معاشرہ افراد کے مجموعے کا نام ہے۔ جب افراد ایک دوسرے کے حقوق، صلاحیتوں اور عزت کا احترام کرتے ہوئے اجتماعی مفاد کے لیے کام کرتے ہیں تو ایک مضبوط معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ لیکن جب کوئی فرد یا خاندان، گروہ یا محدود حلقہ ہر اہم معاملے پر اپنا قبضہ قائم کرنے کی کوشش کرے اور دوسروں کو آگے بڑھنے کا موقع نہ دے تو معاشرے میں ترقی کے بجائے جمود پیدا ہوتا ہے۔
شخصی اجارہ داری صرف سیاست تک محدود نہیں۔ یہ ہماری سماجی، تعلیمی، کاروباری اور حتیٰ کہ فکری زندگی میں بھی مختلف شکلوں میں موجود ہے۔
کسی کو عہدہ ملتا ہے تو وہ اسے اپنی ذاتی جاگیر سمجھنے لگتا ہے۔ کسی کو سماجی مقام حاصل ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ علاقے کے ہر فیصلے میں آخری بات اسی کی ہونی چاہیے۔ کسی تنظیم کی ذمہ داری ملتی ہے تو وہ نئی قیادت کے لیے راستہ بند کر دیتا ہے۔ کسی ادارے میں اثر و رسوخ پیدا ہوتا ہے تو میرٹ کے بجائے ذاتی تعلقات کو ترجیح ملنے لگتی ہے۔یہیں سے معاشرے کا اصل زوال شروع ہوتا ہے۔اختیار خدمت کے بجائے ملکیت بن جائے
عہدہ، اختیار اور قیادت دراصل امانت ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد لوگوں کی خدمت، مسائل کا حل اور اجتماعی بہتری ہونا چاہیے۔ لیکن جب اختیار کو ذاتی ملکیت سمجھ لیا جائے تو خدمت کا جذبہ ختم اور اقتدار کی خواہش غالب آ جاتی ہے۔ایسا شخص اپنے گرد ایسے لوگوں کا حلقہ بناتا ہے جو اس کی تعریف کریں، اس کی ہر بات کو درست قرار دیں اور اس کے مفادات کا تحفظ کریں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اہل، باصلاحیت اور آزاد سوچ رکھنے والے افراد آہستہ آہستہ نظام سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ایک معاشرہ اس وقت تباہ نہیں ہوتا جب اس میں ایک نااہل شخص موجود ہو؛ اصل تباہی اس وقت شروع ہوتی ہے جب نااہل شخص اہل لوگوں کو آگے آنے سے روکنے لگے۔
شخصی اجارہ داری کا سب سے بڑا نقصان میرٹ کا خاتمہ ہے۔جب فیصلے قابلیت کے بجائے تعلق، وفاداری، ذاتی پسند اور گروہی وابستگی کی بنیاد پر ہونے لگیں تو نوجوانوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ ایک باصلاحیت نوجوان یہ سوچنے لگتا ہے کہ محنت، تعلیم اور قابلیت کے باوجود اسے آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملے گا کیونکہ راستے پہلے ہی مخصوص لوگوں کے لیے مختص ہیں۔یہ احساس کسی بھی معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔کیونکہ جب نوجوانوں کو میرٹ پر مواقعے نہیں ملتے تو ان میں مایوسی پیدا ہوتی ہے، اور مایوسی رفتہ رفتہ بے حسی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
شخصی اجارہ داری کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ ایسے لوگ نئی قیادت سے خوف محسوس کرتے ہیں۔انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی نیا شخص سامنے آیا، اگر نوجوانوں کو موقع ملا، اگر کسی باصلاحیت فرد کو آگے بڑھایا گیا تو ان کا اپنا اثر و رسوخ کم ہو جائے گا۔چنانچہ نئی آوازوں کو دبانے، نئے لوگوں کو بدنام کرنے، اختلاف رائے کو دشمنی قرار دینے اور ہر ابھرتے ہوئے شخص کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔حالانکہ زندہ معاشرے وہ ہوتے ہیں جہاں ہر نسل اگلی نسل کو راستہ دیتی ہے۔
ایک درخت کی خوبصورتی صرف اس کے پرانے پتوں میں نہیں بلکہ نئی کونپلوں میں بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح معاشرے کی طاقت صرف پرانے لوگوں کے تجربے میں نہیں بلکہ نوجوانوں کی صلاحیت، توانائی اور نئے خیالات میں بھی ہوتی ہے۔ہماری ایک بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ ہم اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی سمجھ لیتے ہیں۔اگر کوئی شخص کسی فیصلے پر سوال اٹھائے تو اسے مخالف قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی بہتر راستہ تجویز کرے تو اسے اپنی ذات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی نوجوان اپنی رائے پیش کرے تو اسے تجربہ نہ ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔
تعریف کی سیاست:
شخصی اجارہ داری کو سب سے زیادہ طاقت خوشامد سے ملتی ہے۔جب کسی معاشرے میں لوگ سچ بولنے کے بجائے طاقتور شخص کی خوشنودی کو ترجیح دینے لگیں تو حقیقت چھپ جاتی ہے۔ ہر طرف تعریف ہوتی ہے، مگر اصلاح نہیں۔ایسے ماحول میں قائد کو اپنی غلطیوں کا احساس نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے اردگرد موجود لوگ اسے حقیقت بتانے کے بجائے وہی بتاتے ہیں جو وہ سننا چاہتا ہے۔
ہر شعبے میں نئی قیادت کو آگے آنے کا موقع ملنا چاہیے۔ اگر کوئی نوجوان بہتر تعلیم رکھتا ہے، بہتر صلاحیت رکھتا ہے اور معاشرے کے لیے بہتر سوچ رکھتا ہے تو صرف اس وجہ سے اسے پیچھے نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ کسی مخصوص خاندان، گروہ یا شخصیت سے تعلق نہیں رکھتا۔
نا ہوگا کہ ہمیں شخصیات کے غلام معاشرے کی ضرورت ہے یا اصولوں پر قائم معاشرے کی۔یاد رکھنا چاہیے کہ مضبوط معاشرے وہ نہیں ہوتے جہاں ایک شخص سب سے طاقتور ہو، بلکہ وہ ہوتے ہیں جہاں ہر شخص کو اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا حق حاصل ہو۔شخصی اجارہ داری ختم ہوگی تو میرٹ پروان چڑھے گا، میرٹ پروان چڑھے گا تو نئی قیادت سامنے آئے گی، اور نئی قیادت ہی معاشرے کو جمود سے نکال کر ترقی کی طرف لے جا سکتی ہے

