جموں اینڈ کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کے زیرِ اہتمام اکیڈیمی کمپلیکس لال منڈی سرینگر کے سیمینار ہال میں ایک باوقار تقریبِ رونمائیِ کتب منعقد ہوئی، جس میں ڈاکٹر محمد ادریس کی برگس برگس کوران وچھ اور محفوظہ نبی کی رٲو مت ژیہی کشمیری شعری مجموعوں کی رسمِ اجرا انجام دی گئی۔ تقریب میں اہلِ قلم، دانشوروں اور ادب دوست حضرات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔
ایوان صدار ت میں پروفیسر محمد زمان آزردہ بحیثیت صدر جبکہ پروفیسر گلشن مجید مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے تشریف فرما تھے ۔ ان کے علاوہ صاحب کتب اور اکیڈیمی کے ایڈیٹر جاوید اقبال بھی موجود تھے۔
اس موقع پر شبیر احمد شبیر اور ڈاکٹر غلام نبی حلیم نے شعری مجموعوں پر علمی و تنقیدی مقالات پیش کیے اور ان کتابوں کی فکری جہات، فنی خصوصیات اور معاصر کشمیری شاعری میں ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے دونوں شعرا کی تخلیقی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوع کی ادبی تصانیف کشمیری زبان و ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں جاوید اقبال خان نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈیمی علاقائی زبانوں بالخصوص کشمیری زبان و ادب کے فروغ کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہے اور ادبی روایت کے استحکام کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر محمد زمان آزردہ نے کہا کہ کشمیری شاعری ہمیشہ سے معاشرے کی تہذیبی شناخت اور داخلی احساسات کے اظہار کا موثر وسیلہ رہی ہے اور اس نوع کی تخلیقات کشمیری ادب کی زندہ روایت اور تخلیقی تسلسل کی نمائندگی کرتی ہیں۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر گلشن مجید نے اپنے خطاب میں دونوں مصنفین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ شعری مجموعے معاصر کشمیری ادب میں قابلِ قدر اضافہ ہیں۔ انہوں نے مادری زبان میں تخلیقی اظہار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اکیڈیمی کی ادبی خدمات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کی تقریبات نئی نسل کو اپنی زبان و ادب سے جوڑنے میں معاون ثابت ہوں گی
تقریب کی نظامت ڈاکٹر گلزار احمد راتھر نے اسلوبی سے انجام دی۔ تقریب کے اختتام پر حاضرین اور مصنفین کے درمیان ایک نشستِ تبادلہ خیال بھی ہوئی جس میں کشمیری شاعری کے مختلف پہلووں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

