• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Sunday, September 20, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (قسط: 7)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
September 20, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (قسط: 7)
FacebookTwitterWhatsapp

ترانہ ختم ہوا تو چند لمحوں کے لیے پنڈال پر ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی، جیسے سامعین ابھی تک اس کی کیفیت سے پوری طرح باہر نہ آئے ہوں۔ پھر افتتاحی نشست کی کارروائی اپنے اگلے مرحلے کی طرف بڑھنے لگی۔
اسی دوران شفیع شاکر نے مرکز کے ایک اہم کارکن، جناب ظہور ہیگامی کو اشارہ کیا کہ تقریب کے باقاعدہ آغاز کے لیے اسپند جلانے کی رسم ادا کی جائے۔ ظہور ہیگامی نہایت شریف، ملنسار اور متواضع طبیعت کے انسان ہیں۔ ادبی سرگرمیوں سے ان کی وابستگی محض تنظیمی سطح تک محدود نہیں، بلکہ وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور ادب سے ان کا گہرا رشتہ ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اس ذمہ داری کے لیے پہلے ہی پوری طرح تیار نظر آئے۔
ان کے ہاتھ میں ایک خوب صورت کشمیری کانگڑی تھی، جس میں دہکتا ہوا کوئلہ موجود تھا۔سب سے پہلے ایوانِ صدارت میں تشریف فرما معزز شخصیات نے اسپند جلانے کی رسم ادا کی۔ اس کے بعد شفیع شاکر کی درخواست پر سامعین کی پہلی صف میں موجود معزز شخصیات نے بھی باری باری اسپند جلایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسپند کی خوشبو پورے پنڈال میں پھیل گئی۔ چند لمحے پہلے تک جو فضا ترانے کی آواز سے معمور تھی، اب اس میں کشمیری اسپند کی مانوس خوشبو شامل ہوگئی تھی۔
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اس رسم کے ذریعے تقریب کا آغاز محض ایک رسمی انداز میں نہیں بلکہ کشمیر کی اپنی تہذیبی روایت کے ایک مانوس استعارے کے ساتھ کیا جارہا ہو۔ اسپند کی خوشبو، کانگڑی، پنڈال اور سامنے بیٹھے اہلِ قلم۔۔۔۔سب مل کر اس لمحے کو ایک مخصوص کشمیری رنگ دے رہے تھے۔
اب باقاعدہ تقریب کے تمہیدی کلمات کے لیے شفیع شاکر نے مائیک سنبھالا۔ ان کے اندازِ گفتگو میں ہمیشہ کی طرح ایک خاص اعتماد اور روانی تھی۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز حاجن کی تہذیبی شناخت سے کرتے ہوئے کشمیر کے معروف ثقافت شناس اور محقق محمد یوسف ٹینگ کی اس تعبیر کو دہرایا کہ حاجن کشمیر کا تمدنی اور ثقافتی دارالخلافہ ہے۔
یہ جملہ سنتے ہی میرے ذہن میں ایک سوال ابھرا:
کیا محمد یوسف ٹینگ کی اس تعبیر سے اتفاق کیا جاسکتا ہے؟
میں نے فوراً اپنے ذہن میں حاجن کے تہذیبی منظرنامے کو ترتیب دینا شروع کیا۔ آخر ایسا کیا ہے جو حاجن کو محض ایک تاریخی بستی یا ایک جغرافیائی مقام سے بلند کرکے کشمیر کی تمدنی اور ثقافتی تاریخ میں ایک نمایاں مقام عطا کرتا ہے؟
سب سے پہلے اس کی جغرافیائی حیثیت سامنے آتی ہے۔ حاجن دریائے جہلم کے کنارے آباد ہے۔ دریائے جہلم محض ایک دریا نہیں بلکہ کشمیر کی تہذیبی، معاشی اور جغرافیائی تاریخ کا ایک اہم حوالہ بھی ہے۔ دریائے جہلم کے کنارے آباد بستیوں نے صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی، تجارت، سفر اور ثقافتی تبادلے کے رشتے قائم رکھے ہیں۔ حاجن اسی وسیع تہذیبی خطے کا حصہ ہے۔لیکن کسی بستی کو صرف اس کے جغرافیے کی بنیاد پر ثقافتی مرکز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حاجن کے دعوے کی اصل بنیاد اس کی ادبی، صوفیانہ، موسیقی اور تنظیمی روایت میں دکھائی دیتی ہے۔
کشمیر کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر وہاب حاجنی کا تعلق اسی سرزمین سے ہے۔ انہوں نے فارسی کے عظیم رزمیہ متن شاہنامۂ فردوسی کا کشمیری منظوم ترجمہ کیا۔ یہ محض ایک ادبی کارنامہ نہیں تھا۔ یہ اس بات کی مثال بھی ہے کہ کشمیر کی مقامی زبان کس طرح ایک عظیم کلاسیکی روایت کو اپنے شعری مزاج میں جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔پھرقادرالکالام شاعر اسد پرے کا نام سامنے آتا ہے، جن سے کشمیر کی صوفیانہ شاعری کا ایک اہم باب وابستہ ہے۔ ان کے بعد مولوی صدیق اللہ کی عقیدتی شاعری ہے، جو آج بھی خانقاہوں اور درگاہوں کی فضا میں اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے۔ یوں حاجن کی ثقافتی روایت میں صرف ادبی اظہار ہی نہیں بلکہ تصوف، عقیدت اور مذہبی شاعری کے مختلف رنگ بھی شامل ہوتے چلے گئے۔ اور پھر بات شاعری سے آگے بڑھ کر موسیقی تک پہنچتی ہے۔ معروف استاد گلوکار علی محمد شیخ کا نام کشمیر کی موسیقی کی روایت میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان جیسے فن کاروں کی موجودگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حاجن کا تہذیبی مزاج صرف کتاب اور شعر تک محدود نہیں رہاہے بلکہ موسیقی اور فنونِ اظہار نے بھی یہاں اپنی جڑیں مضبوط کیں۔
حاجن کی ثقافتی شناخت میں پروفیسر محی الدین حاجنی جیسی عبقری شخصیت کا ذکر بھی ناگزیر ہے۔ ان کا علمی و ادبی مقام اس بات کی دلیل ہے کہ اس خطے نے ایسے اہلِ علم پیدا کیے جنہوں نے مقامی زبان، ادب اور تہذیب کے مطالعے کو وسیع تر علمی منظرنامے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔
لیکن کسی خطے کی ثقافت صرف چند بڑے ناموں سے زندہ نہیں رہتی۔ کسی ثقافتی روایت کی اصل قوت اس وقت سامنے آتی ہے جب ایک نسل کے بعد دوسری نسل بھی اسے آگے بڑھانے کے لیے ادارے اور تنظیمیں قائم کرتی ہے۔ اس اعتبار سے وہاب ڈراما ٹک کلب اور حلقۂ ادب سونا واری جیسی ادبی و ثقافتی تنظیموں کا تسلسل بھی اہم ہے۔ اسی سلسلے کی ایک بڑی کڑی تیس سے زائد ادبی و ثقافتی تنظیموں کے وفاق کی حیثیت سے ادبی مرکز کمراز کا منظرِ عام پر آنا بھی ہے، جس نے مختلف ادبی حلقوں اور تنظیموں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرکے اس خطے کی ادبی سرگرمیوں کو ایک وسیع تر اجتماعی شناخت عطا کی۔ نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ان سرگرمیوں کا کسی نہ کسی صورت میں جاری رہنا اس بات کی علامت ہے کہ یہاں ثقافتی وابستگی محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک روایت ہے۔
حاجن کی تہذیبی شناخت میں اس کی جامع مسجد کا ذکر بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ کسی قدیم بستی کی جامع مسجد محض عبادت گاہ نہیں ہوتی؛ وہ اکثر اس بستی کی سماجی، مذہبی اور تاریخی زندگی کا مرکزی مقام بھی رہی ہوتی ہے۔ حاجن کی جامع مسجد اور اس کے بلند مینار آج بھی اس بستی کے تاریخی منظرنامے کا ایک نمایاں حصہ ہیں۔
ان تمام حوالوں کو ایک ساتھ رکھا جائے تو محمد یوسف ٹینگ کی تعبیر شاید کسی مبالغے کے بجائے حاجن کی تہذیبی ساخت کو سمجھنے کا ایک زاویہ بن جاتی ہے۔
وہاب حاجنی کی شاعری، اسد پرے کی صوفیانہ روایت، مولوی صدیق اللہ کا عقیدتی کلام، علی محمد شیخ کی موسیقی، پروفیسر محی الدین حاجنی کی علمی شخصیت، قدیم جامع مسجد اور نصف صدی سے جاری ادبی و ثقافتی تنظیموں کی سرگرمیاں۔یہ سب الگ الگ دھارے ہیں، لیکن ان سب کا ایک ہی جغرافیائی خطے سے وابستہ ہونا حاجن کی ثقافتی اہمیت کو ضرور نمایاں کرتا ہے۔
اسی لیے ’’تمدنی و ثقافتی دارالخلافہ‘‘ کی تعبیر حاجن کی اس دیرینہ روایت کی عکاس ہے۔ پنڈال میں بیٹھے ہوئے، جامع مسجد کے بلند میناروں کو دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ بعض بستیوں کی شناخت ان کے نقشے سے نہیں بلکہ ان کے حافظے، زبان، فن اور روایت کے تسلسل سے بنتی ہے۔ ایسے میں حاجن کی شانِ رفتہ کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری موجودہ دور کے علم برداروں پر مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اس عظیم ثقافتی و تمدنی ورثے کو نہ صرف محفوظ رکھیں بلکہ اپنی علمی و ادبی کاوشوں سے اسے قائم و دائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔(جاری)

Previous Post

Mirwaiz Backs Two-Day School Break In J&K, Says Students Need Time Beyond Classrooms

Next Post

Taxpayers’ Money Spent on Parallel Show Instead of Strengthening Already Existing Film Festival: Founder-Director KWFF

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
Taxpayers’ Money Spent on Parallel Show Instead of Strengthening Already Existing Film Festival: Founder-Director KWFF

Taxpayers' Money Spent on Parallel Show Instead of Strengthening Already Existing Film Festival: Founder-Director KWFF

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.