جذلان شام ڈھلے گھر پہنچا تو قدموں میں تھکن تھی، مگر ذہن ابھی تک کلاس روم میں بھٹک رہا تھا۔ہاتھ منہ دھو کر وہ سیدھا کچن کی طرف آیا, جہاں نون چائے کی خوشبو نے ہمیشہ کی طرح اس کا استقبال کیا۔
سماوار آہستہ آہستہ سانس لے رہا تھا، جیسے اس کے اندر کوئی قدیم راز پک رہا ہو۔
کچن میں پہلے سے دادو موجود تھے۔جذلان کو دیکھتے ہی دادو کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔غفار کاک نے جذلان کو کچن میں داخل ہوتے ہی سماوار سے نون چائے پیالے میں انڈیل دی ۔
“باقر خانی دوں یاژوچہ وور؟“
آج جذلان کا موڈباقرخانی کھانے کا تھا ۔
دادو نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا:
”برخوردار …. اسے پیالے میں ڈبو کر کھاو… تب مزہ آتا ہے۔بچپن میں،میں نے بارہمولہ کی باقر خانیاں خوب کھائی ہیں ۔ سردی کی راتیں، مٹی کا پیالہ اور نون چائے… اس کا ذائقہ آج تک زبان پر ہے۔“
”مٹی کا پیالہ…“
یہ لفظ سنتے ہی جذلان کے ذہن میں گوپھ کرال کا منظر ابھر آیا….ہاتھ سے بنے برتن، جلی ہوئی بھٹیاں اور کیریوا کی سطح پر بسنے والی وہ پہلی بستی۔اس نے موقع غنیمت جانا۔
پیالہ ہاتھ میں تھامے وہ دادو کے قریب سرک آیا۔
”دادو… آج کلاس میں گوپھ کرال کے برتنوں والے دور کاتذکرہ چلا…. آپ کچھ بتائیں نا …. دنیا میں مٹی کے برتن کہا ں کہاں پائے گئے ہیں؟‘
دادو نے پیالہ دسترخوان پر رکھا۔ان کی نگاہ ایک لمحے کو کہیں دور چلی گئی ۔۔۔۔۔ جیسے وہ خود بھی کسی قدیم کیریوا پر کھڑے ہوں۔
”برخوردار… Ceramic دور صرف گوپھ کرال تک محدود نہیں ہے۔مٹی کے برتن انسان کی سب سے بڑی ایجادوں میں سے ایک ہیں اور یہ ایجاد دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف اوقات میں ہوئی۔
یہ سمجھ لو کہ جہاں انسان نے مستقل رہائش اختیار کی، وہاں مٹی نے شکل اختیار کی۔“
وہ ذرا سیدھے ہو کر بیٹھے۔
”سب سے قدیم مٹی کے برتن مشرقی ایشیا میں ملتے ہیں۔
شیان رَن دونگ غار(Xianrendong Cave) سے ایسے برتن ملے ہیں جن کی تاریخ تقریباً 18 ہزار قبل مسیح تک جاتی ہے۔شیان رَن دونگ غار چین کے صوبہ جیانگشی میں واقع ایک ماقبل تاریخ آثارِ قدیمہ کا مقام ہے، جو دنیا کے قدیم ترین مٹی کے برتنوں کی دریافت کے لیے معروف ہے۔ یہ کارسٹ نوعیت کی ایک غار ہے جو وانیان کاونٹی کے قریب واقع ہے۔ یہ مقام اواخرِ عہدِ قدیمِ حجری (Late Paleolithic) سے ابتدائی عہدِ نو حجری (Early Neolithic) کے عبوری مرحلے کے دوران انسانی رہائش اور تکنیکی جدّت کے نہایت اہم شواہد فراہم کرتا ہے۔
جذلان حیرت سے دادو کو تکنے لگے ۔
” دادو …. آپ کو یہ چینی نام کیسے یاد رہتے ہیں ۔“
دادو مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہیں ۔
” برخوردار …. جب تاریخ سے دیوانگی کی حد تک محبت ہوجائے تو یہ نام زبان پر خود چڑھ جاتے ہیں ۔“
جذلان اندر ہی اندر سوچنا لگا کہ وہ کتنا خوش نصیب ہے کہ دادو کے گھر میں پیدا ہوا ہے ۔
دادو نے موضوع کی مناسبت سے بات کو آگے بڑھایا ۔
” اسی طرح جومون دور کے مقامات (Jomon period sites) جاپان میں واقع آثارِ قدیمہ کی وہ جگہیں ہیں جن کی تاریخ تقریباً 14,000 قبل مسیح سے 300 قبل مسیح تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ دنیا کی ابتدائی مستقل یا نیم مستقل شکار و خوراک جمع کرنے والی ثقافتوں میں سے ایک کی نمائندگی کرتے ہیں۔یہ مقامات اپنے زمین میں کھودے گئے رہائشی گڑھوں (pit dwellings) سیپیوں کے ڈھیروں ( shell middens ) اور نہایت نفیس و آرائشی نقش و نگار والے مٹی کے برتنوںکی وجہ سے معروف ہیں، جو جومون تہذیبی روایت کی نمایاں خصوصیات سمجھے جاتے ہیں۔
جذلان دادو کی گفتگو غورسے سن رہا تھا کہ اچانک دادو نے یو ٹرن لیا ۔
” برخوردار …. یہ سن کر تم کو عجیب لگے گا کہ ان دو مقامات پر زرعی معاشرہ سے قبل برتن موجود تھے۔“
جذلان نے حیرت سے پوچھا:
”تو کیا برتن زراعت سے پہلے بھی بنے؟“
دادو مسکرائے:
”ہاں، کچھ علاقوں میں ایسا ہوا۔مگر مشرقِ قریب یعنی موجودہ عراق، شام اور ترکی کے علاقوں میں جب باقاعدہ زرعی بستیاں وجود میں آئیں …. تب pottery ایک تہذیبی ضرورت بن گئی۔جن میں Jericho اورCatalhoyuk جیسی بستیاں ہمیں یہ دکھاتی ہیں کہ جب انسان نے گندم اگانا شروع کیا، اناج ذخیرہ کیا، تب مضبوط برتن ناگزیر ہو گئے۔“
دادو نے غفار کاک کو پیالے میں نون چائے انڈیلنے کا اشارہ کیا۔
”وادی سندھ میں بھی یہی صورتِ حال تھی۔ Indus Valley Civilization کے شہروں…. ہڑپہ اور موہنجودڑو میں wheel-made pottery عام تھی۔وہاں برتن صرف استعمال کی چیز نہیں تھے، بلکہ ان پر نقش و نگار بھی بنتے تھے۔یعنی فن اور افادیت ایک ساتھ چل رہے تھے۔“
جذلان نے دھیمی آواز میں کہا:
”اور کشمیر؟“
دادو نے جواب دیا:
”کشمیر میں کہانی کچھ دیر سے شروع ہوتی ہے۔یہاں Neolithic مرحلے میں پہلے Aceramic دور آیا ۔۔۔۔پھر گوپھ کرال اور برزہوم میں ہاتھ سے بنے grey اور burnished برتن سامنے آئے۔چاک کا استعمال بعد میں دکھائی دیتا ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وادی دنیا سے کٹی ہوئی نہیں تھی،مگر اس کا ارتقا اپنے ماحول کے مطابق تھا۔“
وہ ذرا رکے، پھر بولے:
”یاد رکھو برخوردار ۔۔۔۔ مٹی کے برتن صرف برتن نہیں ہوتے۔یہ تین چیزوں کی علامت ہوتے ہیں:
مستقل رہائش،زرعی معیشت،وقت کو محفوظ کرنے کی صلاحیت
جہاں یہ تینوں جمع ہو جائیں، وہاں تہذیب جنم لیتی ہے۔“
دادو نے نون چائے کی چسکی لی اور آہستہ سے کہا:
”گوپھ کرال کی مٹی اسی عالمی داستان کا حصہ ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ وہاں کیریوا کی سطح پر یہ کہانی لکھی گئی…اور یہاں ہمارے ہاتھ میں یہ پیالہ اسی کہانی کی بازگشت ہے۔“
سماوار سے اٹھتی بھاپ جیسے صدیوں کو آپس میں جوڑ رہی تھی۔(جاری)

