• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Saturday, April 4, 2026
Jammu Kashmir News Service | JKNS
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
Jammu Kashmir News Service | JKNS
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

تمثیلِ رفتہ — قسط نمبر66

گوپھ کرال کا عبوری مرحلہ(گزشتہ سے پیوستہ)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
April 3, 2026
in اردو خبریں
A A
تمثیلِ رفتہ — قسط نمبر66
FacebookTwitterWhatsapp

کلاس روم میں وہ خاموشی تھی جو تب ہوتی ہے جب بات سمجھ میں آ رہی ہو۔

پروفیسر صاحب بورڈ کے سامنے کھڑے تھے، مارکر ابھی ان کی انگلیوں میں تھا، مگر لکھنے سے پہلے وہ لمحہ بھر رک گئے۔

”یہاںNeolithic Aceramicدور کی پہلی بڑی نشانیCereal Grains سمجھنے میں ایک باریک فرق ہے جسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے…“

انہوں نے مارکر میز پر رکھ دیا۔

”خوراک کا ملنا اور خوراک کا پیدا کرنا….یہ دونوں ایک جیسے نہیں ہوتے اور آثارِ قدیمہ میں یہی فرق سب سے زیادہ آزمائش لیتا ہے۔“

اسی لمحے نادیہ نے قلم روک لیا، آنکھیں اٹھائیں۔

”سر…. Cereal Grains سے آپ کی مراد محض اناج کے دانے ہیں یا باقاعدہ زراعت کا ثبوت؟ کیونکہ اناج کے دانے تو تبادلے سے بھی آ سکتے ہیں۔“

پروفیسر صاحب کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی ۔

”بالکل درست نکتہ نادیہ …. لیکن گوپھ کرال میں ملنے والے اناج کے دانے محض موجود نہیں، بلکہ جلے ہوئے ہیں، ٹوٹے ہوئے ہیں اور بعض جگہ ذخیرہ کرنے کے تناظر میں ملتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اناج اگاتے بھی تھے، کاٹتے بھی تھے اور محفوظ بھی رکھتے تھے۔یہ محض خوراک نہیں….بلکہ منصوبہ بندی ہے۔“

جذلان نے کرسی پر ذرا آگے ہو کر کہا۔

”سر…. اگر زراعت تھی تو پھر برتن کیوں نہیں؟ اناج رکھنے کے لیے برتن تو لازم ہوتے ہیں۔“

کلاس میں چند سر ہلے۔ سوال وزن رکھتا تھا۔

پروفیسر صاحب نے جواب دیتے ہوئے کہا ۔

”یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں سیدھی لکیر میں نہیں ملتی۔ برتنوں کی عدم موجودگی کا یہ مطلب نہیں کہ ذخیرہ نہیں تھا۔یہ لوگ گڑھوں میں اناج رکھتے تھے، مٹی کو سخت کر کے، بعض اوقات گھاس اور راکھ کے ساتھ۔یاد رکھو….تکنیک ہمیشہ ایک ساتھ پیدا نہیں ہوتیں۔“

دلیپ، جو اب تک خاموش تھا، بول پڑا۔

”سر …. ماہر آثار قدیمہ نے Neolithic Aceramic دور کی دوسری بڑی نشانی faunal remainsکو قرار دیا ہے ۔ اسے آپ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟ شکار یا مویشی پالنا؟“

پروفیسر صاحب نے بورڈ پر ایک دائرہ بنایا، جیسے زمانے کو قید کر رہے ہوں۔

”دونوں….گوپھ کرال میں ہرن، بکری، بھیڑ اور بعض جنگلی جانوروں کی ہڈیاں ملی ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ لوگ transitional

phase میں تھے….نہ مکمل شکاری، نہ مکمل چرواہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب انسان فطرت سے صرف لیتا نہیں، بلکہ اسے سنبھالنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔“

نادیہ نے قدرے سوچتے ہوئے کہا:

”تو سر… کیا یہ سمجھا جائے کہ گوپھ کرال کے لوگ زمین میں گڑھے اور غار اس لیے بناتے تھے کیونکہ وہ اس ماحول کے لیے یہی طرزِ رہائش زیادہ موزوں سمجھتے تھے؟“

پروفیسر صاحب نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:

”بالکل۔ اس دور میںپختہ مکان کوئی معیار نہیں تھا۔ رہائش ہمیشہ ماحول کے تابع ہوتی ہے۔ کیریوا کی نرم مگر مضبوط مٹی میں تراشے گئے یہ گڑھے اور غار سرد ہواوں، برف اور بارش سے فطری تحفظ دیتے تھے۔ یہ تعمیراتی کمزوری نہیں، بلکہ ماحولیاتی حکمت عملی تھی۔“

جذلان کچھ دیر خاموش رہا۔وہ آہستہ سے بولا۔

”سر… تو کیا یہ سمجھا جائے کہ یہاں کوئی نئی قوم نہیں آئی تھی؟ یہی لوگ آہستہ آہستہ اپنی زندگی کا طریقہ بدلتے گئے؟“

پروفیسر صاحب نے میز پر رکھی قلم کو ہلکا سا گھمایا، جیسے وقت کی لکیر کھینچ رہے ہوں۔

”بالکل۔ یہی اصل نکتہ ہے۔ آثارِ قدیمہ ہمیں اکثر شور نہیں، تسلسل دکھاتا ہے۔گوپھ کرال میں ہمیں کسی اچانک انقطاع، کسی بڑے خلاءیا تباہی کا ثبوت نہیں ملتا۔ تہیں ایک دوسرے پر چڑھتی ہیں…. جیسے موسم بدلتے ہیں، نہ کہ جیسے طوفان سب کچھ بہا لے جائے۔“

وہ ذرا جھکے۔

”سوچو…کل تک یہی لوگ شکار پر زیادہ انحصار کرتے تھے۔پھر انہوں نے چند جانور پالنے شروع کیے۔پھر برتن بنائے۔پھر دیواریں اٹھائیں۔یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا۔نہ ہی لوگ غائب ہوئے، نہ کوئی جادوئی انقلاب آیا۔صرف عادتیں بدلیں، اوزار بدلے، ترجیحات بدلیں۔“

جذلان نے دھیرے سے کہا،

”یعنی تہذیب دراصل لوگوں کے بدلنے کا نام ہے… لوگوں کے بدل جانے کا نہیں؟“

پروفیسر صاحب مسکرائے۔

”بالکل۔تہذیب آہستہ آہستہ پروان چڑھتی ہے۔ایک دانہ جو اگلی فصل کی خبر دیتا ہے۔ایک ہڈی جو شکار سے افزائش تک کا سفر دکھاتی ہے۔ایک گڑھا جو وقتی پناہ سے مستقل گھر تک پہنچتا ہے۔گوپھ کرال ہمیں یہی سکھاتا ہے ۔۔۔۔انسان مٹتا نہیں، اپنے آپ کو نئے سانچے میں ڈھالتا ہے۔“

پروفیسر صاحب کی باتیں سن کر نادیہ کے ذہن میں ایک خیال آیا۔

”سر…. سب چیزوں کا تذکرہ آیا لیکن تدفین کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملتا….کیا گوپھ کرال میں باقاعدہ قبریں ملی ہیں؟“

پروفیسر صاحب نے ایک لمحہ توقف کرتے ہوئے کہا۔

”یہی ایک اہم نکتہ ہے۔….ابھی تک گوپھ کرال سے واضح burial grounds نہیں ملے۔اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے:

یا تو تدفین بستی سے باہر ہوتی تھی….یا پھر ایسے طریقے رائج تھے جو مادی نشان نہیں چھوڑتے ۔آثارِ قدیمہ صرف وہی پڑھ سکتا ہے جو زمین محفوظ رکھے۔“

نادیہ نے قلم روک لیا۔

”تو سر…. کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہNeolithic Aceramic دور میں گوپھ کرال محض ایک بستی نہیں، بلکہ ایک ذہنی مرحلہ تھا؟“

پروفیسر صاحب نے پہلی بار نادیہ کی طرف پوری توجہ سے دیکھا۔

”بالکل….اس دورمیں گوپھ کرال ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ انسان کہاں رہتا تھا….بلکہ یہ بتاتا ہے کہ انسان سوچنے میں کہاں پہنچ گیا تھا۔وہ بیج کو اگنے کا وقت دیتا ہے،جانور کو مارنے سے پہلے سوچتا ہے اور مٹی کو کاٹتے وقت موسم کو ذہن میں رکھتا ہے۔“ (جاری)

Previous Post

Indigenous High-Altitude Monorail System Boosts Frontline Logistics, Earns Record Recognition

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.