شام کا وقت تھا۔ سرینگر کی ایک چھوٹی سی گلی میں واقع چائے کی دکان پر چند لوگ روز کی طرح جمع تھے۔ ٹی وی پر خبریں چل رہی تھیں۔ اسکرین پر ایک ہی خبر بار بار دکھائی جا رہی تھی—امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ۔ دور کہیں خلیج میں گولے برس رہے تھے، لیکن ان کی گونج یہاں تک محسوس ہو رہی تھی۔
عمران، جو ایک نوجوان صحافی تھا، خاموشی سے ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ اس کے پاس بیٹھا بزرگ غلام نبی صاحب آہستہ سے بولے،
“بیٹا، جنگ چاہے کہیں بھی ہو، اس کی آگ پوری دنیا کو جھلسا دیتی ہے۔”
عمران نے سر ہلایا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ جنگ صرف تین ملکوں تک محدود نہیں رہے گی۔ اس کے اثرات دور دور تک پہنچیں گے، خاص طور پر بھارت جیسے بڑے اور ترقی پذیر ملک تک۔
چند ہی دنوں میں اثرات نظر آنے لگے۔ سب سے پہلا جھٹکا تیل کی قیمتوں کو لگا۔ خلیج کے علاقوں میں کشیدگی بڑھتے ہی عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوگیا۔ بھارت جو زیادہ تر تیل بیرون ملک سے منگواتا تھا، اچانک ایک بڑے معاشی دباؤ میں آ گیا۔ پیٹرول پمپوں پر قیمتیں بڑھ گئیں، ٹرانسپورٹ مہنگی ہو گئی، اور عام آدمی کی جیب پر بوجھ بڑھنے لگا۔
سرینگر کے ایک ٹیکسی ڈرائیور بشیر احمد کو اس کا سب سے زیادہ احساس ہوا۔ پہلے وہ دن میں چار پانچ چکر لگا کر گھر کا خرچ چلا لیتا تھا، مگر اب پیٹرول مہنگا ہونے سے اس کی کمائی کم اور خرچ زیادہ ہو گیا تھا۔ وہ اکثر افسردہ لہجے میں کہتا،
“یہ جنگ ہماری نہیں، مگر اس کی قیمت ہمیں چکانی پڑ رہی ہے۔”
ادھر معاشی بازار بھی متاثر ہونے لگے۔ اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھ گیا۔ سرمایہ کار خوفزدہ ہو گئے کہ اگر جنگ لمبی چلی تو عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔ بھارت کی بہت سی کمپنیوں کے کاروبار مشرق وسطیٰ سے جڑے ہوئے تھے، اور وہاں کی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاری کے ماحول کو کمزور کر دیا۔
اسی دوران ایک اور مسئلہ سامنے آیا—بھارت کے لاکھوں شہری جو خلیجی ممالک میں کام کرتے تھے، وہ بھی تشویش میں مبتلا ہو گئے۔ اگر جنگ پھیلتی تو ان کی ملازمتیں اور زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔ عمران کے ایک دوست آصف دبئی میں ملازمت کرتا تھا۔ اس نے فون پر کہا،
“اگر حالات مزید خراب ہوئے تو شاید ہمیں واپس آنا پڑے۔ مگر بھارت میں بھی اتنی آسانی سے روزگار کہاں ملے گا؟”
اس جنگ کا ایک اور اثر بھارت کی خارجہ پالیسی پر بھی پڑا۔ بھارت کے امریکہ، اسرائیل اور ایران تینوں کے ساتھ تعلقات تھے۔ ایک طرف وہ اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون رکھتا تھا، تو دوسری طرف ایران سے تیل اور تجارتی روابط بھی تھے۔ ایسے میں بھارت کو بڑی احتیاط سے قدم اٹھانا پڑ رہا تھا تاکہ کسی ایک فریق کی ناراضی مول نہ لینی پڑے۔
سرینگر کی وہی چائے کی دکان ایک دن پھر لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ ٹی وی پر جنگ کی تازہ خبریں چل رہی تھیں۔ غلام نبی صاحب نے گہری سانس لے کر کہا،
“دنیا جتنی ترقی کر گئی ہے، اتنی ہی جنگوں میں بھی الجھ گئی ہے۔ امن سب چاہتے ہیں، مگر اسے قائم رکھنے کے لیے کوئی سنجیدہ نہیں۔”
عمران نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ شہر اپنی روزمرہ کی زندگی میں مصروف تھا، مگر اس کے ذہن میں ایک خیال بار بار آ رہا تھا—دنیا اب اتنی چھوٹی ہو چکی ہے کہ کسی بھی کونے میں ہونے والی جنگ کا سایہ ہر ملک پر پڑتا ہے۔
اور شاید یہی اس زمانے کی سب سے بڑی سچائی تھی:
جنگ چاہے ہزاروں میل دور کیوں نہ ہو، اس کے منفی اثرات سرحدوں کو نہیں پہچانتے۔ وہ خاموشی سے ہر معیشت، ہر معاشرے اور ہر عام انسان کی زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں۔
اسی سوچ کے ساتھ عمران نے اپنی نوٹ بک بند کی اور دل ہی دل میں دعا کی کہ دنیا میں امن قائم ہو—کیونکہ جنگ کے قصے لکھنا آسان ہے، مگر اس کے دکھ سہنا بہت مشکل۔

