جموں و کشمیر کے سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی شدید مذمت
سرینگر، 12 مارچ (جے کے این ایس):
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے فون پر رابطہ کیا اور جموں میں ان پر فائرنگ کے واقعے کے بعد مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔ ادھر جموں و کشمیر کے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے اس واقعے پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق بدھ کی شام جموں کے گریٹر کیلاش علاقے میں ایک شادی کی تقریب کے دوران ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو نشانہ بنا کر فائرنگ کی گئی۔ اس موقع پر ان کے ساتھ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اور نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما ناصر اسلم وانی بھی موجود تھے۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس نے حملہ آور کمل سنگھ جموال کو گرفتار کر کے مزید تفتیش کے لیے پانچ روزہ ریمانڈ پر لے لیا ہے۔واقعے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا اور انہیں معلوم نہیں کہ حملہ آور کون تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات وزیر داخلہ امیت شاہ نے انہیں فون کر کے ان کی خیریت دریافت کی اور بتایا کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ادھر مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھی اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے اس حملے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ محفوظ ہیں۔ اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا یہ کسی نشے میں دُھت شخص کی حرکت تھی یا اس کے پیچھے کوئی بڑی سازش تھی۔پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے فائرنگ کے واقعے کو بزدلانہ کاروائی قرار دیا جبکہ میر واعظ عمر فاروق نے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس کی تفصیلی تحقیقات پر زور دیا۔
نیشنل کانفرنس کے سینئر راہنما اور سرینگر سے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تشدد آمیز واقعات انتہائی تشویشناک ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کاروائی ہونی چاہیے۔جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات خطے میں سکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیے۔
اس کے علاوہ مفتی ناصر اعظم ناصر الاسلام، بیگم خالده شاہ اور کشمیر ٹریڈرز اینڈ مینوفیکچررس فیڈریشن سمیت دیگر تنظیموں اور شخصیات نے بھی واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر نیشنل کانفرنس کے صدر دفتر نوائے صبح کمپلیکس میں پارٹی رہنماؤں، ارکان اسمبلی اور کارکنوں نے ایک مذمتی اجلاس منعقد کر کے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
