بڈگام ضلع کے چرارشریف قصبے میں اج اسوقت کہرام مچ گیا جب نماز ظہر کی اذان کے درمیان اطلاع ملی کہ کنہ دجن٬ روڈپر موجود باغ وازہ باغ چرارشریف کے قریب کورن موڈ٬پر دوران سفر سفید رنگ کی پرائیویٹ سینٹرو گاڈی زیر رجسٹریشن نمبر۔JK01H/6884/اچانک ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوئی گاڈی ھیچکولے کھاتے ہوئے نیچے کی طرف موجود کورن نالہ میں بہہ گئی۔
جسکی وجہ سے گاڈی چکڑالوی ہونے کے ساتھ ھی تقریبا 400سو۔فٹ لمبے خوفناک نالے کی طرف گرتی رہی۔ اس دوران گاڈی میں سوار نامعلوم لوگ چیختے رھئے۔ جسکی وجہ سڑک پر جارھی دوسری گاڑیوں کو حادثے کا اشارہ ملا۔ نمایندے غلام قادربیدار کے مطابق نماز ظہر سے پہلے ہی اچانک پولیس کو کسی نے اطلاع دی تو علاقے میں کہرام مچ گیا۔ ادہر اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او امتیاز احمد کی سربراھی میں چرارشریف پولیس اسٹیشن کا فلائینگ سٹاف٬ اور دوسرے اہلکاروں کی جمعیت کے ساتھ ایمرجنسی حالت میں٬سب ڈسٹرکٹ سپتال٬
چرارشریف کی دو ایمبولینسیز۔ کے ساتھ جایہ واردات پر پہنچ گئے۔ جہاں قریب چارسو فٹ لمبے نالے میں پڑی گاڈی کا باقیات نظر اتاتھا۔ صورت حال کو بھانپتے ہویئے٬ رضاکاروں اور پولیس اہلکاروں نےابتداء میں گاڈی سے دونوں زخمیوں کو بازیافت کرنے کا سلسلہ شروع کیا اس دوران شدید زخمی حالت میں پڑی ایک جوان سالہ لڑکی کو فوری طور ریسکیو کرکے ھنگامی حالات میں چرارشریف ہسپتال پہنچایا گیا۔تاھم ابتدائی جانچ کے دوران ہی پتہ چلاکہ وہ مرچکی تھی۔طبی مائینہ کے دوران جب ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا تو وہاں صف ماتم مچ گیا۔ اس دوران مذکورہ گاڈی سے دوسرے زخمی کو مقامی زمینداروں اوردوسرے لوگوں کی مدد سے مشکلن باہر نکال کر اسے بھی پہلے اوپر پہنچھایا گیا۔ جسکے بعد اسے بھی ایمرجنسی ٹریٹمنٹ کے لئے
سب ڈسٹرکٹ ہسپتال چرارشریف پہنچایاگیا۔ جہاں دوسری ایمبولینس گاڈی میں اسے مذید علاج کے لئے فورا سرینگر کے صدر ہسپتال کی طرف ریفر کیا گیا۔جہاں ھنگامی بنیاد پر ڈاکٹروں نے اسے بچانے کی تگدو شروع کی۔بعد ازیں معلعم ہوا کہ حادثے کی شکار لڑکی کا نام ندا جان عمر قریب پچیس سال. جبکہ لڑکے کانام.سویدا احمد عمر تقریبا تیس سال٬ اور دونوں کا تعلق گاگرن شوپیان سے بتایاگیاجہاں المناک حادثے کے سبب دونوں بچوں کے آبائی علاقوں میں کہرام مچ گیا ہے۔

