں ہلکی ہلکی دھوپ اتر رہی تھی،نہ تیز، نہ مدھم….ایسی جیسے سردیوں کی آمد پر دھوپ انسان کو چھوتی نہیں، بس یاد دلاتی ہے کہ وہ موجود ہے۔
دادو نے اندر سے آواز دی۔
”غفار کاک ….لان میں دو کرسیاں لے آو…جذلان اور میں وہیں بیٹھیں گے۔کم از کم ایک آدھ گھنٹہ دھوپ سینکے گے ۔“
چار پانچ دن بعدآج پہلی بار جذلان اپنے کمرے سے باہر نکلا۔چہرے پر تھکن نہیں تھی،بلکہ وہ خاموش حرارت تھی جو مسلسل سوچنے سے جنم لیتی ہے۔
لان میں دونوں کرسیاں آمنے سامنے رکھ دی گئیں۔ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک تھی اور دھوپ اس ٹھنڈک کو کاٹ نہیں رہی تھی….بس اس کے ساتھ چل رہی تھی۔
دادو اور جذلان بیٹھ گئے۔چند لمحے خاموشی رہی۔پر یہ خاموشی بے جان نہیں تھی بلکہ اس میں توقف تھا، ٹھہراو تھا۔
اچانک جذلان کے دل میں ایک خیال ابھرا۔۔۔۔وہی خیال جو کل سے الفاظ کی صورت اختیار نہیں کر پا رہا تھا۔آواز میں تجسس تھا،مگر لہجے میں ضد نہیں،تلاش تھی۔
”دادو…یہ بات تو طے ہے کہ برزہوم کے لوگ ہمارے قدیم ترین انسان ہیں،مگر اصل سوال اب بھی وہیں کھڑا ہے:
”وہ کس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے؟….یہ خاموشی کیوں ہے تاریخ میں؟“
دادو نے لمحہ بھر توقف کیا۔یوں جیسے کسی گہری تہہ میں اترنے سے پہلے سانس روک لی جاتی ہو۔لان میں دھوپ کا ایک ٹکڑا آہستہ آہستہ سرک کر ان کے قدموں تک آ پہنچا۔
پھر دادو نے آہستہ سے گفتگو کو سمیٹتے ہوئے کہا:
”برخوردار…اگر تم واقعی کشمیر کے ابتدائی باشندوں کے متعلق سمجھنا چاہتے ہیں، تو تمہیں ایک نقشے یا ایک روایت کے دائرے میں قید نہیں رہنا ہوگا۔سب سے پہلے اس قدیم برِصغیر کو دیکھنا ہوگا۔جو آج کی سیاسی سرحدوں سے بہت پہلے وجود رکھتا تھا….یعنی آج سے قریبا ً پانچ یا چھ ہزارسال پہلے ۔برصغیر کی وہ زمین جہاں تہذیبیں صرف آباد نہیں ہوئیں بلکہ ٹکرائیں بھی، ملیں بھی اور کبھی یوں گھل مل گئیں کہ الگ پہچانی ہی نہ جا سکیں۔پھر ان قبائل کی طرف نظر ڈالنی ہوگی جن کی شناخت نسل یا نام سے نہیں بلکہ طرزِ زندگی ، رہن سہن اور فطرت سے تعلق سے بنتی تھی۔
جذلان نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا :
” دادو….پانچ یا چھ ہزار سال پہلے برصغیر کی تصویر کشی کرنا کیسے ممکن ہے ۔“
دادو نے مسکراتے ہوئے کہا :
”برخور دار …. کیا تم نے وادی سند ھ کی تہذیب کے بارے میں سنا ہے ۔ “
جذلان نے نفی میں سرہلایا لیکن ساتھ ہی اپنی کم علمی کا بھی اظہار کیا ۔
”دادو ….وادی سندھ کی تہذیب کے بارے پتا نہیں لیکن ہڑپا تہذیب کا نام ضرور سنا ہے ۔“
دادو ہلکا سا مسکرائے۔یوں جیسے ایک الجھی ہوئی بات کو سادہ لفظوں میں رکھ دینے کا وقت آ گیا ہو۔
”برخوردار…اس نکتے پر ذرا ٹھہر کر سمجھ لو۔وادی سندھ کی تہذیب اور ہڑپہ تہذیب دو الگ تہذیبیں نہیں ہیں۔یہ ایک ہی انسانی تجربے کے دو مختلف نام ہیں۔فرق تہذیب میں نہیں،فرق نام رکھنے کے زاویے میں ہے۔جب مورخ اس تہذیب کو دریائے سندھ کے پھیلاو کے حوالے سے دیکھتا ہے تو اسے وادی سندھ کی تہذیب کہتا ہے۔یہ ایک جغرافیائی نام ہے۔
دادو نے کچھ لمحے توقف کرتے ہوئے بات آگے بڑھائی ۔
” جب ماہرِ آثارِ قدیمہ کھدائی کے مقام سے بات شروع کرتا ہے،جہاں پہلی بار اس تہذیب کو پہچانا گیا،تو وہی تہذیب ہڑپہ تہذیب کہلاتی ہے۔یہ ایک دریافت کا نام ہے۔اسی لیے تاریخ میں اکثر ایک ہی حقیقت دو ناموں سے زندہ رہتی ہے اور جو طالبِ علم اس فرق کو سمجھ لے،وہ الجھن سے آزاد ہو جاتا ہے۔“
دادو خاموش ہو گئے۔اور جذلان کو پہلی باراحساس ہوا کہ بعض اختلافات علم میں نہیں،اصطلاحات میں ہوتے ہیں۔
دادو نے سانس سنبھالتے ہوئے موضوع کو آگے بڑھایا۔
”اور ہاں…کشمیر کے قدیم قبائل کے بارے میں سوچنے سے پہلے سنٹرل ایشیا کی ہجرتیں نظراندازنہیں کی جاسکتی ہے ۔انسان ہمیشہ موسم، وسائل اور راستوں کا تابع رہا ہے۔یہ ہجرتیں صرف جسموں کی نقل و حرکت نہیں تھیں۔۔۔یہ زبانوں، عقائد، علم اور معاشی ڈھانچوں کی منتقلی تھیں۔اسی خاموش بہاو میں طاقت کے مراکز بنتے اور بگڑتے رہے۔
جذلان کا ذہن برصغیر اور سنٹرل ایشیا کی ٹوپوگرافی سمجھتے ہوئے الجھ چکا تھا۔نقشے ذہن میں بن تو رہے تھے، مگر سرحدیں ٹھہرتی نہیں تھیں۔یہ کیفیت دادو سے چھپی نہ رہی۔
جذلان کے چہرے کی الجھن دیکھ کر دادو خود ہی بات کو آگے لے آئے۔۔۔مگر اس بار انداز زیادہ منطقی اور ترتیب میں تھا۔
دادو نے کہا:
”برخوردار…سب سے پہلی بات ذہن نشین کر لو….ہم قدیم تاریخ کو آج کے سیاسی نقشوں کے ذریعے نہیں سمجھ سکتے۔برصغیر اور سنٹرل ایشیا کی جو سرحدیں آج تم کتابوں میں دیکھتے ہو،یہ ہزاروں سال پہلے موجود ہی نہیں تھیں۔اس زمانے میں سرحد لکیر نہیں ہوتی تھی،بلکہ قدرتی راستے ہوتے تھے۔“
دادو نے مزید بات کو آسان کرتے ہوئے کہا ؛
”اب ذرا ترتیب سے سمجھو۔برصغیر اور سنٹرل ایشیا کے درمیان کوئی خالی خلا نہیں تھا۔ان کے بیچ افغانستان، بدخشاں، پامیر اور ہندوکش کا وہ خطہ تھا جو آج بھی ایک گزرگاہ ہے۔۔۔نہ مکمل طور پر اِدھر، نہ اُدھر۔ سنٹرل ایشیا کی زمین کھلے میدانوں، چراگاہوں اور سرد موسم کی زمین تھی۔وہاں انسان متحرک تھا۔۔۔چرواہا، شکاری اور موسم کے ساتھ چلنے والا۔جب وسائل کم پڑتے یا موسم سخت ہوتا،تو انسان رکتا نہیں تھا،راستہ بدل لیتا تھا۔“
جذلان کے ذہن میں قبائلی انسان کی ایک مختصر مگر واضح تصویر ابھری۔
”دوپہر ڈھل رہی تھی۔پہاڑوں کے بیچ تنگ راستے پر قبیلہ آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔کھال کے بوسیدہ لباس جسموں سے چمٹے ہوئے تھے۔مردوں کے کندھوں پر پتھر کے اوزار تھے،عورتیں بچوں کو لپٹائے ہوئے تھیں، بوڑھے قدم گھسیٹتے چل رہے تھے اور اچانک قبیلہ کا سردار رک گیا ۔ٹھہرو …. پانی مل گیا …. یہ سنتے ہی قبیلے کے لوگ خوشی سے جھومنے لگے ۔ “
دادو نے ٹوکتے ہوئے کہا۔
”برخوردار کہا ں کھو گے تم ….“
جذلان سنبھال گیا اور دادو کی جانب متوجہ ہوگیا ۔
دادو نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ۔
”ادھر برصغیر پانی، زرخیزی اور نسبتاً نرم موسم کا خطہ تھا۔یہاں ٹھہراو ممکن تھا۔یہی وجہ ہے کہ سنٹرل ایشیا سے آنے والے گروہ برصغیر کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔“
دادو نے موضوع کو سمیٹتے ہوئے کہا ۔
”اب کشمیر کو اس نقشے میں رکھ کر دیکھو۔کشمیر نہ خالص برصغیر تھا اور نہ خالص سنٹرل ایشیا۔یہ ایک عبوری خطہ تھا….ایک ایسا دروازہ
جہاں سے سب نہیں گزر سکتے تھے۔ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ محض پہاڑ نہیں تھے، یہ انسانی تاریخ کے فلٹر تھے۔جو لوگ ان راستوں سے گزرے،وہ جسمانی طور پر مضبوط تھے اور ذہنی طور پر ماحول کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والے۔اسی لیے جو گروہ کشمیر تک پہنچے وہ یا تو یہاں رک گئے یا یہاں آ کر بدل گئے۔ ان کی زبانیں بدلیں،ان کا طرزِ زندگی بدلا۔۔۔۔اور ان کی شناخت نئی صورت میں ڈھل گئی۔“
جذلان کے ذہن میں صورتحال آہستہ آہستہ واضح ہو رہی تھی کہ برصغیر اور سنٹرل ایشیا دو الگ الگ دنیائیں نہیں ہیں، بلکہ ایک ہی مسلسل انسانی ارتقا کا پھیلاو ہیں….جہاں سرحدیں بعد میں بنیں، انسان پہلے چلتا رہا۔(جاری)

