اریخ کے اس نازک موڑ پر جب ایک طرف تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا ہے جو ٹیکنالوجی، کاروبار، مسابقتی تعلیم اور گلوبل ایکسپوزر سے چل رہی ہے، دوسری طرف شناخت کا مسئلہ، غلط معلومات کی یلغار، سیاسی پولرائزیشن، سماجی دقیانوسیت، تصورات و خیالات کی کشمکش اور جذبات کی ہیرا پھیری جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہندوستان کے مسلم نوجوان ملک و قوم کی تعمیرِ نو میں قائدانہ کردار ادا کریں۔ گزشتہ ہفتے دہلی میں آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت کی ایک کانفرنس میں مسلم علما و دانشوروں نے بیک زبان اس بات پر زور دیا کہ اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے تعلق سے جو شکوک و شبہات مسلمانوں یا غیر مسلموں کے دل و دماغ میں پیدا کیے جا رہے ہیں، انہیں سنجیدگی، متانت اور تحقیق کے ساتھ دور کیا جانا چاہیے۔
حالات کی سنگینی سے گھبرانے اور مایوس ہونے کے بجائے ہمیں مضبوط حوصلے کے ساتھ ملک و قوم کی تعمیرِ نو کے لیے آگے بڑھنا ہوگا اور نئی نسل کو مایوسی اور انتشارِ ذہن و فکر سے بچانے کی فکر کرنی ہوگی۔ گویا مسلم اہلِ علم و دانش کو اس کا گہرا احساس ہے کہ آج کے پیچیدہ ماحول میں ہندوستانی مسلم نوجوان محض اپنی بقا کی جدوجہد ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ انہیں اپنی سوجھ بوجھ، ایمان اور کردار کا امتحان بھی درپیش ہے۔ ان کے سامنے سب سے بڑا سوال صرف یہ نہیں ہے کہ میں کون ہوں؟ بلکہ یہ بھی ہے کہ مجھے اپنی قوم، اپنی برادری اور اپنے دین کے لیے کیا بننا چاہیے؟
اسلام مومن کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ بغیر کسی سمت کے ایک الجھے ہوئے شخص کی زندگی بسر کرے۔ کتاب و سنت پوری وضاحت کے ساتھ یہ تصور دیتی ہیں کہ مسلمان ہونے کا مطلب ایسا شخص ہونا ہے جس کے کردار میں توازن، خواہشات میں اعتدال، خدمتِ خلق کا جذبہ اور احساسِ ذمہ داری موجود ہو۔ جہاں تک ہندوستان میں درپیش شناخت کے مسئلے کا تعلق ہے تو مسلمان اس ملک کے شہری ہیں اور ایک ایسی تہذیب کے وارث ہیں جس کا ہندوستان کی ثقافت، علم و دانش، فنونِ لطیفہ، حکمرانی، تعمیرات، معیشت اور تحریکِ آزادی میں اہم حصہ رہا ہے۔
لیکن جدید دور نئے چیلنجز لے کر آیا ہے۔ بہت سے نوجوان تین بڑے دباؤ کی وجہ سے شناخت کی الجھن میں پھنس گئے ہیں:
(1) سیاسی پولرائزیشن کا دباؤ
(2) عالمی میڈیا کے بیانیے کا دباؤ
(3) مذہب کے نام پر انتہا پسندانہ نظریات کا دباؤ
اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ شناخت مظلومیت، غصے یا رجعت پسندانہ جذبات پر قائم نہیں ہوتی بلکہ مقصد اور ذمہ داری (امانت) پر مبنی ہوتی ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:
اور اسی طرح ہم نے تم کو ایک متوازن امت بنایا” (سورۃ البقرہ 2:143)
یہ صرف ایک روحانی تعلیم نہیں بلکہ ایک قومی اور تہذیبی مشن بھی ہے۔ مسلمان ہونے کا مطلب متوازن اور ذمہ دار ہونا ہے، نہ کہ انتہا پسند یا لاپروا۔ ہندوستان جیسے کثیرالقومی معاشرے میں یہ توازن اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔
آج ہندوستانی نوجوانوں کے لیے سب سے سنگین خطرات میں سے ایک انتہا پسند قوتوں کا بچھایا ہوا نظریاتی جال ہے۔ انتہا پسندی کسی ایک مذہب یا ایک سیاسی نظریے تک محدود نہیں ہے بلکہ کئی شکلوں میں موجود ہے۔ مذہبی انتہا پسندی جو تشدد اور نفرت کو فروغ دیتی ہے، سیاسی انتہا پسندی جو سڑکوں پر جھگڑے اور لڑائی کے لیے اکساتی ہے، اور نظریاتی انتہا پسندی جو سازشی سوچ اور بنیاد پرستانہ بیانیے کو پھیلاتی ہے۔
بہت سے انتہا پسند گروہ چاہتے ہیں کہ مسلم نوجوان صرف ایک مقصد یعنی غصے اور تصادم کے ساتھ زندگی گزاریں۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ جذباتی طور پر غیر مستحکم، سماجی طور پر الگ تھلگ اور فکری طور پر بانجھ رہیں۔ قرآن غلو کی مذمت کرتا ہے:
اپنے دین میں غلو نہ کرو” (سورۃ النساء 4:171)
نبی کریم ﷺ نے بھی خبردار کیا:
دین میں شدت پسندی سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ انتہا پسندی کی وجہ سے ہلاک ہوئے” (سنن ابن ماجہ)
کوئی بھی نظریہ جو مسلم نوجوانوں کو غیر ضروری تنازعات، تشدد یا نفرت کی طرف دھکیلتا ہے، اسلامی نہیں ہے۔ یہ اسلام دشمنی اور اسلام کے ساتھ غداری ہے۔ جو لوگ نوجوانوں کی توانائی کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں تعلیم اور روزگار سے دور کر کے جذباتی انتشار کی طرف دھکیلتے ہیں، وہ دراصل دشمنانِ دین ہیں۔
قرآن اللہ کے سچے بندوں کو امن پسند اور عقلمند قرار دیتا ہے:
رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور عاجزی سے چلتے ہیں، اور جب جاہل ان سے سختی سے بات کرتے ہیں تو وہ سلامتی سے جواب دیتے ہیں” (سورۃ الفرقان 25:63)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مخالف ماحول میں مومن اپنا حوصلہ نہیں کھوتا، چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کی چالوں میں نہیں آتا اور ان سے الجھنے کے بجائے حکمت، صبر اور ضبط سے کام لیتا ہے۔ وہ ہر حال میں باوقار رہتا ہے کیونکہ اسلام کی پہلی ترجیح امن ہے، جبکہ تشدد کی راہ مقاصد کو تباہ کر دیتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مضبوط وہ نہیں جو لوگوں پر طاقت سے غالب آجائے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے میں اپنے آپ پر قابو رکھے” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
مسلمان کو جذباتی طور پر مضبوط بننا چاہیے، نہ کہ جذباتی اور دھماکہ خیز۔
جدید ہندوستان ایک کھلی معیشت اور نیٹ ورک سے چلنے والا معاشرہ ہے۔ یہاں مواقع، تعلقات اور تعاون کے ذریعے آتے ہیں۔ کئی نوجوان شک کی نفسیات، خوف، بے اعتمادی یا اپنے محدود حلقوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جبکہ اسلام نے سماجی طاقت کا درس دیا ہے۔
ہمارے پیارے نبی ﷺ نے رشتے ناطے، بھائی چارے، اعتماد اور اتحاد کے ذریعے معاشرہ بنایا۔ فرمایا:
مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی مانند ہے جس کا ہر حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے” (صحیح بخاری)
تنہائی کمزوری ہے اور ربط طاقت ہے، لیکن روابط کا اقدار پر مبنی ہونا شرط ہے۔ اسلام معاشرے کے ساتھ مثبت مشغولیت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
ہندوستان میں مسلم نوجوانوں کی سب سے بڑی ضرورت علم و ہنر ہے، اور اسی طرح ہندوستان کو بھی مسلم نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ تعلیم آج کی دنیا میں بقا اور ترقی کا سب سے طاقتور وسیلہ ہے۔ ہندوستانی سماج کی سب سے بڑی ضرورتوں میں سے ایک سماجی خدمت بھی ہے۔
غربت، ناخواندگی، بے روزگاری، صحت کے بحران، نشے اور دوسری لتوں کی گرفت اور ذہنی صحت کی جدوجہد میں لاکھوں لوگ مبتلا ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ان مسائل کو صرف مسائل کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ انہیں اسلام کا حقیقی چہرہ پیش کرنے کے مواقع کے طور پر لیں۔
اللہ فرماتا ہے:
نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو” (سورۃ المائدہ 5:2)
سماجی خدمت اسلام میں اختیاری نہیں بلکہ ایمان کا حصہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
لوگوں میں بہترین وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو” (معجم الاوسط)
اگر آپ سول سوسائٹی اور سماجی خدمات میں دوسروں سے آگے بڑھتے ہیں تو فطری طور پر معاشرے میں عزت، اعتماد اور اثر و رسوخ حاصل کرتے ہیں۔ معاشرے کی تعمیرِ نو کا یہی طریقہ سنت ہے۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہندوستانی مسلم نوجوانوں کو ایک ایسے وژن کی ضرورت ہے جو شناخت کی سیاست سے بالاتر ہو۔ ان کا مقصد ملک و قوم کی تعمیرِ نو ہونا چاہیے۔ مسلم نوجوان ہندوستان پر بوجھ نہیں بلکہ اس کے مستقبل کا ایک طاقتور اثاثہ ہیں۔
قرآن کا فرمان ہے:
بے شک اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں” (سورۃ الرعد 13:11)
یہ وقت کی پکار ہے کہ ہندوستانی مسلم نوجوان اٹھیں، مگر تشدد اور نفرت کے ساتھ نہیں بلکہ علم، کردار، خدمت اور ایجاد کے ساتھ۔ یہی قرآنی راستہ ہے، یہی پیغمبرانہ مشن ہے اور یہی معاصر ہندوستان کا اصل تقاضا ہے۔
انتہا پسندی کو مسترد کریں، غصے اور جذبات پر قابو رکھیں، مضبوط نیٹ ورکس اور رہنمائی کے نظام بنائیں، تعلیم کے لیے سنجیدہ بنیں، معاشرے کی سرگرمی سے خدمت کریں، کاروباری اور روزگار پیدا کرنے والے بنیں، جدید مہارتوں (آئی ٹی، میڈیا، قانون وغیرہ) میں مہارت حاصل کریں اور اپنے کردار کے ذریعے اسلام کی نمائندگی کریں۔
