مسجد سے ظہر کی اذان ہوگئی اور دادو نے گفتگو سمیٹتے ہوئے دھیرے سے غفار کاک کو آواز دی اور لنچ پیش کرنے کی ہدایت کی۔لنچ کا سنتے ہی نادیہ اور دلیپ ایک ساتھ اٹھنے لگے….وہی جھجک، وہی لحاظ جو مہمان کو بے اختیار کر دیتا ہے۔ مگر جذلان نے خاموشی سے آنکھوں کے اشارے سے روک دیا: بیٹھ جاو… دادو کو اچھا نہیں لگے گا۔وہ دونوں رک گئے، جیسے اس گھر کے غیر لکھے ہوئے اصول سمجھ گئے ہوں۔
اسی لمحے جذلان کی امّی اندر آئیں۔ ان کے قدموں میں ماں کی نرمی تھی اور چہرے پر وہ مانوس سی روشنی جو اجنبیوں کو بھی اپنا بنا لیتی ہے۔ نادیہ کو سینے سے لگایا….ایک ایسا لمس جو چند لمحوں میں فاصلے مٹا دیتا ہے۔ خیریت پوچھی، پھر دلیپ کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی۔
نادیہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا:
”آنٹی…آپ کیسی ہیں “
اور اس ایک جملے میں اپنائیت اتر آئی۔
امّی مسکرائیں۔
”آج میں نے جذلان کی پسندیدہ یخنی بنائی ہے۔ کھانا کھا کر جانا۔“
یہ جملہ حکم نہیں تھا….بلکہ محبت کی دعوت تھی ۔
تینوں دوبارہ بیٹھ گئے۔ غفار کاک طشت ناری اٹھائے اندر آئے۔ دسترخوان بچھا تونادیہ اور دلیپ دنوں سلیقے سے بیٹھ گئے ۔ کمرے میں کشمیری چاول اور یخنی کی خوشبو نے پورا ماحول معطر کردیا تھا ۔دو چار پکوان اور بھی تھے،لیکن کشمیری ساگ کا ذائقہ بہت ہی منفرد تھا۔ تینوں نے جی بھر کر کھایا۔۔۔جیسے آج بھوک مٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔
اسی اثنا میں دادو ظہر کی نماز ادا کر کے لوٹے۔ ان کے آنے سے فضا میں ایک ٹھہراو آ گیا۔ غفار کاک نے دادو کے لیے بھی تھوڑے چاول اور سبزی رکھ دی۔ سب کچھ سادہ تھا، مگر اس سادگی میں ایک وقار تھا….جیسے وقت نے خود تھالی تھام رکھی ہو۔
ڈرائنگ روم میں ایک دل فریب منظر بن گیا تھا:
مہمانوں کی جھجک تحلیل ہو چکی تھی، امّی کی آنکھوں میں اطمینان تھا، دادو کی خاموشی میں دعا چھپی تھی اور جذلان کے دل میں شکر….کہ اس کی دنیا، آج ایک میز پر، ایک ساتھ سانس لے رہی تھی۔
یہ لنچ محض کھانا نہیں تھا۔یہ قبولیت تھی۔یہ وہ لمحہ تھا جہاں تاریخ کی گفتگو، دوستی کی گرمی اور گھر کی محبت ایک ہی دائرے میں آ کر ٹھہر گئی ہو ۔
کھانے کے بعد پھر محفل سجی …. جذلان ،نادیہ اور دلیپ پھر دادو کی طرف متوجہ ہوگئے ۔
جذلان نے قدرے جھک کر دادو سے پوچھا، آواز میں جستجو تھی:
”آپ نے جن قبائل کا ذکر کیا، اُن میں سے کون سا قبیلہ کشمیر کے ابتدائی باشندوں کے سب سے زیادہ قریب سمجھا جا سکتا ہے؟“
دادو نے ہلکا سا گلا کھنکارا، جیسے یادوں کے دریچے کھول رہے ہوں۔
”یہی سوال میں نے ایک بار خواجہ صاحب سے کیا تھا…“
نادیہ نے آہستہ سے جذلان کی طرف دیکھا، لہجہ احترام سے بھرا ہوا تھا:
”یہ خواجہ صاحب کون ہیں؟“
جذلان مسکرا دیا۔
”وہ دادو کے والد صاحب تھے۔ سب انہیں خواجہ صاحب ہی کہتے تھے۔“
دادو نے سر ہلایا۔ ایک لمحے کے لیے ان کی نظریں کہیں دور جا ٹھہریں، جیسے وقت پیچھے کی طرف بہنے لگا ہو۔ پھر بولے:
”خواجہ صاحب کہا کرتے تھے کہ میں نے بزرگوں سے سنا ہے….کشمیر کا ابتدائی قبیلہ ناگ قبیلہ تھا۔“
دلیپ نے نہایت معصومیت سے سوال کیا:
”لیکن ان کے پاس اس بات کی کیا دلیل تھی؟“
دادو کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
”دلیپ، تمہاری بات میں وزن ہے۔ مگر خواجہ صاحب کی بات محض روایت نہیں….اس میں منطق بھی ہے۔“
جذلان نے فوراً مداخلت کی:
”کیسے….؟“
دادو نے نرمی مگر وقار کے ساتھ کہا:
”بچو…. صبر رکھو۔ پہلے پوری بات سنو، پھر سوال جواب کرنا۔“
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ دادو نے بات آگے بڑھائی، آواز میں ٹھہراو اور آنکھوں میں عجیب روشنی تھی۔
”خواجہ صاحب کے مطابق کشمیر کا ابتدائی انسان فطرت پرست تھا۔ وہ فطرت کو صرف دیکھتا نہیں تھا….اسے محسوس کرتا تھا، اس کا احترام کرتا تھا۔ سورج، چاند، پہاڑ، دریا….یہ سب اس کے لیے زندہ حقیقتیں تھیں، محض مناظر نہیں۔
پھر ایک وقت آیا کہ اس انسان نے پینے کے پانی کی تلاش شروع کی۔ وادی میں بھٹکتے ہوئے اسے چشمے ملے۔ پہلے تو وہ حیران ہوا….زمین کے سینے سے ابلتا ہوا میٹھا پانی!
جب اس نے پانی چکھا، تو اسے لگا جیسے خود فطرت اس سے بات کر رہی ہو۔“
دادو کی آواز دھیمی ہو گئی۔
”اس نے ان چشموں کے گرد چھوٹے چھوٹے پتھروں کے دائرے بنا دیے۔۔۔۔۔نہ مندر، نہ دیواریں۔۔۔۔۔۔بس ایک نشان، ایک پہچان۔ پھر اس نے دوسروں کو خبر دی۔ لوگ آئے، پانی پیا، سیراب ہوئے۔ انہیں لگا کہ یہ کوئی عام جگہ نہیں۔۔۔۔۔یہ قدرت کی طاقت کا ظہور ہے۔یوں چشمے مقدس ٹھہرے اور جو ان کی رکھوالی کرتے تھے، وہ ‘ناگ والے’ کہلانے لگے۔“
رفتہ رفتہ یہی نام اس قبیلے کی شناخت بن گیا—ناگ قبیلہ ۔”
دادو نے بات ختم کی تو کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی اتر آئی۔یہ خاموشی سوالوں کی نہیں تھی۔۔۔۔یہ قبولیت کی خاموشی تھی۔
نادیہ کی آنکھیں نم تھیں، جیسے وہ قدیم انسان کو چشمے کے کنارے کھڑا دیکھ رہی ہو۔
دلیپ سوچ میں گم تھا۔۔۔۔۔اس کے لیے تاریخ اب ہڈیوں اور تاریخوں کا نام نہیں رہی تھی۔
اور جذلان… وہ محسوس کر رہا تھا کہ دادو نے آج اسے صرف ایک قبیلے کی کہانی نہیں سنائی، بلکہ انسان اور فطرت کے پہلے رشتے کی یاد دلائی ہے۔یہاں تاریخ ختم نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔یہاں تو اصل گفتگو شروع ہوئی تھی۔ (جاری)

