مجھے اس سے عشق ہے
مجھے اس کی عادت ہے
ہونٹوں پہ اس کی مٹھاس ہے
چائے میرے لیے خاص ہے
مجھے اس کی طلب ہے
مجھے اس کا نشہ ہے
بھرا ہوا کپ میرے پاس ہے
چائے میرے لیے خاص ہے
مجھے اس کی خوشبو کا اثر ہے
صبح، دوپہر، شام اس کا انتظار ہے
منہ میں اس کی پیاس ہے
چائے میرے لیے خاص ہے
مجھے اس کا رنگ بھاتا ہے
ہر گھونٹ دل کو لبھاتا ہے
ہر دن اس کی آس ہے
چائے میرے لیے خاص ہے
مجھے اس کا جنون ہے
رگوں کا میرے خون ہے
ہر پل اس کا احساس ہے
چائے میرے لیے خاص ہے
کبھی چولہے پہ گرتی ہے
کبھی میرے کپڑوں پر
کرتی خراب میرا لباس ہے
چائے میرے لیے خاص ہے
نہ ملنے پہ یہ ضد ہے
رہتی اس کی تلاش ہے
دن اس کے بن اداس ہے
چائے میرے لیے خاص ہے
’’دانش عائشہ‘‘

