پلوامہ/2 مارچ(صوفی میڈیا سروسز ) گزشتہ کل معروف کشمیری صوفی شاعر و درویش پیر فقیر غلام نبی شاہ ظہور کبروی چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا 44 واں یوم وصال ان کےآبائی گاوں تملہ ہال پلوامہ میں منایاگیا ۔ اس سلسلے میں خانقاہ بیت الظہور تملہ ہال پلوامہ اور ان کے مزار مبارک پر درود و اذکار اور فاتحہ خوانی کی مختصر تقریب منعقد ہوئی- آپ کا وصال یکم مارچ 1982ء بروز پیر آبائی گاووں تملہ ہال پلوامہ میں ہوا۔ آپ ایک عظیم صوفی شاعر، عارف باللہ اور سلسلہ کبرویہ و چشتیہ کے بزرگ تھے۔ آپ کی قوت ارادی اور جذبہ ایثار نئی نسل کے لئے ایک مشعل راہ ہے۔ آپ نے کشمیری، اردو، فارسی، عربی اور پنجابی زبانوں میں شاعری کی۔ آپ کی تحریرات میں طوطی ہند حضرت ابوالحسن امیر خسرو ؒ کی فارسی زبان میں قصہ چہار درویش اور سُورة یُوسف کا کشمیری منظوم ترجمہ شامل ہے۔
آپ کی شاعری اور تعلیمات آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور لوگ آپ کو ایک عظیم صوفی شاعر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔آپ نے اپنے 57 سالہ مختصر مگر با برکت عمر میں کئی محاذوں پر کام کیا ۔ پیش امام، منشی ، مختلف اخبارات میں کتابت اور جلدسازی ان کا ذریعہ معاش رہا- آپ حضرت میر سید محمد سعید حقانی رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت تھے -جو کشمیر کے معروف روحانی بزرگ و نعت گو شاعر حضرت میر سید عزیز اللہ حقانی کبروی رحمتہ اللہ علیہ کےپوتے گزرے ہیں – بتایا جاتا ہے اس کے علاوہ انہیں سلطان المشائخ، محبوب الہی حضرت خواجہ محمد نظام الدین اولیاء بخاری چشتی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ سے باطنی طور سلسلہ چشتیہ کی تربیت کا فیض حاصل ہوا تھا- شاہ ظہور محفل بہار ادب شاہورہ ہلوامہ نامی ادبی تنظیم کے بانی صدر تھے – اس تنظیم کے بنیادی ممبر وانی علی دلشاد ، اعزازی ممران پیر ثنا اللہ شاہ،ریاض وانی نائرہ، علی محمد بٹ ذاسو ،علی محد بٹ مغموم کے علاوہ ممر اسمبلی پلوامہ وحید الرحمان پرہ نے مرحوم صوفی بزرگ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے -محفل بہار ادب شاہورہ پلوامہ اور علاقے کے ذہین نوجوانوں نے مرحوم صوفی شاعر و بزرگ کی یاد میں ان کے آبائی گاوں تملہ ہال میں ایک آڈیٹوریم تعمیر کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے-
