کلاس روم میں ہلکی سی خاموشی تھی، مگر یہ خاموشی سکون کی نہیں بلکہ کل والی کلاس کے تسلسل کے انتظار کی تھی۔ کھڑکیوں سے سرد ہوا کے جھونکے آ رہے تھے اور بلیک بورڈ پر ابھی تک کل پڑھایا گیا عنوان مدھم سا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ عنوان جذلان کے لیے محض ایک لفظ نہیں تھا۔ وہ اس تسلسل کا نقط آغاز تھا جسے وہ سمجھنا چاہتا تھا۔ اس کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا۔
کل برزہوم پر بات ختم ہوئی تھی، اب اس کے بعد کیا؟
اسی لمحے پروفیسر صاحب کلاس میں داخل ہوئے ۔انہوں نے عینک درست کی اور طلبہ پر ایک گہری نظر ڈالی….ایک ایسی نظر جو جذلان کی جستجو، نادیہ کی بےقراری اور دلیپ کی سنجیدہ سوچ کو ایک ساتھ پڑھ رہی تھی اور جو اس بات کی گواہ تھی کہ آج کی کلاس محض معلومات کی نہیں بلکہ فہم کے ایک نئے مرحلے کی ابتدا ہونے والی ہے۔
پروفیسر صاحب نے ذرا سا کھنکھارتے ہوئے خاموشی کو توڑا۔کلاس روم فوراً متوجہ ہو گیا۔ قلم رک گئے، سر اٹھ گئے اور وہ بے چینی جو ابھی تک منتشر تھی، یکسو ہو گئی۔
انہوں نے آہستہ مگر باوقار لہجے میں کہا:
”اب ہم برزہوم کے بعد ایک ایسے قدیم مقام کی طرف بڑھتے ہیں جو کشمیر کی قبل از تاریخ کو ایک نیا زاویہ دیتا ہے… گوپھ کرال۔“
لفظ گوپھ کرال سنتے ہی کلاس پر عجب سی خاموشی چھا گئی۔یوں محسوس ہوا جیسے سبھی طلبہ لاشعوری طور پر کسی تاریک مگر مانوس غار میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے ہوں۔ وقت ٹھہر سا گیا اور فضا میں مٹی، نمی اور قدامت کی ایک انجانی سی خوشبو گھل گئی۔
پروفیسر صاحب نے اس خاموشی کو جان بوجھ کر چند لمحے برقرار رکھا، پھر طلبہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا:
”کیا کسی نے گوپھ کرال کے بارے میں پہلے کچھ سنا ہے؟“
کسی نے فوراً جواب نہ دیا۔
تب جذلان نے ہلکی سی جھجک کے ساتھ ہاتھ اٹھایا اور کہا:
”سر… میں نے گوپھ کرال کے بارے میں دادو سے تھوڑا بہت سنا ہے۔“
پروفیسر صاحب کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
”اچھا….؟“
انہوں نے محبت بھرے انداز میں کہا۔
”’تو پھربتاو جذلان … دادو گوپھ کرال کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟“
جذلان اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کی آواز میں جوش بھی تھا اور احترام بھی۔
”سر…. دادو کہتے ہیں کہ گوپھ کرال میں قدیم زمانے کے غاروں میں کمہار رہا کرتے تھے،جو مٹی کے برتن بناتے تھے۔اسی لیے اس جگہ کا نام گوپھ کرال پڑ گیا….گوپھ یعنی غار اور کرال یعنی کمہار۔“
کلاس میں ہلکی سی سرگوشی پھیل گئی، جیسے سب اس تصور کو ذہن میں سجا رہے ہوں۔اسی لمحے نادیہ نے گفتگو کو آگے بڑھایا۔ اس کی آواز میں سوال بھی تھا اور جستجو بھی۔
”سر…. تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ برزہوم کے لوگوں نےPet Dwellingسے ترقی کر کے Cavesمیں رہنا شروع کیا؟یعنی یہ ایک ارتقائی قدم تھا؟“
پروفیسر صاحب نے جواب دینے سے پہلے کچھ نہ کہا۔وہ بس نادیہ کو دیکھتے رہے….ایسے جیسے سوال کے اندر چھپی سنجیدگی کو پرکھ رہے ہوں۔تب دلیپ بھی بحث میں شامل ہو گیا۔ اس کا لہجہ متوازن مگر پرعزم تھا۔
”سر…. میرا سوال یہ ہے کہ کیا گوپھ کرال، برزہوم ہی کا تسلسل ہے؟ یا پھر یہ ایک الگ، نئی تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے؟“
یہ تینوں سوال….جذلان کی روایت،نادیہ کا ارتقااور دلیپ کا تنقیدی زاویہ….کلاس روم میں ایک مثلث کی صورت قائم ہو گئے۔
پروفیسر صاحب نے گہرا سانس لیا۔ان کی آنکھوں میں خوشی کی ایک دھیمی سی چمک تھی۔
”مجھے خوشی ہے….“
انہوں نے آہستہ مگر بھرپور لہجے میں کہا۔
”کہ اب میرے طلبہ محض سننے والے نہیں رہے،بلکہ سمجھنے، جوڑنے اور سوال کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔“
انہوں نے ایک لمحے کو توقف کیا، پھر کہا۔
”گوپھ کرال کو سمجھنے کے لیے ہمیں روایت، آثار اور عقل….تینوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔کیونکہ تاریخ نہ صرف زمین میں دفن ہوتی ہے،بلکہ ذہنوں میں بھی آہستہ آہستہ کھلتی ہے۔“
کلاس روم میں ایک گہری خاموشی اتر آئی….وہ خاموشی جو الجھن کی نہیں،سمجھ کے آغاز کی ہوتی ہے۔
پروفیسر صاحب نے حسب روایت موضوع کو آگے بڑھایا۔
”جس طرح ہم نے برزہوم کے سلسلے میں ٹی۔این۔خزانچی کی خدمات کا تفصیل سے تذکرہ کیا تھا، بالکل اسی طرح گوپھ کرال کو سمجھنے سے پہلے ہمیں ایک اہم نام ذہن میں رکھنا ہوگا ۔جسے دنیا A K Sharma کے نام سے جانتی ہے ۔“
جذلان نے فوراً قلم سیدھا کر لیا۔ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ یہ محض تعارف نہیں بلکہ کسی بڑے علمی ربط کی تمہید ہے۔
نادیہ کی نظریں اب بلیک بورڈ سے ہٹ کر براہِ راست پروفیسر صاحب پر تھیں۔ وہ جانتی تھی کہ یہاں سے بحث کا زاویہ بدلنے والا ہے۔دلیپ نے کرسی پر ذرا سا پہلو بدلا، جیسے ذہن کو ایک نئے ماہرِ آثارِ قدیمہ کے نام کے مطابق ترتیب دے رہا ہو۔
پروفیسر صاحب نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
”ارون کمار شرما المعروف اے ۔کے شرما،ان ماہرین آثارقدیمہ میں شمارہوتے ہیں جنہوں نے1981 میں گوپھ کرال کے مقام کو قیاس کے بجائے کھدائی، طبقاتی تجزیے اور مادی شواہد کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کی۔ گوپھ کرال میں ان کی تحقیق نے یہ واضح کیا کہ نیولیتھک دور کشمیر میں کسی ایک ہی نمونے کا پابند نہیں تھا، بلکہ اس کے اندر مقامی تنوع اور ارتقائی مراحل موجود تھے۔“
انہوں نے لمحہ بھر توقف کیا، جیسے طلبہ کو اس نکتے کی گہرائی تک اترنے کا موقع دے رہے ہوں، پھر دھیرے سے کہا:
”اس لیے ہمیں گوپھ کرال کو صرف ایک مقام نہیں بلکہ ایک فکری چیلنج سمجھ کر پڑھنا ہوگااور اس چیلنج کی کنجی اے کے شرما کے ایک تحقیقی مقالہ Gufkral 1981: An Aceramic Neolithic Site in the Kashmir valleyمیں پوشیدہ ہے۔“
تبھی پروفیسر صاحب کی نظر گھڑی پر پڑی۔سوئی آگے سرک چکی تھی اور انہیں فوراً احساس ہو گیا کہ پیریڈ اپنی حد کو چھو چکا ہے۔ وقت، جو ابھی تک ماضی میں ٹھہرا ہوا تھا، اچانک حال میں لوٹ آیا۔
انہوں نے ہلکے سے گلا صاف کیا اور اپنی بات سمیٹتے ہوئے کہا:
”لگتا ہے آج کا وقت یہیں پورا ہو گیا ہے۔کل ہم گوپھ کرال کو زمانی ترتیب کے ساتھ، مرحلہ وار سمجھنے کی کوشش کریں گے“
جذلان نے نوٹ بک بند کی، مگر اس کے چہرے سے صاف معلوم ہورہا تھا کہ سوال ابھی زندہ ہیں۔نادیہ نے ایک لمحے کو بلیک بورڈ کی طرف دیکھا، جیسے لفظ گوپھ کرال کو ذہن میں محفوظ کر رہی ہو۔دلیپ خاموش تھا، مگر اس خاموشی میں تسلسل کی ایک ضد شامل تھی۔
پروفیسر صاحب نے فائل اٹھائی، کلاس پر ایک آخری نظر ڈالی اور آہستہ سے کہا۔
”تاریخ کبھی ایک دن میں مکمل نہیں ہوتی۔اسے سمجھنے کے لیے وقفہ بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے جتنا مطالعہ۔“
بیل بجی۔مگر کلاس روم میں ماضی کی گونج ابھی باقی تھی۔(جاری)

