• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Wednesday, April 1, 2026
Jammu Kashmir News Service | JKNS
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
Jammu Kashmir News Service | JKNS
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

64تمثیلِ رفتہ — قسط نمبر

(گزشتہ سے پیوستہ)انسانی ارتقاءکا ایک اہم پڑاو

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
April 1, 2026
in اردو خبریں
A A
64تمثیلِ رفتہ — قسط نمبر
FacebookTwitterWhatsapp

شام ڈھل رہی تھی۔دادو اپنی لائبریری میں بیٹھے تھے….وہی پرانی لائبریری، جہاں چاروں طرف کتابیں ہی کتابیں پھیلی تھیں۔ کچھ کھلی ہوئی، کچھ الٹی پڑی، کچھ کے درمیان کاغذ کے پرانے پرچے دبے ہوئے۔ لکڑی کی الماریوں سے کاغذ اور وقت کی ملی جلی خوشبو اٹھ رہی تھی۔ ایک کونے میں پیلے بلب کی ہلکی روشنی تھی، جو کتابوں کے حاشیوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑتی، جیسے لفظوں کو پڑھ رہی ہو۔
دادو عینک ناک پر جمائے ایک موٹی جلد کے صفحات الٹ رہے تھے۔ انگلیوں کی حرکت بتا رہی تھی کہ یہ محض مطالعہ نہیں …. واقفیت ہے۔اسی لمحے دروازہ ہلکے سے کھلااورجذلان اندر آیا۔
اس کے چہرے پر وہی کیفیت تھی جو سوال سے پہلے ہوتی ہے….نہ پوری بے چینی اور نہ مکمل سکون۔ وہ خاموشی سے کمرے کا جائزہ لیتا ہوا، کتابوں کے درمیان سے گزرتا، دادو کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
دادو نے سر اٹھائے بغیر کہا:
”آج تم بے چین لگ رہے ہو ۔خیریت ….“
جذلان ہلکا سا مسکرایا۔
”دادو… آپ کو کیسے پتا چلا؟“
دادو نے عینک اتاری اور اسے غور سے دیکھا۔
”جب کوئی نوجوان خاموش بیٹھے اور آنکھیں بھٹکتی رہیں….تو سمجھ لو اس کے دل میں بے چینی نے گھر بنالیا ہے ۔“
چند لمحے خاموشی رہی۔پھر جذلان نے دھیرے سے پوچھا۔
”دادو… کریوا کی یہ زمین… کیا یہ صرف کشمیر میں ہی پائی جاتی ہے؟ یا دنیا کے اور حصوں میں بھی ایسی زمینیں موجود ہیں؟“
دادو نے فوراً جواب نہیں دیا۔
انہوں نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی، نظریں سامنے رکھی کتابوں پر گھما دیں….جیسے یادداشت کی الماری کھول رہے ہوں۔ یہ توقف خالی نہیں تھا؛ اس میں ترتیب تھی۔انہوں نے ایک کتاب کھولی، چند صفحات پلٹے، پھر بولے:
“دنیا میں جہاں جہاں انسان نے مستقل رہائش اختیار کی، وہاں اکثر قدیم جھیلوں کے بیسن، لوئیس میدان یا دریائی رسوبی زمینیں ( Sedimentary soils) ملتی ہیں۔ افریقہ، اناطولیہ، ایران اور چین…. ہر جگہ انسان نے ایسی زمین منتخب کی جو زرخیز، مستحکم اور سیلابی خطرات سے نسبتاً محفوظ تھی۔“
جذلان ،دادو کی بات غور سے سن رہا تھا کہ اچانک اس کے منہ سے نکلا ۔
”دادو …. Sedimentary soils کیا ہوتی ہیں ؟“
دادو نے ذرا جھک کر کہا۔
”Sedimentary soils وہ زمین ہوتی ہے جس کی مٹی پہلے کہیں اور بنتی ہے، پھر پانی،پیڑ پودے، ہوا یا برف اسے اٹھا کر دوسری جگہ لا کر جمع کر دیتی ہے۔ جہاں یہ مٹی جمع ہو جاتی ہے، وہی زمین Sedimentary soil کہلاتی ہے۔ ندی کے کنارے سیلاب کے بعد جمنے والی نئی مٹی اس کی سب سے آسان اور واضح مثال ہے۔
جذلان نے بات سمجھتے ہوئے کہا ۔
”اس کا مطلب ہے کہ کریوا کی مٹی،بنیادی طورپر Sedimentary soilsسے بنتی ہے ۔“
دادو نے تائید کرتے ہوئے کہا ۔
”ہاں ….کشمیر میں جسے وڈریا کریوا کہا جاتا ہے، عالمی ارضیات میں اسےlake deposits، lacustrine deposits ، sedimentary terraces ،intermontane basin deposits،palaeolake sediments جیسے ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ سب دراصل قدیم جھیل کے خشک ہونے کے بعد باقی رہ جانے والی رسوبی زمینیں ہیں۔“
جذلان نے آہستہ سے کہا:
”دادو… تو اگلا سوال شاید یہ ہونا چاہیے کہ انسان نے کر یوا کو ہی کیوں چنا؟“
دادو نے کتاب بند نہیں کی۔وہ چند لمحے خاموش رہے….ایسی خاموشی جو جواب سے پہلے ذہن کو ترتیب دیتی ہے۔ پھر انہوں نے عینک ذرا اوپر سرکائی اور گہری آواز میں کہنا شروع کیا۔
”برخوردار… انسان زمین کو کبھی اتفاقاً نہیں چنتا۔ وہ بظاہر مجبوری میں فیصلہ کرتا ہے، مگر اس مجبوری کے پیچھے اس کی حکمت عملی ہوتی ہے۔ کریوا کو چننا بھی ایسا ہی فیصلہ تھا۔“
انہوں نے میز پر پھیلی کتابوں کی طرف اشارہ کیا۔
”ذرا ترتیب سے سمجھو۔“
پہلی بات: تحفظ
”جب قدیم جھیلیں خشک ہوئیں تو ان کے کنارے خطرناک تھے….دلدلی، غیر مستحکم، سیلاب کے امکان سے بھرپور۔ انسان نے فوراً سیکھ لیا کہ نیچی زمین اس کی دشمن ہے۔ کریوا چونکہ جھیل کے فرش سے ذرا بلند تھی، اس لیے یہ سیلاب، نمی اور بیماری سے نسبتاً محفوظ تھی۔ یہ انتخاب survival کا پہلا اصول تھا۔“
دادو نے وقفہ لیا، پھر بولے:
دوسری بات: موسمی ہم آہنگی
”کریوا کی مٹی نرم تھی مگر بہنے والی نہیں۔ سردیوں میں زمین میں اتری ہوئی رہائش(Pit Dwelling)گرمی محفوظ رکھتی تھی اور گرمیوں میں ٹھنڈک دیتی تھی۔ یعنی انسان نے نہ صرف زمین چنی، بلکہ رہائش کو موسم کے مطابق ڈھالا۔ یہ جبلّت نہیں، شعور ہے۔“
انہوں نے انگلی سے میز پر ہلکا سا دائرہ بنایا:
تیسری بات: زرعی امکان
”کریوا کی رسوبی مٹی(Sedimentary Soil) غذائی اجزا سے بھرپور تھی۔ جھیل کا نامیاتی مواد، ہزاروں برس کی تہیں….یہ سب بعد میں اناج کے لیے بہترین ثابت ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ تمہیں کریوا کے کناروں پر ابتدائی زراعت کے آثار ملتے ہیں۔ انسان نے وہ زمین چنی جو اسے بار بار چھوڑنے پر مجبور نہ کرے۔“
دادو کی آواز میں اب یقین تھا:
چوتھی بات: تسلسل
”انسان خانہ بدوشی سے نکل کر مستقل رہائش کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کریوا ایسی زمین تھی جو نسلوں کو سنبھال سکتی تھی۔ اسی لیے تم دیکھتے ہو کہ گوپھ کرال جیسے مقامات محض ایک دور کی کہانی نہیں….وہ صدیوں تک استعمال ہوتے رہے۔“
انہوں نے جذلان کی طرف دیکھا:
”اور اب سب سے اہم بات، برخوردار….کریوا کو چننا دراصل فطرت کے ساتھ تصادم نہیں، مفاہمت تھی۔ انسان نے پہاڑ کا سینہ چاک نہیں کیا، نہ دلدل کو للکارا۔ اس نے وہ جگہ چنی جو فطرت نے خود تیار کی تھی۔“
دادو ذرا جھکے، آواز دھیمی ہو گئی:
”اسی لیے میں کہتا ہوں….جب تم کریوا پڑھتے ہو، تو تم صرف زمین نہیں پڑھتے…تم انسان کی پہلی منصوبہ بندی پڑھتے ہو۔“
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
جذلان کو سوال کا جواب مل گیا کہ گوپھ کرال کے قدیم باشندوں نے کریوا کا انتخاب کیوں کیا تھا۔(جاری)

Previous Post

One Terrorist Killed in Ongoing Arahama Ganderbal Operation

Next Post

Foreign Job Fraud Unearthed; Crime Branch Files Chargesheet Against Accused

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
Crime Branch Files Chargesheet in Kupwara Insurance Fraud Case

Foreign Job Fraud Unearthed; Crime Branch Files Chargesheet Against Accused

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.