محمد سلیم سالک
نادیہ کو اب صاف محسوس ہو چکا تھا کہ خاصا وقت بیت چکا ہے اور اب رخصت ضروری ہے۔ گفتگو کے دوران ایک انجانی سی خاموشی در آئی تھی۔وہ خاموشی جو تھکن کی نہیں بلکہ بھرپور دن کے اختتام کی ہوتی ہے۔ اس نے گھڑی پر نظر ڈالی اور آہستہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ دلیپ نے اس اشارے کو فوراً سمجھ لیا۔
دادو نے بھی یہ کیفیت بھانپ لی۔ بات خود ہی سمیٹتے ہوئے بولے:
“بس بچو، آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ بات اگر دل میں اتر جائے تو زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ باقی پھر کبھی۔”
نادیہ نے ادب سے سر جھکایا۔ دلیپ نے آگے بڑھ کر دادو کے ہاتھ چومے۔
دادو نے بھی ازراہ شفقت دلیپ اور نادیہ کے سر پر ہاتھ کر آشیرواددیا اور ساتھ ہی کہا۔
”یہان آیا کریں ۔مجھے تم لوگوں سے بات کرنے میں بڑا مزا آیا۔ ”
نیک خواہشات کا اظہار کرنے کے بعد دادو بیٹھک سے نکل گءے۔
جذلان وہیں کھڑا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ایک عجیب سی کیفیت میں، جیسے وقت اس کے ہاتھوں سے آہستہ آہستہ پھسل رہا ہو۔
دروازے کے قریب پہنچ کر نادیہ ایک لمحے کو رکی اور جذلان کی طرف دیکھا۔ جیسے کوئی بات مدت سے دل میں ٹھہری ہو اور اب لفظ چاہتی ہو۔
” جذلان… اگر ممکن ہو تو… میں دادو کی لائبریری دیکھنا چاہتی ہوں۔”
یہ محض تجسس نہ تھا بلکہ ایک دیرینہ آرزو تھی، جیسے کسی مقدس جگہ میں داخلے کی اجازت مانگی جا رہی ہو۔ دلیپ نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
”ہاں، میں بھی، دادو کی لائبریری دیکھنا چاہتا ہوں۔”
جذلان مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں ہلکی سی احتیاط شامل تھی۔
“میں دادو سے اجازت لے آتا ہوں۔”
وہ اندر گیا۔ دادو حسبِ معمول اپنی کرسی پر بیٹھے تھے، جیسے وقت ان کے گرد نہیں بلکہ ان کے اندر ٹھہرا ہو۔ جذلان نے بات رکھی۔ دادو نے لمحہ بھر آنکھیں بند کیں، پھر دھیرے سے بولے:
“جاؤ… شوق سے انہیں لائبریری دکھاؤ۔”
اجازت ملتے ہی نادیہ، دلیپ اور جذلان دوسری منزل کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ لکڑی کی ریلنگ پر ہاتھ پھسلتا تو پرانی خوشبو ساتھ چلنے لگتی۔۔۔کاغذ، دھول، وقت اور تنہائی کی ملی جلی مہک۔
جوں ہی لائبریری کا دروازہ کھلا، اندر داخل ہوتے ہی نادیہ اور دلیپ کی آنکھوں میں حیرت پھیل گئی۔وہ حیرت جو دیکھنے سے پہلے ہی دل میں جنم لے لیتی ہے۔ چاروں طرف کتابیں ہی کتابیں تھیں۔ فرش سے چھت تک الماریاں اور ان میں موٹی موٹی کتابیں۔۔۔ کچھ پرانے کپڑے میں لپٹی ہوئیں، کچھ چمڑے کی پشت کے ساتھ اور کچھ کے کنارے وقت نے کتر دیے تھے۔ یہ محض ایک کمرہ نہیں تھا بلکہ ایک الگ دنیا تھی۔۔۔۔ایسی دنیا جہاں انسان پوری عمر گزار دے اور پھر بھی تشنہ رہے۔
نادیہ آہستہ آہستہ آگے بڑھی۔ انگلیوں کی پوروں سے کتابوں کی پشت چھوتی ہوئی، جیسے کسی زندہ شے کو محسوس کر رہی ہو۔
“یہ صرف کتابیں نہیں ہیں…”
اس کی آواز مدھم تھی۔
“یہ سانس لیتی ہوئی یادیں ہیں۔”
ایک جانب تاریخ، سماجیات، معاشیات ،بشریات اور ادبیات ۔۔۔۔ دوسری طرف چار پانچ الماریوں میں خاص طور پر کشمیر سے متعلق کتابیں سجی تھیں۔
نادیہ نے ایک موٹی سی کتاب ” تاریخ کشمیر ” نکالی۔ اس پر وقت کی گرد جمی تھی۔ اس نے بے اختیار کتاب کو سینے سے لگا لیا، جیسے کوئی بچھڑا ہوا اپنا مل گیا ہو۔
دلیپ ایک گوشے میں خاموش کھڑا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
“یہ لائبریری نہیں، بلکہ کتابوںکا نگارخانہ ہے ۔…”
اس نے آہستہ سے کہا۔
جذلان کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔ اس کے لیے یہ جگہ نئی نہ تھی، مگر آج پہلی بار اسے شدت سے احساس ہوا کہ اس کا بچپن، اس کی تربیت اور اس کی سوچ۔۔۔۔سب انہی شیلفوں کے درمیان کہیں بکھرے پڑے ہیں۔ اسے یوں لگا جیسے ہر کتاب اسے پہچان رہی ہو اور کہہ رہی ہو: تم ہم سے بنے ہو۔
لائبریری سے نکلتے ہی نادیہ نے کہا ۔
“کچھ جگہیں انسان کو بدل دیتی ہیں…”
“اور کچھ اسے یاد دلاتی ہیں کہ وہ اصل میں کیا ہے،”
جذلان نے جملہ مکمل کیا۔
گیٹ تک پہنچ کر نادیہ نے جذلان کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں تشکر جھلک رہا تھا۔ دلیپ نے آخری بار جذلان سے ہاتھ ہلایا اور دونوں رخصت ہو گئے۔
جذلان دیر تک انہیں گیٹ کے چھوٹے دورازے سے دیکھتا رہا۔ جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے تو اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ دل میں شکر تھا، آنکھوں میں نمی اور ذہن میں یہ یقین کہ آج کا دن محض یادگار نہیں بلکہ اس کی زندگی کے اہم دنوں میں شامل ہو چکا ہے۔
نادیہ اور دلیپ کے جانے کے بعد جذلان سیدھے دادو کمرے میں گءے ۔
دادو نے آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر جذلان کو اپنے پاس بٹھایا۔ ان کی گرفت میں شفقت تھی اور آواز میں وہی ٹھہراؤ، جو بات کو نصیحت نہیں بلکہ امانت بنا دیتا ہے۔
“برخوردار…” دادو بولے۔
“تم خوش نصیب ہو کہ تمہیں ایسے ساتھی ملے ہیں جنہیں تاریخ سے دل چسپی ہے۔ اکثر لوگ ماضی کو بوجھ سمجھتے ہیں اور تمہارے دوست اسے سوال بنا کر دیکھتے ہیں۔”
جذلان خاموشی سے سنتا رہا۔ دادو کی باتوں میں تعریف کم اور ذمہ داری زیادہ تھی۔
دادو نے سلسلہ آگے بڑھایا:
“کشمیر کی قبل از تاریخ ایک ایسا خزانہ ہے جس کا بڑا حصہ اب تک دریافت نہیں ہو سکا۔ جو کچھ ہمیں معلوم ہے، وہ مکمل تصویر نہیں بلکہ اس کا ایک محدود حصہ ہے۔”
یہ سن کر جذلان کے چہرے پر حیرت نمایاں ہو گئی۔
“دادو…” اس نے قدرے بے قراری سے پوچھا۔
“کیا کبھی وہ سب بھی منظرِ عام پر آئے گا؟”
دادو کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔۔۔۔ایسی مسکراہٹ جس میں یقین بھی تھا اور احتیاط بھی۔
“تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال یاد رکھو،” انہوں نے کہا۔
“آئس برگ کا جو حصہ ہمیں نظر آتا ہے، وہ اصل کا محض تھوڑا سا ہوتا ہے۔ بڑا حصہ پانی کے نیچے چھپا رہتا ہے۔ کشمیر کی تاریخ بھی آئس برگ کی مانند ہے ۔”
انہوں نے زمین کی طرف ہلکا سا اشارہ کیا۔
“جو ہمیں کھنڈرات، متون اور ناموں کی صورت میں دکھائی دیتا ہے، وہ نمایاں حصہ ہے۔ اس سے کہیں زیادہ کہانیاں، زندگیاں اور حقیقتیں یا تو مٹی میں دفن رہ جاتی ہیں یا انسانی یادداشت میں۔”
دادو کی آواز میں اب فکری گہرائی اتر آئی تھی۔
“اسی لیے تاریخ ہمیشہ زیرِ بحث رہتی ہے۔ اختلاف اس لیے نہیں ہوتا کہ تاریخ کمزور ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ مکمل نہیں۔ ہر نسل اسے اپنے سوالوں کے ساتھ دوبارہ پڑھتی ہے۔”
جذلان نے سر جھکا لیا۔ اسے یوں لگا جیسے دادو نے آج اسے صرف ایک سبق نہیں دیا بلکہ ایک راستہ دکھا دیا ہو۔۔۔ایسا راستہ جس میں جواب کم اور سوال زیادہ ہیں۔
آخر میں دادو نے بس اتنا کہا:
“اور یہی سوال، برخوردار، تاریخ کو زندہ رکھتے ہیں۔”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔۔۔مگر یہ خاموشی خالی نہ تھی؛ اس میں آنے والی صدیوں کی گونج تھی۔(جاری)

