• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Monday, July 6, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

الد محترم کو ہم سے بچھڑے ہوئے پورے نو سال گزر گئے

تحریر امان ملک by تحریر امان ملک
July 6, 2026
in اردو خبریں
A A
الد محترم کو ہم سے بچھڑے ہوئے پورے نو سال گزر گئے
FacebookTwitterWhatsapp

 

* ہانجی دانتر اننت ناگ کشمیر *
فون نمبر : 7006773189

میں نے دیکھا ہے ایک فرشتہ باپ کے روپ میں کبھی کبھی والدکی جدائی کے غم کے بارے میں کسی دوست یا رشتہ دار سے بات کرنے اور رونے سے بھی دل ہلکا ہوجاتا ہے۔ مگردوسروں کے لئے یہ سمجھنامشکل ہوتاہےکہ یہ انسان باربارایک ہی بات کیوں دھراتاہے مگریہ میرے غم کے کم ہونے اوراس پرقابوپانے کاایک ذریعہ ہوتاہے تاکہ دل کاغبارنکلے۔ میرے دل کے ہرخانوں میں ہر وقت والد محترم کا ہنستا مسکراتا چہرہ سمایا رہتا ہے ایسے لگتا ہےجیسے زندگی کا سارا حُسن ان دلکش لوگوں کی وجہ سے تھا۔میرے والد مخترم ایسے ملنسار،محبت کرنے والے شفیق باپ تھے جن کا بیٹا ہونے پر مجھے ہمیشہ فخر رہےگا ۔ خیالات اورالفاظ جتنے بھی حسین بامعنی اوراخترام سے بھرے ہوئے ہوںوالد محترم کی جدائی کا غم قلم کی گرفت میں نہیں آسکتا ۔ اگرحقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو زندگی چیزوں اور سہولتوں کا نام نہیں بلکہ زندگی احساسات اور جذبات کا نام ہے، اگرچہ زندگی بہت کچھ پا کر کھونے کا نام ہے مگر کبھی کبھی جذبات والد کی جدائی پر آنکھوں کو پانی پانی کر دیتے ہیں۔

قبلہ گاہ، ابو جی، باپ، والد اور جس نام سے بھی یاد کیا جائے تو ایک ایسی شخصیت کا روپ سامنے آتا ہے جواپنے اولاد کے لیے شفقت، پیار اور تحفّظ کی سب سے بڑی علامت ہے۔ والد وہ واحد ہستی ہے جو اپنے بچوں کو تر قی کرتے ہوئے دیکھنے کا خواہش مند ہوتاہے۔بچے کی پیدائش کے بعدمعاشرے میں اعلیٰ مقام دلانے کیلئے باپ اپنی ہستی کو مٹی میں ملانے سے بھی دریغ نہیں کرتا اولادکی ترقی خوشحالی کی وجہ سے معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کیلئے وہ ساری زندگی سر جھکا کر محنت کرتا ہے۔باپ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم ترین نعمت ہے۔خوش نصیب اور خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں یہ عظیم نعمت میسر ہے۔

آف خدایا۔۔۔۔آج سے نو سال قبل 07 جولائی 2017، ٢ جمادی الثانی 1439ھ صبح 4 بجے بروز جمعہ جب میں اِس عظیم ترین نعمت سے محروم ہو گیا۔ جب مجھ بدنصیب کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا، پاؤں تلے زمین نکل گئی، یہ وہ سیاہ دن تھا میرے لئے جب میرے والد محترم *مرحوم محمد امین ملک* اس فانی دنیا سے رخصت فرما کر مالک حقیقی سے جا ملے۔ زندگی جہاں بہاریں ہی بہاریں تھیں، وہاں اک ایسی خزاں نے ڈھیرا ڈالا کہ خوشیاں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے روٹھ گئیں، یوں میرے خوشیوں اور مسرتوں پر ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اس وقت والد محترم کی وفات میرے لئے ایک چیلنج بن کر سامنے آگئی۔زندگی میں وہ دن کبھی نہیں بھولایا جائے گا جب کوئی محبت کرنے والا جدا ہوا ہو۔ والد کا رشتہ ماں کے بعد تمام انسانی رشتوں میں مقدس اور اعلیٰ تصور کیا جاتا ہے ۔ میرے والد کا شمار بھی ایسے ہی عظیم لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک اپنی اولاد کی تربیت اور محبت کے لئے وقف کیا تھا۔والدکی زندگی میں اولاد معاشرے کے رسم رواج کے بندھن سے آزادہوتے ہیں ۔ اُن کی نیک دعائیں ہمیشہ ہمارے پاس ہوتے ہیں۔
والد محترم نے اپنے عمرکے تقریباً 80 سال علاقے کے سماجی، تعلیم اور فلاحی خدمات میں گزارے ہیں جس کی وجہ سے گاؤں کے مکین اُن کی جدائی کو علاقے کے لئے ناقابل تلفی نقصان قرار دیتے ہیں۔ والد محترم کو اللہ تعالیٰ نے بہت ساری نعمتوں سے نوازنے کے ساتھ ساتھ عاجزی اور انکساری کی بہت بڑی دولت عطاء کی تھی۔ 07 جولائی 2017 کو میرے والد محترم مرحوم * محمد امین ملک *( زونل ایجوکیشن آفیسر) ہم سے بچھڑ گئے مگر ان کی یادیں اور اُن کی جدائی کا درد آج بھی تازہ ہے۔ اُن کی محبت اور یادیں اس درد بھرے دل کو کبھی آنسوؤں کی طوفان میں بہاتے ہیں کبھی خشک صحر اکے دھوپ میں جلاتے ہیں۔ والد محترم گھر کی تمام رنگینوں کو اپنے ساتھ ہی لیکر گئے۔

اگرچہ یہ دنیا عارضی ہے او راس کو سب نے ایک نہ ایک دن چھوڑنا ہی ہے۔ لیکن کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن میں والد خاص طور پر شامل ہیں ان کی اچانک جدائی کا سوچ کر سب کچھ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ لوگوں کی زبانی یہ سن کر مجھے خوشی ہوتی ہے کہ میں ایک ایسے باپ کا بیٹا ہوں جس نے اپنی محنت، لگن، شوق، دیانت داری اور وفاداری کے ساتھ ساتھ اپنے قائم کردہ اصولوں، خیالات، سوچ، فکر، اخلاقی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے ایک بھر پور زندگی گزاری ہے اور اس کا عملی اعتراف علاقے کے ہربچہ بچہ سبھی کرتے ہیں۔

والد محترم کوکئی بارخواب میں دیکھا وہ سفیدکپڑوں اورسرپرسفیدٹوپی رکھ کرمسکراہتے ہوئے میرے سامنے کھڑے نظرآتے ہیں ۔میں اُن سے لپٹ کرکتنے باتین کی گلے شکوے کئے اوربہت روئیا ۔مگراسی لمحے آنکھوں کا کھل جانے کالمحہ کسی سزاسے کم نہیں ہوتا۔میرے پیارے پیارے والد محترم آپ کابیٹا ہر لمحہ آپ کو دعاؤں میں یاد رکھتاہے ،بارگاہ الہی میں آپ کے بڑے درجات اوراونچے مرتبوں پہ فائز ہونے کی دعاکرتاہوں ۔اس وقت میں اپنے آپ کوتنہا اوراداس محسوس کرتاہوں مگرمیں ذاتی طور پر آج جو کچھ بھی ہوں، جو عزت ملی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فضل کرم اور میرے والد کی محنت اوردعاوں کانتیجہ شامل ہے۔ میرا سرفخرسے بلند ہوتاہے جب لوگ شاندار الفاظ میں میرے والد کی خدمات، شفقتوں اور محبّتوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ حقیقی معنوں میں وہ ایک درویش انسان تھے۔ پورے علاقے میں ان کی حیثیت ایک بزرگ کی تھی۔ میرے سب سے التجاء ہے کہ جن خوش بخت لوگوں کے والد ابھی حیات ہیں، وہ اْن کی قدر کریں،اْن کی خدمت کریں،اْن کی فرمانبرداری کریں، اْنکو ہر حال میں خوش رکھیں۔اللہ تعالیٰ والدمحترم کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے ۔ آمین ثمہ آمین

Previous Post

Shopian Admin Bans Bursting of Firecrackers After 10 PM

تحریر امان ملک

تحریر امان ملک

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.