جذلان کے لیے وہ خواب محض ایک باطنی کیفیت نہیں تھا، بلکہ ایک فکری اشارہ تھا۔ وہ جان چکا تھا کہ تاریخ صرف وہ نہیں جو لکھی جائے، بلکہ وہ بھی ہے جو سمجھی جائے۔ انسان جب پہلی بار مٹی کو برتن کی صورت دیتا ہے، آگ کو نقصان کے بجائے تحفظ میں بدلتا ہے اور غار کو وقتی پناہ کے طور پر برتتا ہے….تو وہ دراصل تاریخ کے ایک مرحلے میں داخل ہو چکا ہوتا ہے، چاہے اسے اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔
صبح کی روشنی کمرے میں پھیل رہی تھی۔ باہر زندگی اپنے معمول کے مطابق رواں تھی، مگر جذلان کے اندر سوالوں کی ایک نئی ترتیب قائم ہو چکی تھی۔ اب وہ جانتا تھا کہ تہذیب کسی اچانک وارد ہونے والا واقعہ نہیں، بلکہ مسلسل فیصلوں، تجربات اور ناکامیوں کا حاصل ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں تخیل ختم اور فہم شروع ہوتا ہے۔
گوپھ کرال کے لوگ کسی اساطیری داستان کا حصہ نہیں تھے۔ وہ سوال کرنے والے انسان تھے….مگر زبان کے بغیر۔ ان کے سوال الفاظ میں نہیں، عمل میں تھے۔
کون سی مٹی آگ میں ٹوٹتی نہیں؟
کس حد تک آگ نقصان دہ ہے اور کس لمحے مفید؟
غار کب تحفظ دیتا ہے اور کب انسانی پیش رفت میں رکاوٹ بن جاتا ہے؟
یہی سوال آج جذلان کے سوال تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ آج انسان ان سوالوں کو کتابوں میں لکھتا ہے اور اس وقت انہیں زندگی میں آزماتا تھا۔
ناشتہ کرتے ہوئے جب جذلان نے اپنا خواب دادو کو سنایا تو دادو نے مسکرا کر بات کا رخ خواب سے تاریخ کی طرف موڑ دیا۔
”برخوردار….،“
” دادو نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
”یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ خواب ہمیں سمت دکھاتا ہے، مگر تحقیق ہمیں زمین پر کھڑا کرتی ہے۔ جو خواب تم نے دیکھا، وہ حقیقت سے قریب ضرور ہے، لیکن جب تک آثارقدیمہ اس بات کی تائید نہیں کرتے ،خواب کو تاریخ کا حصہ نہیں بناسکتے ہیں ۔“
دادو کی بات میں جذبات نہیںبلکہ تجربہ بول رہا تھا ۔
“تاریخ کے طالب علم کا کام یہ نہیں کہ وہ ماضی کو خوبصورت بنائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ثبوت، تہہ اور تسلسل کو سمجھے۔ گوپھ کرال کو سمجھنے کے لیے تمہیں وہاں کے برتن، راکھ، مٹی اور رہائش کے نمونے سمجھنے ہوں گے“
دادو کی باتیں جذلان کے لیے مشعل راہ تھیں۔ اس نے ناشتہ ختم کیا اور کالج کی طرف روانہ ہو گیا، اس یقین کے ساتھ کہ اب وہ تاریخ پڑھنے نہیں، تاریخ کو سمجھنے جا رہا ہے۔
کالج کی راہداری میں ہلکی سی گونج تھی۔ طلبہ اپنی نشستوں پر آ چکے تھے، مگر کمرے میں ایک غیر محسوس انتظار پھیلا ہوا تھا….ایسے کوئی سلسلہ آگے بڑھنے کو ہو۔ اتنے میں دروازہ آہستہ سے کھلا اور پروفیسر کول اندر داخل ہوئے۔ ان کے قدموں میں جلدی نہ تھی، مگر ٹھہراو ایسا تھا جو خاموشی پیدا کر دے۔
انہوں نے بغیر کسی تمہید کے بلیک بورڈ کی طرف رخ کیا، مارکر اٹھایا اور واضح حروف میں لکھا:
GUFKRAL ….گوپھ کرال
مارکر کی ہلکی سی چرچراہٹ کے ساتھ جیسے وقت کی ایک تہہ کھل گئی ہو۔
پروفیسر کول نے بورڈ سے پیچھے ہٹ کر کلاس پر ایک نظر ڈالی۔ ان کی خاموشی سوالیہ تھی، جیسے وہ طلبہ کے ذہنوں میں ابھرنے والی الجھنوں کو سن رہے ہوں۔
“اب ذرا غور کرو….“
”گوپھ کرال کی غاریں کریوا کی دامن میں کیوں بنائی گئی ہے ۔یہ محض جغرافیہ نہیں….یہ ایک سوال ہے۔اور اس سوال کا جواب دینے کے لئے گڈ ون آسٹن (Goodwin Austen) کوبرطانیہ سے کشمیر آنا پڑا۔گڈون آسٹن نہ مورخ تھا،نہ ماہرِ آثارِ قدیمہ اور نہ ہی کسی مقامی روایت کا نمائندہ۔وہ ایک برطانوی ماہرِ ارضیات (Geologist) تھا، انیسویں صدی کے وسط میں Geological Survey of India کے تحت برصغیر اور ہمالیائی علاقوں میں فیلڈ ورک کر رہا تھا۔وہ زمین کی تہیں پڑھنا جانتا تھا،چٹان اور مٹی میں فرق پہچانتا تھااور قیاس کے بجائے مشاہدے پر یقین رکھتا تھا،وہ 1857–1858 کے قریب کشمیر آیا،زمین کو دیکھا،کٹی ہوئی کریوا تہوں کو پڑھااور پھر 1859 میںانہوںنے اپنا نظریہ ”On the lacustrine or Karéwah deposits of Kashmir“پیش کردیا ۔
پروفیسر صاحب نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے موضوع کو آگے بڑھایا۔
”گڈون آسٹن کے مطابق کشمیر کی وادی پہلے ایک بڑی میٹھے پانی کی جھیل تھی۔ اس جھیل میں وقت کے ساتھ پہاڑوں سے آنے والی مٹی، باریک مٹی، ریت اور بجری آہستہ آہستہ نیچے بیٹھتی رہی۔ چونکہ جھیل کا پانی پرسکون تھا، اس لیے یہ مٹی سیدھی اور تہہ در تہہ جمع ہوئی۔ یہی جمع ہونے والی مٹی بعد میں وڈر یا کریوا کہلائی۔ یہ ندی یا اچانک سیلاب سے نہیں بنی، بلکہ ایک لمبے اور قدرتی عمل سے بنی۔ جب جھیل ختم ہو گئی تو دریاوں نے کچھ مٹی کاٹ کر بہا دی، مگر جو حصہ مضبوط ہو چکا تھا وہ اونچی، ہموار زمین کی شکل میں باقی رہ گیا۔ آج ہم اسی ہموار اونچی زمین کو وڈر یا کریواکہتے ہیں۔“
نادیہ نے سوال کرتے ہوئے کہا ۔
”سر …. یہ کیسے معلوم ہوا کہ گوپھ کرال میں انسانی آبادی ممکن ہے ؟“
پروفیسر صاحب نے نادیہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ۔
” دیکھو نادیہ ….، اس پوری کہانی کی ایک سیدھی سی ترتیب ہے۔ 1859 میںگڈون آسٹن کے مقالے کے ذریعے پہلی بار یہ سائنسی حقیقت واضح ہوئی کہ کریوا کوئی عام زمین نہیں بلکہ قدیم میٹھے پانی کی جھیل کی بنی ہوئی رسوبات (Sediments) ہیں اور یوں اسی وقت کریوا کی ارضی اہمیت سامنے آئی۔ اس فہم کے ایک صدی بعد1960 سے 1962 کے دوران ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے اسی بنیاد پرکریوا کے کناروں میں انسانی آثار کی تلاش شروع کی، جس کے نتیجے میں گوپھ کرال کی بطور ایک ممکنہ مقام نشاندہی ہوئی اور پھر 1981 میں اسی نشاندہی کو آگے بڑھاتے ہوئے گوپھ کرال میں باقاعدہ اے کے شرما کی نگرانی میں کھدائی کی گئی، جس نے ثابت کر دیا کہ یہ مقام نیو لتھک دورسے تعلق رکھتا ہے….یعنی پہلے زمین کو سائنسی طور پر سمجھا گیا، پھر اسی زمین پر انسان کی قدیم موجودگی دریافت ہوئی۔
دلیپ نے نہایت ہی معصوم انداز میں سوال کیا ۔
” سر….کیا گڈون صاحب نے یہ بتایا کہ گوپھ کرال میں کون لوگ رہتے تھے “۔
پروفیسر صاحب نے بات سمیٹتے ہوئے کہا ۔
”گڈون آسٹن نے یہ نہیں بتایا کہ گوپھ کرال میں کون رہتا تھا۔انہوں نے صرف یہ بتایا کہ وہ زمین کیسی تھی جس پر انسان رہ سکا۔ اور یہی وجہ ہے کہ کریوا کو سمجھے بغیرگوپھ کرال کبھی مکمل سمجھ میں نہیں آتا۔“
ابھی پروفیسر صاحب گڈون آسٹن کے متعلق بات کرہی رہے تھے کہ پریڈ ختم ہونے کی گھنٹی بج گئی ۔(جاری)

