دادو نے ذرا سا پہلو بدلا، تکیے سے ٹیک لگائی اور گہری سانس لی۔ ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی اتر آئی تھی….ایسی سنجیدگی جو کتابوں سے نہیں، عمر اور تجربے سے پیدا ہوتی ہے۔
”ناگ قبیلہ کی جو کہانی میںنے تمہیں بتائی ….“
دادو نے دھیرے سے کہنا شروع کیا۔
”یہ نہ کسی ایک کتاب کا حوالہ ہے، نہ کسی ایک مورخ کی رائے۔ یہ خواجہ صاحب کی وہ بات ہے جو ان تک سینہ بہ سینہ چلتی آئی تھی ۔“
کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔ نادیہ اور دلیپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ جذلان جانتا تھا کہ اب دادو صرف روایت نہیں سنائیں گے، بلکہ اس روایت پر اپنا وزن دار موقف بھی رکھیں گے۔
دادو نے بات آگے بڑھائی:
”خواجہ صاحب کہا کرتے تھے کہ کشمیر کے قدیم ترین باشندوں کو اگر سمجھنا ہے تو انہیں کسی نسل، کسی خون یا کسی فاتح کے ترازو میں نہیں تولو۔ وہ لوگ فطرت کے قریب تھے….اتنے قریب کہ فطرت ہی ان کی پہچان بن گئی تھی۔“
انہوں نے ہاتھ سے جیسے وادی کا نقشہ ہوا میں کھینچا۔
”پہاڑ، دریا، جھیلیں، چشمے….یہ سب ان کے لیے محض منظر نہیں تھے۔ خاص طور پر پانی۔ زمین کے سینے سے پھوٹتا ہوا میٹھا پانی … یہ ان کے لیے کسی معجزے سے کم نہ تھا۔”
دادو نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر دھیرے سے کہا:
”اسی لیے خواجہ صاحب کا کہنا تھا کہ ناگ کوئی ایک قبیلہ نہیں تھا، بلکہ ایک طرزِ زندگی تھا۔ جو لوگ چشموں کے گرد بسے، جو پانی کی حفاظت کرتے تھے، جو اس کو مقدس سمجھتے تھے….وہی ناگ کہلائے۔“
نادیہ نے بے اختیار سر ہلایا، جیسے یہ بات اس کے دل میں اترتی جا رہی ہو۔
دادو نے بات میں گہرائی پیدا کرتے ہوئے کہا:
”بعد میں جو کچھ لکھا گیا….وید ،اپنشند،مہابھارت اور دیگر پرانوں میں….وہ سب بعد کی تحریریں ہیں۔ ان میں ناگ کبھی سانپ بن گئے، کبھی دیومالائی مخلوق۔ یہ اس لیے نہیں کہ ناگ ایسے تھے، بلکہ اس لیے کہ لکھنے والوں کا زاویہ بدل چکا تھا۔ “
انہوں نے نگاہ اٹھا کر سب کو دیکھا۔
”مگر کشمیر کی قدیم یادداشتیں…. نیلمت پران اور راج ترنگنی میں محفوظ ہیں۔ وہاں ناگ کسی افسانے کی طرح نہیں آتے، بلکہ اس وادی کے اولین رکھوالوں کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ چشموں کے نگران، موسموں کے شناسا، فطرت کے ساتھی۔“
دادو کی آواز نرم ہو گئی۔
”یہی وجہ ہے کہ آج بھی اس وادی میں جگہ جگہ ناگوں کے نام زندہ ہیں۔جیسے ویری ناگ، اننت ناگ،شیش ناگ، کوکَر ناگ وغیرہ ۔ یہ نام ہمیں بتاتے ہیں کہ ناگ کوئی گم شدہ مخلوق نہیں، بلکہ اس دھرتی کی یاد میں رچے بسے لوگ تھے۔“
پھر دادو نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا:
“میں خواجہ صاحب کی بات سے انکار نہیں کرتا….وہ روایت ہے اور روایت اپنی جگہ سچ ہوتی ہے۔ مگر میں اس روایت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میرے نزدیک ناگ نہ صرف کشمیر کے ابتدائی باشندے تھے، بلکہ اس تہذیب کی سب سے گہری تہہ بھی تھے….وہ تہہ جس پر بعد کی ساری تاریخ کھڑی ہے۔“
کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی۔
یہ خاموشی سوال کی نہیں تھی…..یہ سمجھ کی خاموشی تھی۔
جذلان محسوس کر رہا تھا کہ دادو نے آج تاریخ کو کسی تخت یا جنگ سے نہیں، بلکہ پانی کے ایک چشمے سے جوڑ دیا ہے اور شاید… یہی کشمیر کو سمجھنے کا اصل راستہ تھا۔
جذلان نے بات میں مداخلت کرتے ہوئے قدرے سنجیدہ لہجے میں کہا:
”پروفیسر کول صاحب کہتے ہیں کہ اگر ناگ واقعی کشمیر کے ابتدائی باشندے تھے تو اس کا کوئی واضح ثبوت آثارِ قدیمہ سے کیوں نہیں ملتا؟“
دادو نے فوراً سر ہلایا، جیسے وہ اس سوال کے منتظر ہی تھے۔
”اس میں کوئی دو رائے نہیں،” دادو بولے۔
”ناگوں کے بارے میں ہمارے پاس براہِ راست آثارِ قدیمہ کا ثبوت موجود نہیں۔ نہ کوئی مہر، نہ کوئی کتبہ، نہ کوئی ایسی مادی شہادت جو انگلی رکھ کر دکھائی جا سکے۔“
انہوں نے ذرا توقف کیا، پھر بات کو گہرائی میں لے گئے۔
” بعض مورخین کی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ صرف مٹی میں دفن چیزوں کو تاریخ مان لیتے ہیں اور انسانی یادداشت کو نظرانداز کر دیتے ہیں ۔ اساطیر کو یوں ردّ نہیں کیا جا سکتا جیسے وہ محض افسانے ہوں۔“
دادو کی آواز میں اب یقین تھا۔
“میں تمہیں اس کی مثالیں ” گلگامش اور ٹروجن وار“ کی شکل میں پہلے بھی دے چکا ہوں۔
دادو نے نرمی سے نتیجہ اخذ کیا:
”اس لیے اگر ناگوں کا مادی ثبوت ابھی تک نہیں ملا، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تھے ہی نہیں۔ بعض اوقات تاریخ پہلے کہانی بن کر زندہ رہتی ہے اور بہت بعد میں مٹی اس کی گواہی دیتی ہے۔“
انہوں نے جذلان کی طرف دیکھا۔
”کشمیر کے قدیم انسان نے پتھر کم چھوڑے،…. یادیں زیادہ۔ چشمے، نام، رسومات….یہ سب غیر تحریری آثارِ قدیمہ ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ناگوں کا ثبوت نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم ثبوت کو صرف ایک ہی شکل میں دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔“
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
یہ خاموشی اس سوال کی تھی جس کا جواب ابھی زمین کے نیچے کہیں پوشیدہ تھا….اور وقت، حسبِ معمول، اپنا کام آہستہ آہستہ کر رہا تھا۔(جاری)

