• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Wednesday, May 6, 2026
Jammu Kashmir News Service | JKNS
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
Jammu Kashmir News Service | JKNS
No Result
View All Result
Home Article

واضح سیاسی و فوجی ہدف کے حصول کے لیے نپی تلی طاقت کا استعمال: آپریشن سندور دنیا کے لیے قابل تقلید مثال

قلمکار: لیفٹننٹ جنرل دیویندر پرتاپ پانڈے ریٹائرڈ by قلمکار: لیفٹننٹ جنرل دیویندر پرتاپ پانڈے ریٹائرڈ
May 6, 2026
in Article, اردو خبریں
A A
FacebookTwitterWhatsapp

امریکی، اسرائیلی اور روسی جنگی تجربات—جن میں سیاسی و عسکری اہداف مسلسل بدلتے رہے—یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اکیسویں صدی کی جنگیں اکثر طویل، مبہم اور کھنچتی چلی جانے والی مہمات میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ اس کے نتائج نہ صرف متعلقہ خطے کے لیے تباہ کن ہوتے ہیں بلکہ خود حملہ شروع کرنے والے کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں، جو بالآخر اپنی ابتدائی برتری (فرسٹ موور ایڈوانٹیج) کھو بیٹھتا ہے۔ طالبان، عراق، یوکرین، غزہ اور اب ایران سے متعلق تنازعات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ فوجی کارروائی کا مقصد غیر معینہ مدت تک دباؤ برقرار رکھنا نہیں ہوتا، بلکہ ایک واضح اور فیصلہ کن اسٹریٹجک نتیجہ حاصل کرنا اور پھر طاقتور فریق کی طے کردہ موافق شرائط پر بروقت انخلا کرنا ہوتا ہے۔
آپریشن سندور کے حوالے سے بھارت کا ردِعمل ایک مؤثر متبادل نمونہ پیش کرتا ہے، جسے دنیا کی بڑی فوجی طاقتیں، بالخصوص امریکہ، اپنے لیے سبق بنا سکتی ہیں۔ امریکہ کے صدر بارہا جنگ بندی کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کرتے رہے، لیکن بھاری فوجی اور معاشی نقصان پہنچانے کے باوجود ایران کے ساتھ جنگ بندی کرانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے برعکس، آپریشن سندور ایک متوازن اور سوچ سمجھ کر طاقت کے استعمال کی مثال ہے، جس میں اہداف واضح طور پر متعین تھے، اور ان کے حصول کے بعد نظم و ضبط کے ساتھ تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کیا گیا۔
آپریشن سندور کا آغاز پاکستان کے مضبوط جڑے ہوئے سکیورٹی ڈھانچے کی جانب سے ایک نہایت سفاک اشتعال انگیزی کے بعد ہوا، جس میں ہدایات کے تحت کام کرنے والے دہشت گردوں نے مذہب کی بنیاد پر صرف مرد افراد کو اُن کے اہلِ خانہ—بیویوں، بچوں اور والدین—کے سامنے بے دردی سے قتل کیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ نہ جذباتی اشتعال تھا اور نہ ہی بے لگام انتقامی کارروائی۔ اس کے برعکس، ایک منظم اور مرحلہ وار کشیدگی کا خاکہ اختیار کیا گیا، جس کی ہر سیڑھی سوچ سمجھ کر، تیز رفتار، سزا دینے والی اور مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے نپی تلی تھی۔ اس حکمتِ عملی کے ذریعے ایک طرف صلاحیت اور ارادے کا واضح پیغام دیا گیا، تو دوسری طرف کشیدگی کم کرنے کی گنجائش بھی برقرار رکھی گئی۔ یہ کمزوری نہیں بلکہ قابو اور نظم و ضبط کا مظہر تھا—جذبہ نہیں بلکہ وہ بے رحمانہ فیصلہ کن انداز جو ’’ جنگ شروع کرنےکے قانونی واخلاقی جواز‘‘ پر یقین اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد سے جنم لیتا ہے۔
بھارتی نقطۂ نظر کی سب سے نمایاں خصوصیت سیاسی و عسکری اہداف کی غیر مبہم وضاحت تھی۔ مقصد یہ تھا کہ سرحد پار دہشت گردی کے ذمہ دار ڈھانچوں اور عناصر پر فوری اور ٹھوس کارروائی کی جائے اور تدارکی حیثیت کو دوبارہ قائم کیا جائے—وہ بھی جوہری توازن اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ جب کلیدی اثاثوں کو تیزی سے ناکارہ بنا کر اور پاکستان کی فوجی قیادت کو نفسیاتی جھٹکا دے کر یہ اہداف حاصل ہو گئے تو بھارت نے خود ہی کشیدگی کو روک دیا۔
محض 88 گھنٹوں کے اندر بھارتی مسلح افواج نے اُن سیاسی ہدایات کے مطابق اپنے اہداف حاصل کر لیے جو واضح اور غیر مبہم تھیں۔ پاکستان کی فوجی قیادت، جو یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ وہ بغیر کسی انجام کے اشتعال انگیزی کر سکتی ہے، بالآخر جنگ بندی کی خواہاں ہوئی۔ حالات یہاں تک جا پہنچے کہ اُن کے سیاسی رہنما میڈیا پر خوف زدہ نظر آئے اور فوجی کمانڈر پس منظر میں چلے گئے۔
یہ مرحلہ نہایت اہم تھا، کیونکہ اس نے ایک بنیادی حقیقت کو نمایاں کر دیا۔ پاکستان کا اسٹریٹجک نظریہ طویل عرصے سے ’’ہزار زخم لگا کر بھارت کو کمزور کرنے‘‘ کے تصور کے گرد گھومتا رہا ہے، مگر وہ اس صلاحیت سے محروم ہے کہ ایک مختصر، تیز اور انتہائی شدت والی جوابی کارروائی کو برداشت کر سکے جو براہِ راست اس کی طاقت کے بنیادی مراکز کو نشانہ بنائے۔ بھارت کے خلاف مسلسل دشمنی پر اس کا انحصار محض نظریاتی نہیں بلکہ ادارہ جاتی بھی ہے، کیونکہ اسی تصادم کے بیانیے کے ذریعے پاکستان میں فوجی بالادستی کو تقویت ملتی ہے۔
بھارتی اسٹریٹجک حلقوں نے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ پاکستان سے اس کے بنیادی اسٹریٹجک رویے میں تبدیلی کی توقع رکھنا غیر حقیقت پسندانہ ہے، کیونکہ یہ دشمنی اتفاقی نہیں بلکہ اس کی بقا سے جڑی ہوئی ہے۔ چنانچہ بھارتی ردِعمل کا مقصد پاکستان کو ’’حل‘‘ کرنا نہیں تھا، بلکہ اس کو فوری طورپر چوٹ پہنچانا اور تدارکی حیثیت کو بحال کرنا تھا—وہ بھی اس طرح کہ خود کو لامتناہی کشیدگی کے چکر میں نہ پھنسا لیا جائے۔ یہی فرق فیصلہ کن ہے۔ چونکہ پاکستان میں فوجی بالادستی اسی تصادم کے تصور پر قائم ہے، جو وجودی خطرے اور مذہبی شناخت کے گرد گھومتا ہے، اس لیے حکمت یہ نہیں تھی کہ اس کے نظریاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے—جو اکثر ناممکن ہوتی ہے—بلکہ اس کے طرزِ عمل کو قابلِ اعتبار، محدود اور قابلِ تکرار اقدامات کے ذریعے ڈھالا جائے۔
امریکی پالیسی سازوں کے لیے یہ ایک واضح تقابل پیش کرتا ہے۔ امریکہ نے بارہا اپنی زبردست عسکری برتری کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن وہ اکثر اس برتری کو مختصر اور واضح اسٹریٹجک نتائج میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جب مہمات پر قابو نہ رکھا جائے تو وہ دائرۂ کار میں پھیل جاتی ہیں، مقصد میں ابہام آ جاتا ہے اور ابتدائی اہداف سے کہیں آگے نکل جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں اسٹریٹجک تھکن، وسائل کا ضیاع اور بعض اوقات ساکھ میں کمی واقع ہوتی ہے۔ حالیہ ایران تنازع میں بھی امریکہ کو اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا رہا—یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ عراق، افغانستان اور دیگر جنگوں کا تسلسل ہے جن میں امریکہ الجھتا چلا گیا۔
جاری ایران جنگ کے تناظر میں اگر “آپریشن سندور” کے نمونے کو ایک فرضی مثال کے طور پر دیکھا جائے تو یہ ایک سبق آموز خاکہ فراہم کرتا ہے۔ جوہری تنصیبات، بیلسٹک میزائل صلاحیتوں اور حکومتی قیادت کے اہم مراکز کو ہدف بنانے کی مرکوز مہم چند ہی ہفتوں میں اپنے مقاصد حاصل کر چکی تھی اور اسی کو اسٹریٹجک کامیابی کے طور پر متعین کیا جا سکتا تھا۔ ایک فیصلہ کن ضرب، جسے واضح انداز میں بیان کیا گیا ہو اور مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا ہو، ایران کی مزید کشیدگی بڑھانے کی صلاحیت کو پہلے ہی کمزور کر چکی تھی۔ اس کے بعد اگر مشن کی تکمیل کا اعلان کر کے سفارتی اور معاشی روابط کی طرف پیش قدمی کی جاتی—بجائے اس کے کہ غیر معینہ مدت تک عسکری موجودگی برقرار رکھی جاتی—تو سیاسی و عسکری اہداف حاصل کیے جا سکتے تھے ان خیالات کا اظہار مصنف نے مارچ 2026 میں ہندوستان کے ایک تھنک ٹینک ’کلاز‘میں شائع ہونے والے ‘اشو بریف 496‘میں کیا ہے۔
ایران بھی ابتدا ہی میں باعزت طریقہ سے نکلنے کے راستے کی تلاش تھا، مگر امریکی اہداف اسے مکمل طورپرفنا کرنے یا محکوم بنانے تک جا پہنچے۔ نتیجتاً ایک طویل مہم کا راستہ اختیار کیا گیا جس کا مقصد پورے سیاسی منظرنامے کو ازسرِنو تشکیل دینا تھا۔ اس حکمتِ عملی نے دوسرے اور تیسرے درجے کے ایسے نتائج پیدا کیے جو بالآخر امریکی مفادات اور وقار کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ طویل عسکری مہمات عموماً غیر متناسب جوابی کارروائیوں کو دعوت دیتی ہیں، داخلی حمایت کو کمزور کرتی ہیں اور ایسے جغرافیائی و سیاسی خلا پیدا کرتی ہیں جنہیں سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے—اور ایران نے ان تمام پہلوؤں میں مؤثر انداز سے ردِعمل دیا ہے۔ شدید نقصان اور تباہی کے باوجود وہ ایک حد تک مزاحمت اور استحکام کے ساتھ ابھرا ہے۔ اس کے برعکس، واضح اہداف پر مبنی مختصر اور فیصلہ کن مداخلت مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتی تھی اور ساتھ ہی اسٹریٹجک لچک بھی برقرار رکھتی۔
بھارتی نقطۂ نظر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید جنگ صرف طاقت کے استعمال کا نام نہیں، بلکہ مخالف اور عالمی برادری—دونوں کے تاثر کو سنبھالنے کا عمل بھی ہے۔ اپنے ردِعمل کو ناپ تول کر اختیار کرتے ہوئے بھارت نے ثابت کیا کہ وہ بغیر لاپرواہی کے بھی مضبوط عزم کا اظہار کر سکتا ہے۔ اس نے یہ پیغام دیا کہ اگرچہ وہ فیصلہ کن کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ساتھ ہی بے قابو تصادم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بھی پُرعزم ہے۔
اگرچہ بہت سے تبصرہ نگار مسلسل کشیدگی بڑھانے کے خواہاں تھے، مگر بھارتی قیادت نے محاذ آرائی کی کیفیت کو طول نہیں دیا۔ اس کے برعکس، اس نے تیزی سے اپنی وسیع تر قومی ترجیحات—خصوصاً طویل مدتی ترقیاتی سفر—کی طرف رخ کر لیا۔ نریندر مودی کی قیادت میں ملک نے 2047 کے لیے ایک بلند ہدف مقرر کیا ہے، جو اس کی آزادی کی صد سالہ تقریبات کا سال ہوگا۔ اس وژن میں معاشی ترقی، ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور عالمی انضمام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ آپریشن سندور پر وقتی توقف کے بعد بھارت نے ایک طرف پاکستان کی فوجی قیادت کو یہ واضح پیغام دیا کہ کسی بھی نئی لغزش کی صورت میں سخت ردِعمل دیا جائے گا، اور دوسری طرف اپنی طویل مدتی ترجیحات کی جانب پیش قدمی جاری رکھی۔ جنگ بندی کی پیشکش قبول کر کے اور طویل تصادم سے گریز کرتے ہوئے بھارت نے اپنی معاشی، سیاسی اور سماجی توجہ کو محفوظ رکھا—جو اس کے مستقبل کے اہداف کے لیے ناگزیر تھی۔ اس کے برعکس، وہ ممالک جو طویل جنگی مہمات میں الجھے رہتے ہیں، اکثر اپنی داخلی ترجیحات کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں، ان کے وسائل بکھر جاتے ہیں اور مسلسل جنگ کی فضا ان کے عالمی وقار کو بھی متاثر کرتی ہے۔
آپریشن سندور محض عسکری کارکردگی کی ایک مثال نہیں بلکہ ملکی حکمتِ عملی کا ایک اہم سبق بھی ہے۔ یہ اس بات کی رہنمائی کرتا ہے کہ طاقت کو محض گھِسا پِٹا اور اندھا دھند دباؤ ڈالنے کے بجائے پالیسی کے ایک نہایت دقیق اور مؤثر آلے کے طور پر کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ جب ضبط اور تحمل کو صلاحیت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس سے ساکھ کم نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوتی ہے۔ نیز یہ حقیقت بھی اجاگر ہوتی ہے کہ کسی فوجی کارروائی کو بروقت ختم کرنا اتنا ہی اہم ہے جتنا اسے شروع کرنا۔
بین الاقوامی برادری کے لیے اس میں ایک واضح پیغام ہے: پیچیدہ اور اکثر ناقابلِ حل دکھائی دینے والے تنازعات کی دنیا میں کامیابی کا معیار محض جنگ کے دورانیے سے نہیں بلکہ اہداف اور نتائج کے باہمی ربط سے طے ہوتا ہے۔ بھارت کے نپے تلے مگر مؤثر ردِعمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فیصلہ کن ضرب لگانا، مخالف کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرِثانی پر مجبور کرنا، اور پھر اپنی شرائط پر پیچھے ہٹ جانا ممکن ہے۔
یوں آپریشن سندور کی پوری ساخت نہ صرف ایک کامیاب حکمتِ عملی کی مثال ہے بلکہ ’’اسمارٹ پاور‘‘ کے نہایت منظم اور محتاط استعمال کی ایک نمایاں شکل بھی ہے۔
***
مضمون نگار: لیفٹیننٹ جنرل دیویندر پرتاب پانڈے (ریٹائرڈ)، جنہیں پی وی ایس ایم ، یو وائی ایس ایم ، اے وی ایس ایم اور وی ایس ایم جیسے اعلیٰ فوجی اعزازات سے نوازا گیا، چار دہائیوں سے زائد طویل فوجی خدمات کے حامل ہیں۔ انہوں نے کشمیر میں سات اہم آپریشنل تقرریوں کے علاوہ سیاچن اور چین کے محاذ پر بھی متعدد ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ سری نگر میں نہایت اہم اور چیلنجنگ 15 کور کے کمانڈر رہے اور عالمی شہرت یافتہ آرمی وار کالج کے کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں۔ نیشنل وار کالج ، واشنگٹن ڈی سی سمیت ڈبل ماسٹر ڈگری کے ساتھ ، وہ ڈیفنس اینڈ اسٹریٹجک اسٹریٹجی میں ایم فل ہیں ، انہوں نے ایک کتاب ’’ریفلیکشنز آن اسٹریٹجی‘‘ لکھی ہے اور مختلف تھنک ٹینکس و دیگر پلیٹ فارموں پر تقریباً 50 تحقیقی مضامین اور مقالے تحریر کر چکے ہیں۔ ان پر 200 سے زائد پوڈکاسٹس ہو چکے ہیں، جبکہ کرنل اجے رینا کی تصنیف ’’سولجرنگ ود پیشن‘‘ بھی ان کی شخصیت اور خدمات پر مبنی ہے۔ وہ قومی سلامتی کے تجزیہ کار کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں اور حکمتِ عملی، جغرافیائی سیاست اور قیادت جیسے موضوعات پر مختلف پلیٹ فارموں پر خطبات دیتے رہتے ہیں۔ نوجوانوں میں خاصے مقبول ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی ان کی نمایاں فالوونگ موجود ہے۔
****

Previous Post

No NC MLA Will Defect, Cabinet Expansion at Appropriate Time: CM Omar Abdullah

Next Post

آپریشن سندور: وہ حل جس نے ہندوستان کی اسٹریٹجک پوزیشن کو نئی شکل دی

قلمکار: لیفٹننٹ جنرل دیویندر پرتاپ پانڈے ریٹائرڈ

قلمکار: لیفٹننٹ جنرل دیویندر پرتاپ پانڈے ریٹائرڈ

Next Post

آپریشن سندور: وہ حل جس نے ہندوستان کی اسٹریٹجک پوزیشن کو نئی شکل دی

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.