پیریڈکے ختم ہوتے ہی پروفیسر صاحب کلاس روم سے باہر نکلے۔ قدموں میں وہی ٹھہراو، جیسے وقت کو ساتھ لے کر چل رہے ہوں ۔ جذلان، نادیہ اور دلیپ بھی خاموشی سے ان کے پیچھے ہو لیے۔ راہداری میں گونجتی بیل کی آواز پیچھے رہ گئی۔اسٹاف روم کا دروازہ کھلا تو اندر ایک الگ دنیا تھی۔ دیواروں پر دھندلی تصویریں، ایک کونے میں لکڑی کی الماری….جس کے شیشے کے پیچھے فائلیں اور چند پرانی جرنلز ایسے رکھے تھے جیسے کسی نے انہیں وقت سے بچا کر سمیٹ دیا ہو۔ کھڑکی سے آتی روشنی فرش پر مستطیل بناتی تھی۔
پروفیسر صاحب نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے تینوں کو قریب آنے کو کہا۔ وہ ہلکی سی جھجک کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ دلیپ صوفہ کے کنارے پر، نادیہ سیدھی کمر کے ساتھ اور جذلان ذرا پیچھے، جیسے سننے کو زیادہ، بولنے کو کم آیا ہو۔
پروفیسر صاحب نے بیل بجا کر چائے منگوائی۔
”سردی میں بات گرم رہے تو سمجھ بھی گرم رہتی ہے۔“
انہوں نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
چائے کے آنے تک کمرے میں خاموشی رہی….مگر وہ خاموشی بوجھل نہیں تھی۔ نادیہ نے اس خاموشی کو توڑا۔
”سر… ابھی آپ کریوا کی تشکیل سمجھا رہے تھے ۔۔۔تو اس سے یہی سمجھ آتی ہے کہ گوپھ کرال کی یہ ‘غاریں’ فطری نہیں، انسانی تراش کی ہوئی ہیں؟“
پروفیسر صاحب نے نظریں اٹھائیں۔ آواز دھیمی تھی، مگر مفہوم صاف تھا۔
”ہم جب ”گوپھ“ کہتے ہیں تو فوراً پتھر کی غار ذہن میں آتی ہے۔ مگر گوپھ کرال میں یہی لفظ ہمیں دھوکا دیتا ہے۔ یہاں غار فطرت کی نہیں….انسان کی تراشی ہوئی ہے… کریوا کی مٹی میں۔ یہ فرق چھوٹا نہیں، بنیادی ہے۔“
دلیپ نے صوفے کے کنارے سے سر اٹھایا۔
”تو سر… کیا اسے غار کہنا غلط ہے؟“
پروفیسر صاحب کے چہرے پر وہی مسکراہٹ آئی….جو جواب سے پہلے ذہن کو تیار کرتی ہے۔
”غلط نہیں، مگر نامکمل۔ اسے یوں سمجھو۔ یہ غار جیسی رہائش ہے، مگر غار نہیں۔ یہPit Dweliling ہے….زمین میں اتری ہوئی انسانی رہائش۔ تحفظ بھی دیتی ہے، موسم سے ہم آہنگ بھی ہے۔“
اسی لمحے چائے آ گئی۔ کپ میز پر رکھے گئے۔ بھاپ اٹھتی رہی….جیسے باتوں کو بھی سانس مل گئی ہو۔
پروفیسر صاحب نے سلسلہ آگے بڑھایا۔
”یہ رہائش ہمیں بتاتی ہے کہ یہاں رہنے والا انسان محض چھپ نہیں رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا، تجربہ کررہا تھا اور مٹی کو اپنے تابع لا رہا تھا۔ کمہار ہونا محض پیشہ نہیں تھا….یہ ایک طرزِ فکر تھا۔“
جذلان خاموش تھا۔ غیر معمولی حد تک خاموش۔ اس کی نگاہیں سامنے رکھی فائل پر تھیں، مگر ذہن کہیں اور۔ کریوا کی مٹی… زمین میں اتری ہوئی رہائش… خواب میں دیکھی دیواریں… اسے یوں محسوس ہوا جیسے خواب نے اسٹاف روم میں آ کر اپنی جگہ بنا لی ہو۔
پروفیسر صاحب نے اب گوپھ کرال ٹیلے کا ذکر چھیڑا۔
”یہ بستی ایک بلند کریوا ٹیلے پر قائم ہے۔ ڈھلوانوں میں مختلف ساخت کی رہائشیں….کچھ ایک کمرے کی، کچھ کئی کمروں اور ستونوں کے ساتھ۔ یہ اتفاق نہیں۔ یہ منصوبہ بندی ہے….ضرورت کے مطابق کی گئی۔“
نادیہ نے دھیرے سے پوچھا:
”سر… یہ رہائشیں کب تک استعمال میں رہیں؟“
پروفیسر صاحب نے کپ رکھتے ہوئے کہا۔
”ماضیِ قریب تک۔ یہاں کمہاروں کی نسلیں آباد رہیں۔ میر گاوں کے کمہاروں کا دعویٰ ہے کہ ان کے آبا و اجداد ہزاروں برس سے گوپھ کرال میں سکونت پذیر تھے۔“
پھر ذرا ٹھہر کر بولے:
”’ یہی بات گوپھ کرال کو محض کھنڈر نہیں رہنے دیتی۔ جنوب مشرقی جانب چند رہائشیں آج بھی کرال برادری کے زیرِ استعمال ہیں….رہائش بھی، ذخیرہ بھی۔ تہذیب یہاں ختم نہیں ہوئی….اس نے صرف شکل بدلی ہے۔“
یہ جملہ سنتے ہی جذلان کے اندر کوئی چیز ٹھہر گئی۔
دادو کی آواز اس کے ذہن میں گونجی۔
”آثار خاموش ہوتے ہیں، مگر جھوٹ نہیں بولتے۔“
پروفیسر صاحب نے گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا۔
”یاد رکھو….گوپھ کرال کو سمجھنے کے لیے صرف لفظ کافی نہیں۔ مٹی، راکھ، پرتیں، رہائش….یہ سب مل کر بولتے ہیں اور جب یہ بولتے ہیں، تو ہمیں خواب نہیں، فہم چاہیے۔“
اسی لمحے اسٹاف روم کے دروازے پر ہلکی سی آہٹ ہوئی۔ اگلے ہی لمحے دروازہ کھلا….پرنسپل صاحب اندر داخل ہوئے۔
ایک لمحے میں فضا بدل گئی۔
پروفیسر صاحب سمیت سب احتراماً کھڑے ہو گئے۔ چائے کے کپ میز پر رک گئے۔
پرنسپل صاحب کے چہرے پر شفیق سی مسکراہٹ تھی۔ انہوں نے کمرے پر ایک سرسری نظر ڈالی، پھر ہلکے طنزیہ انداز میں بولے:
”کول صاحب… آپ کی کلاس …. تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔“
پروفیسر صاحب نے بھی مسکرا کر جواب دیا، مگر لہجے میں سنجیدگی تھی۔
”سر… یہ تینوں کشمیر کی پری ہسٹری کے مطالعے میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے ہیں۔اسی لئے کلاس کے باہر بھی سمجھانے کا سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔“
پرنسپل صاحب نے فوراً برجستہ کہا:
”Good,very Good“
پھر چلتے چلتے رکے اور آدھا مڑ کر بولے۔
”کول صاحب….کبھی ہمیں بھی کشمیر کی قدیم تاریخ سے فیض یاب کیجیے گا۔ ہم انتظامیہ والے اکثر صرف فائلوں کی تاریخ پڑھتے رہتے ہیں، زمین کی نہیں۔“
یہ جملہ کہتے ہوئے ان کی مسکراہٹ میں ہلکی سی سنجیدگی در آئی….جیسے وہ خود بھی کسی جواب کی تلاش میں ہوں۔
پروفیسر صاحب نے سر جھکا کر کہا۔
”سر… تاریخ دراصل وہی ہے جو زمین سنبھال کر رکھتی ہے۔ بس سننے والا چاہیے۔“
پرنسپل صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور اسٹاف روم سے باہر نکل گئے۔
دروازہ بند ہوا تو جیسے ہوا پھر سے چلنے لگی۔
پرنسپل صاحب کے جانے کے بعد اسٹاف روم میں ایک گہری، بامعنی خاموشی اتر آئی۔ کھڑکی سے آتی روشنی ذرا سرک کر میز کے کنارے ٹھہر گئی۔۔۔جیسے گفتگو نے جگہ بدل لی ہو۔
پروفیسر صاحب نے صوفے کی پشت سے ٹیک ہٹا کر کہا:
”تم تینوں سے مجھے ایک بات کی امید ہے۔ لفظوں پر قناعت مت کرنا۔ مٹی کو پڑھو، پرتوں کو سمجھو اور دعویٰ ہمیشہ ثبوت کے ساتھ رکھو۔ کشمیر کی قدیم تاریخ جذبات نہیں مانگتی….فہم مانگتی ہے۔“
پروفیسر صاحب اٹھ کھڑے ہوئے۔ تینوں بھی احتراماً کھڑے ہو گئے۔
دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے پروفیسر صاحب نے آخری جملہ کہا:
”اگر کبھی خواب اور دلیل آمنے سامنے ہوں….تو دلیل کو آگے رکھنا۔ خواب خود اس کے پیچھے آ جائے گا۔“
جذلان سٹاف روم سے نکلتے ہی جان چکا تھاکہ آج کی یہ گفتگو محض لیکچر نہیں تھابلکہ اس خواب کی توثیق تھی، جو اس نے تنہا دیکھا تھا۔(جاری)

