تیز رفتار سیاسی تبدیلی، سماجی پولرائزیشن اور اخلاقی ابتری کے اس دور میں سیاسی شراکت کے سوال نے نئی اہمیت اختیار کر لی ہے۔ معاصر معاشروں، خاص طور پر جمہوری معاشروں میں اکثر یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ اسلام ایسے نظام میں شرکت کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ کیا جمہوریت میں شامل ہونا محض اختیاری ہے یا اس کی کوئی مذہبی اہمیت بھی ہے؟
بہ غور دیکھیں تو جمہوری معاشروں میں مذہبی فرقوں کے لیے سیاست اب شجرِ ممنوعہ نہیں رہ گئی ہے بلکہ ایک دینی و اخلاقی ذمہ داری بن چکی ہے۔ حتیٰ کہ روایت پرست مطلق العنان مملکتوں نے بھی رعایا کو شوریٰ میں جگہ دے کر فیصلوں میں عوام کی حصے داری بڑھائی ہے، اور جو لوگ جمہوریت کو غیر اسلامی بتاتے تھے، وہ بھی عملی طور پر اس سے دور نہیں رہے بلکہ سیاسی عمل میں بالواسطہ اور بلاواسطہ شریک ہیں۔
ویسے بھی جمہوریت میں ووٹنگ، مشاورت اور پُرامن شہری مشغولیت کو مکمل طور پر مسترد کرنا بنیادی اسلامی اقدار کے منافی ہے۔ جمہوریت گرچہ ایک جدید نظام کے طور پر روایتی اسلامی طرزِ حکمرانی سے مماثلت نہیں رکھتی، لیکن اس کی اہم خصوصیات—مشاورت، جوابدہی، عوامی بہبود اور قانون کی حکمرانی—اسلامی تعلیمات کا اساسی حصہ ہیں۔ اسلامی فقہِ مقاصد الشریعہ قانون کے اعلیٰ مقاصد، یعنی جان، ایمان، عقل، جائیداد اور عزت و وقار کے تحفظ پر زور دیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے سے حکومت میں مشاورت، معاہدوں کا انعقاد اور ان کی پابندی شامل ہے۔ بعد کی اسلامی تاریخ بھی حکومت کے ساتھ مشغولیت کو اخلاقی فرض کے طور پر پیش کرتی ہے، اور اسی اصول کے تحت ان صوفیہ نے بھی، جو ترکِ دنیا پر زور دیتے تھے، عہدِ وسطیٰ کے بادشاہوں کو ظالم تصور کرتے ہوئے بھی خیر کے کاموں میں حکومتوں کے ساتھ تعاون کیا۔ متنوع معاشروں میں سیاسی شرکت اور بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہے، اور اسلام میں سیاسی شرکت کا مطلب اقتدار کا پِچھلگّو بننا نہیں بلکہ انصاف کے لیے کھڑا ہونا، انسانی وقار کی حفاظت اور خلقِ خدا کی بھلائی میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔
اسلام اہلِ ایمان سے ہر عمل میں اعتدال کا تقاضا کرتا ہے۔ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: “خیر الامور اوسطها” (سارے کاموں میں خیر اس کے وسط و اعتدال میں ہے)۔ سماجی زندگی میں یہ بدرجۂ اولیٰ مطلوب و مقصود ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ محبت اور نفرت میں بھی اعتدال رکھو، اور قرآن میں آیا کہ نبیوں کی بعثت اور ان پر کتابوں کے نزول کا مقصد معاشرے میں اختلاف کو دور کرنا اور جھگڑوں کو نمٹانا ہے تاکہ دنیا کا نظام اور انسانوں کا سکون درہم برہم نہ ہو۔ ترمذی شریف میں حضرت علی المرتضیٰؓ سے مروی ہے کہ اپنے چہیتے سے محبت اعتدال کے ساتھ کرو، ممکن ہے کہ وہ ایک دن تمہارا ناپسندیدہ بن جائے، اور جس سے تم بغض رکھتے ہو، اس سے بھی اعتدال کے ساتھ نفرت کرو، ممکن ہے کہ وہ ایک دن تمہارا پسندیدہ بن جائے۔ اس حدیث کے ذیل میں موسوعہ حدیثیہ میں ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کی بنیاد ہر چیز میں اعتدال اور توازن پر ہے۔ شوریٰ، باہمی مشاورت کا قرآنی اصول، اس بات پر زور دیتا ہے کہ اجتماعی معاملات کا فیصلہ شرکت سے ہونا چاہیے نہ کہ اختیار اور تسلط سے۔ حکمرانی میں شراکت کی تمام شکلوں کی نفی قدرِ مطلوب و مقصود کو نقصان پہنچاتی ہے۔ مزید برآں، ایسے معاشرے جہاں جمہوری ادارے پالیسیوں کا تعین کرتے ہیں، اس سے انحراف انصاف اور نمائندگی کے خاتمے کا باعث بنتا ہے اور اقلیتوں کے مفادات کو بطورِ خاص نقصان پہنچاتا ہے۔ اسلام کسی بھی صورت میں ناانصافی کی سیاسی توثیق نہیں کرتا۔ اثر و رسوخ کے دستیاب ذرائع کو مسترد کرنا نادانستہ طور پر ظلم و استبداد کو غالب آنے کی راہ دینا ہے۔ لہٰذا تنقیدی مشغولیت درست ہے، لیکن مکمل علیحدگی نہ تو قرینِ عقل و منطق ہے اور نہ اخلاقی اسلامی فریم ورک اس کی اجازت دیتا ہے۔
اسلام اہلِ ایمان کو معاشرے میں فعال شراکت دار تصور کرتا ہے، الگ تھلگ افراد نہیں۔ امت (کمیونٹی) کا تصور سماجی بہبود کی مشترکہ ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے۔ شہری شرکت، خواہ کمیونٹی سروس یا عوامی قیادت کے ذریعے ہو، اس اجتماعی فرض کو پورا کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ امانت کا اصول اس خیال کو مزید تقویت دیتا ہے۔ سماجی اور سیاسی ذمہ داریوں کو خدا کی طرف سے دی گئی امانتوں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس میں اخلاص اور جوابدہی لازمی شرط ہے۔ سماجی معاملات میں مشغول ہونا، ناانصافی کا سدباب کرنا، فلاح و بہبود کو فروغ دینا اور اچھی حکمرانی کی حمایت کرنا اس اصول کا احترام ہے۔ مزید برآں، اسلام بنیادی اقدار کے طور پر انصاف (عدل) اور ہمدردی (رحمہ) پر زور دیتا ہے، جس کا ادراک خلا میں نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ان ڈھانچوں اور پالیسیوں کی تشکیل میں فعال شمولیت کی ضرورت ہوتی ہے جو معاشرے پر حکومت کرتے ہیں۔
جمہوری سیاق و سباق میں ووٹنگ ان براہِ راست طریقوں میں سے ایک ہے جس سے افراد حکمرانی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے اسے گواہی (شہادت) کی ایک شکل کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ ذمہ داری کے ساتھ ووٹ ڈالنے کا مطلب ہے ایسے امیدواروں یا پالیسیوں کی حمایت کرنا جو اخلاقی اقدار، جیسے کہ انصاف، دیانت اور عوامی فلاح و بہبود سے ہم آہنگ ہوں۔ سیاسی و سماجی مکالمہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اسلام وقار و احترام کے ساتھ بات چیت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، حتیٰ کہ اختلاف میں بھی، مکالمہ اس کی پہلی ترجیح ہے۔ تعمیری مکالمہ افہام و تفہیم کو فروغ دیتا ہے، تنازعات کو کم کرتا ہے اور معاشروں کو مشترکہ بھلائی کی طرف بڑھنے کے قابل بناتا ہے۔
اصلاح کی کوشش اسلامی تعلیمات میں ایک بار بار زیرِ بحث آنے والا موضوع ہے۔ قرآن بار بار معاشرتی اور اخلاقی خرابیوں کی اصلاح کا مطالبہ کرتا ہے۔ جدید سیاق و سباق میں منصفانہ قوانین کی وکالت، امتیازی سلوک کی مخالفت اور مساوی نظام کے لیے کام کرنا اس میں شامل ہے۔ اصلاح صرف ذاتی تقویٰ تک محدود نہیں ہے، یہ سماجی تبدیلی تک پھیلا ہوا ہے۔
اسلام کا اخلاقی ڈھانچہ معاشرتی معاملات سے علیحدگی کی حمایت نہیں کرتا۔ اگرچہ یہ سیاسی نظاموں پر تنقید کی اجازت دیتا ہے، لیکن یہ تعمیری شرکت کا مطالبہ کرتا ہے، جس کی جڑیں انصاف، ذمہ داری اور مشترکہ بھلائی پر ہیں۔ اللہ کا ارشاد ہے: “تعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الاثم والعدوان” (نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں تعاون کیا کرو اور گناہ و سرکشی کے کاموں میں مددگار نہ بنو)۔ جمہوری عمل کو یکسر مسترد کرنے سے ان اقدار کے ترک کرنے کا خطرہ ہے، جب کہ سوچی سمجھی حکمتِ عملی مومنین کو دنیا میں انصاف کے محافظ کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ ایسے وقت میں، جب سیاسی فیصلے انسانی وقار اور سماجی ہم آہنگی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، شرکت ایک شہری عمل سے بڑھ کر ایمان کا مظہر ہے۔
(mailto:Zawiyah.delhi@gmail.com)
