• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Saturday, April 11, 2026
Jammu Kashmir News Service | JKNS
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
Jammu Kashmir News Service | JKNS
No Result
View All Result
Home Article

وادی کشمیر صدیوں سے علم و دانش کی آمجگاہ رہی ہے

تحریر: ایڈووکیٹ صفا by تحریر: ایڈووکیٹ صفا
April 11, 2026
in Article, اردو خبریں
A A
FacebookTwitterWhatsapp

قارئین وادی کشمیر قدیم زمانے سے ہی علم و دانش کی آمجگاہ رہی ہے جہاں صدیوں پر محیط روایتی اندازِ تدریس نے بتدریج ایک منظم اور جدید تعلیمی ڈھانچے کی صورت اختیار کی۔  ماضی میں یہاں تعلیم کا زیادہ تر دار و مدار غیر رسمی ذرائع پر تھا اور اس کی بنیاد مذہبی علوم پر قائم تھی۔ حصول علم کیلئے مختلف ممالک سے علم کے متلاشی افراد یہاں آتے اور مذہبی اور دیگر علوم سے فیض یاب ہوتے تھے ۔ قارئین کو معلوم ہوگا کہ پہلے یہاں ہندو برادری کے لیے پاٹھ شالائیں علم و آگہی کا مرکز تھیں جہاں سنسکرت اور ویدی تعلیم دی جاتی تھی، جبکہ مسلمان طلبہ مکتب اور مدارس میں فارسی زبان اور اسلامی علوم سے فیض یاب ہوتے تھے۔ کشمیری پنڈتوں نے مختلف پاٹھ شالائوں کی بنیاد رکھی تھی جبکہ مسلم طبقہ سے وابستہ علماء نے بھی دینی علوم کے فروغ کیلئے دانشگاہوں کا قیام عمل میں لایا تھا ۔ انیسویں صدی کے آخری حصے میں باقاعدہ تعلیمی نظام متعارف کرانے کی کوششیں ضرور ہوئیں، لیکن ان کی رفتار محدود رہی۔ مہاراجہ رنبیر سنگھ کے دور میں ریاست نے پہلی بار تعلیمی شعبے میں دلچسپی لی، تاہم اس وقت بھی نظام مکمل طور پر مربوط نہ تھا۔ بعد ازاں عیسائی مشنریوں، خصوصاً سی ای ٹنڈیل بسکو، نے جدید تعلیم کی بنیاد رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ حقیقی تبدیلی مہاراجہ ہری سنگھ کے عہد میں آئی، جب 1930 میں ابتدائی تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا اور خواتین سمیت کمزورطبقات کے لیے تعلیمی دروازے کھولے گئے۔ 1948 میں جامعہ کشمیر کے قیام نے اعلیٰ تعلیم کو نئی جہت دی، جبکہ 1960 تک تعلیم کو ہر سطح پر مفت قرار دینے سے خواندگی میں نمایاں بہتری آئی۔اس طرح سے کشمیر میں عصری علوم کو فروغ ملتا رہا اور مختلف تعلیمی اداروں نے عصری تعلیم کے فروغ میں اپنا رول اداکیا ۔

قارئین گزشتہ چند برسوں کے دوران جموں و کشمیر کا تعلیمی نظام ایک نئے اصلاحی دور سے گزر رہا ہے، جو قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دیا جا رہا ہے۔ نیا تعلیمی خاکہ متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد طلبہ کی ہمہ جہت نشوونما کو فروغ دینا ہے۔ اس نئے نظام میں ابتدائی بچپن کی تعلیم، عملی مہارتوں اور ڈیجیٹل سیکھنے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ قصبوں میں قائم اسکل ہبز نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، زراعت اور کاروباری صلاحیتوں جیسے جدید شعبوں میں تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں بھی وسعت دیکھنے میں آئی ہے، جہاں سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر، شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سری نگر جیسے ادارے طلبہ کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر پیشہ ورانہ ادارے بھی نوجوانوں کو بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بے روزگاری کے مسئلے کے پیش نظر پولی ٹیکنک اداروں اور اسکل ڈویلپمنٹ مراکز کے ذریعے فنی تعلیم کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ نوجوانوں کو عملی میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع میسر آ سکیں۔تعلیم کے میدان میں بہتری کے آثار شرح خواندگی اور طلبہ کی بڑھتی ہوئی شمولیت سے بھی نمایاں ہیں۔ جموں و کشمیر میں خواندگی کی شرح تقریباً بیاسی فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو مسلسل بہتری کی علامت ہے۔ ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کے لیے اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کے اقدامات قابل ذکر ہیں، جو طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہے ہیں۔ امتحانی نتائج میں بھی واضح بہتری دیکھی گئی ہے، جہاں کامیابی کی شرح تقریباً پچاسی فیصد تک جا پہنچی ہے، اور کئی مواقع پر طالبات نے نمایاں برتری حاصل کی ہے۔ خواتین کی تعلیم میں اضافہ ایک مثبت پیش رفت ہے، جسے حکومتی اقدامات جیسے وظائف، مفت درسی کتب، مڈ ڈے میل اور بہتر تعلیمی سہولیات نے ممکن بنایا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف صنفی فرق کم ہو رہا ہے بلکہ خواتین کی بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ شعبوں میں اپنی جگہ بنا رہی ہے۔تاہم اس ترقی کے باوجود جموں و کشمیر کا تعلیمی نظام کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔ سیاسی عدم استحکام تعلیمی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے، جس کے باعث اسکولوں کی بندش، غیر حاضری اور نصاب کی تکمیل میں تاخیر جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش جیسے اقدامات بھی آن لائن تعلیم کے تسلسل میں رکاوٹ بنتے ہیں، خصوصاً ایسے اوقات میں جب ڈیجیٹل سیکھنے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ جغرافیائی حالات بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں؛ پہاڑی علاقے اور بکھری ہوئی آبادیاں طلبہ کے لیے تعلیمی اداروں تک رسائی کو مشکل بناتی ہیں، جبکہ شدید سردی اور برف باری تعلیمی سرگرمیوں کو محدود کر دیتی ہے۔ معاشی مسائل اور آگاہی کی کمی بھی بچوں کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ بنتی ہے، کیونکہ بعض اوقات انہیں گھریلو ذمہ داریوں کے باعث تعلیم ترک کرنا پڑتی ہے۔ بعض علاقوں میں روایتی سوچ بھی لڑکیوں کی تعلیم کو متاثر کرتی ہے۔ مزید برآں، دیہی علاقوں کے کئی اسکول بنیادی سہولیات جیسے مناسب عمارت، لیبارٹری، لائبریری، بجلی اور صفائی سے محروم ہیں، جبکہ اساتذہ کی کمی اور غیر مساوی تقسیم تعلیمی معیار کو متاثر کرتی ہے۔مجموعی طور پر جموں و کشمیر کا تعلیمی نظام ایک ایسے مرحلے میں ہے جہاں ترقی اور مسائل ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ اگرچہ اصلاحات اور جدید اقدامات تعلیم کے معیار اور رسائی کو بہتر بنا رہے ہیں، تاہم علاقائی اور سماجی تفاوت کو ختم کرنا ابھی باقی ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی ڈھانچے کی بہتری، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور جامع پالیسیوں پر مسلسل توجہ دی جائے۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی ستون ہوتی ہے، اور اس کی مضبوطی ہی ایک روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔ اگر قومی تعلیمی پالیسی پر مؤثر عمل درآمد کیا جائے اور مقامی انتظامیہ و حکومت کی جانب سے مسلسل تعاون جاری رہے تو ایک ایسا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو جدید بھی ہو اور سب کے لیے مساوی مواقع بھی فراہم کرے۔ اصل مقصد یہی ہونا چاہیے کہ ہر بچہ، خواہ وہ کسی دور دراز پہاڑی علاقے میں رہتا ہو یا کسی شہری مرکز میں، معیاری تعلیم تک یکساں رسائی حاصل کر سکے اور اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکے۔تعلیم کے میدان میں بہتری کے آثار شرح خواندگی اور طلبہ کی بڑھتی ہوئی شمولیت سے بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں خواندگی کی شرح اب تقریباً بیاسی فیصد تک پہنچ چکی ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کے لیے اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کے اقدامات قابل ذکر ہیں، جو طلبہ کو جدید تعلیمی مہارتوں سے آراستہ کر رہے ہیں۔قارئین ۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی ستون ہوتی ہے، اور اس کی مضبوطی خطے کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔ اگر قومی تعلیمی پالیسی جیسے اقدامات کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے اور مقامی انتظامیہ و حکومت ہند کی جانب سے مستقل تعاون جاری رہے تو ایک ایسا تعلیمی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو جدید، مساوی اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ اصل ہدف یہی ہونا چاہیے کہ خواہ بچہ کسی دور دراز پہاڑی گاؤں میں رہتا ہو یا کسی شہری مرکز میں، اسے معیاری تعلیم تک یکساں رسائی اور بہتر مستقبل کی تعمیر کا مکمل موقع ملے۔

 

 

Previous Post

تپ دق قابل علاج مرض ،مریض کے ساتھ سماجی دوری نہ برتی جائے

تحریر: ایڈووکیٹ صفا

تحریر: ایڈووکیٹ صفا

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.