قارئین بلوچستان میں گزشتہ کئی برسوں سے حالات مخدوش ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ وہاں پر تشدد کی کارروائیوں میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے ۔ قارئین کو پتہ ہوگا کہ بلوچستان کی آبادی دیگر صوبوںسے کم ہیں تاہم اگر ہم بلوچستان کو رقبہ کے لحاظ سے دیکھیں تو یہ پاکستان کا سب سے بڑ ا صوبہ ہے ۔قدرتی وسائل سے مالا مال اور بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع ہونے کے باعث یہ خطہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی سیاست اور معیشت میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی صوبے میں واقع گوادر بندرگاہ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا مرکزی سمندری مرکز سمجھی جاتی ہے، جو چین کے مغربی علاقوں کو براہِ راست بحیرہ عرب تک رسائی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس تمام تر اہمیت کے باوجود بلوچستان کئی دہائیوں سے سیاسی محرومی، معاشی پسماندگی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات جیسے مسائل کا شکار ہے۔ 2024 کے آغاز سے صوبے میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور شورش پسند گروہوں نے اپنی کارروائیوں کو زیادہ منظم اور جدید انداز میں انجام دینا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اس خطے کی تزویراتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، خاص طور پر بھارت جیسے علاقائی ممالک کے لیے۔جغرافیائی اعتبار سے بلوچستان کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں جبکہ اس کے ساحلی علاقے پاکستان کو براہِ راست بحیرہ عرب تک رسائی دیتے ہیں۔ گوادر بندرگاہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ بندرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کے تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اقتصادی طور پر بلوچستان میں قدرتی گیس، سونا، تانبا اور دیگر معدنیات کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ صوبہ اربوں ڈالر مالیت کے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں کا مرکز بھی ہے۔ چین کے لیے گوادر بندرگاہ بحیرہ ہند تک ایک مختصر اور محفوظ راستہ فراہم کر سکتی ہے جس سے اس کی طویل سمندری راستوں پر انحصار کم ہو جاتا ہے۔ تاہم مقامی بلوچ حلقوں کا موقف ہے کہ ان وسائل اور منصوبوں سے فائدہ زیادہ تر بیرونی طاقتوں اور مرکزی حکومت کو ہو رہا ہے جبکہ مقامی آبادی کو اس کا مناسب حصہ نہیں مل رہا، جس کے باعث احساسِ محرومی میں اضافہ ہو رہا ہے۔قارئین کو بتادیں کہ بلوچستان میں شورش کی جڑیں 1948 میں ریاستِ قلات کے پاکستان سے الحاق کے بعد کے واقعات سے جا ملتی ہیں۔ اس کے بعد سے صوبے میں کئی مراحل میں مزاحمتی تحریکیں سامنے آئیں۔ سیاسی عمل میں محدود شمولیت، قدرتی وسائل کے باوجود ترقیاتی محرومی، بار بار ہونے والی فوجی کارروائیاں اور لاپتہ افراد کا مسئلہ وہ عوامل ہیں جنہوں نے اس تنازعے کو دہائیوں تک زندہ رکھا ہے۔گزشتہ چند برسوں میں حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ 2024 سے 2026 کے درمیان صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال نمایاں طور پر بگڑی ہے۔ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں مختلف شہروں میں بیک وقت حملے کیے گئے جبکہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا کہ بڑی انسدادِ شورش کارروائیوں کے دوران 150 سے زائد جنگجو ہلاک کیے گئے۔ کوئٹہ اور گوادر جیسے بڑے شہروں میں سکیورٹی اہلکاروں اور اہم تنصیبات کو بار بار نشانہ بنایا گیا۔ 2025 میں پیش آنے والا ٹرین ہائی جیکنگ کا واقعہ خاص طور پر نمایاں تھا جس میں دو سو سے زائد مسافروں کو یرغمال بنا کر قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی طرح مئی 2025 میں اسکول بس پر بم حملے میں متعدد شہری، جن میں بچے بھی شامل تھے، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ شہری علاقوں میں بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شورش پسند گروہوں کی منصوبہ بندی اور عملی صلاحیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ان گروہوں کی حکمت عملی بھی وقت کے ساتھ بدلتی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض تنظیموں نے خواتین خودکش حملہ آوروں کا استعمال شروع کیا ہے، افغانستان میں حالیہ تنازعات کے بعد دستیاب جدید اسلحہ حاصل کیا گیا ہے اور ڈرون، نائٹ وژن ٹیکنالوجی اور بیک وقت متعدد اہداف پر حملوں جیسی جدید حربے اپنائے جا رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں سے شورش کی نوعیت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ خاص طور پر چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے اور چین سے تعلق رکھنے والے افراد اکثر حملوں کا ہدف بن رہے ہیں جبکہ گوادر شہر ان کارروائیوں کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔بلوچ شورش میں سب سے نمایاں تنظیم بلوچ لبریشن آرمی سمجھی جاتی ہے، جو اپنی ’مجید بریگیڈ‘ کے ذریعے خودکش اور ہائی پروفائل حملوں کے لیے جانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بلوچ لبریشن فرنٹ اور دولتِ اسلامیہ خراسان (آئی ایس کے پی) سمیت کئی دیگر مسلح گروہ بھی مختلف علاقوں میں سرگرم ہیں۔قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بلوچستان پاکستان کا سب سے پسماندہ صوبہ سمجھا جاتا ہے۔ شرح خواندگی کم، صحت کی سہولیات ناکافی، روزگار کے مواقع محدود اور بنیادی ڈھانچہ کمزور ہے۔ مسلسل بدامنی کے باعث ہزاروں افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔ یہی سماجی و معاشی مسائل مقامی آبادی اور مرکزی حکومت کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھاتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے زیادہ تر عسکری حکمت عملی اختیار کی گئی ہے جس میں انسدادِ شورش آپریشنز، فوج اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی، سی پیک منصوبوں کے لیے سخت سکیورٹی اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں شامل ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبری گمشدگیوں کے الزامات بھی مسلسل سامنے آتے رہے ہیں، جس سے عوامی ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر بھی بلوچستان کی صورتحال اہمیت رکھتی ہے۔ چین نے سی پیک منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور ہزاروں چینی کارکن صوبے میں مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ چینی شہریوں پر حملوں کے واقعات کے بعد بیجنگ کی جانب سے کئی مرتبہ سخت سفارتی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں عدم استحکام کے باعث اسلحہ اور جنگجوو ¿ں کی نقل و حرکت بلوچستان تک پہنچنے کی اطلاعات بھی ملتی رہی ہیں، جس سے خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
بھارت کے لیے بلوچستان میں جاری بے چینی کئی پہلوو ¿ں سے اہم ہے۔ ایک طرف اگر پاکستان کو اندرونی سکیورٹی مسائل کا سامنا رہتا ہے تو اس کی عسکری توجہ کا بڑا حصہ داخلی معاملات پر مرکوز ہو سکتا ہے، جس سے بھارت کے ساتھ سرحدی دباو ¿ میں کمی آ سکتی ہے۔ دوسری جانب سی پیک منصوبوں میں خلل اور گوادر بندرگاہ کی ترقی میں غیر یقینی صورتحال چین کی بحیرہ? عرب میں طویل المدتی موجودگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم یہ صورتحال بھارت کے لیے مکمل طور پر فائدہ مند بھی نہیں، کیونکہ علاقائی عدم استحکام اسلحہ کی غیر قانونی ترسیل، شدت پسند نیٹ ورکس کے پھیلاو ¿ اور دراندازی جیسے خطرات کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ سفارتی سطح پر بھارت بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے، اگرچہ پاکستان کی جانب سے لگائے گئے مداخلت کے الزامات کو نئی دہلی مسترد کرتا ہے۔ گوادر کے اطراف سمندری عدم استحکام توانائی کی ترسیل کے راستوں اور بحیرہ? عرب میں بحری توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جو بھارت کی سکیورٹی حکمت عملی میں ایک اہم عنصر ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بلوچستان اس وقت شورش، عالمی سیاست اور اقتصادی مفادات کے سنگم پر کھڑا ایک حساس خطہ ہے۔ بڑھتی ہوئی بدامنی، مسلح گروہوں کی جدید صلاحیتیں اور اہم انفراسٹرکچر پر مسلسل حملے خطے کو ایک غیر یقینی سکیورٹی ماحول کی طرف لے جا رہے ہیں۔ بھارت کے لیے یہ صورتحال بیک وقت مواقع اور خطرات دونوں رکھتی ہے۔ اس لیے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر اور محتاط سفارتی و تزویراتی پالیسی ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔