کپواڑہ، ضلع کپواڑہ کے بلاک کلاروس میں واقع ٹراؤٹ نالہ سے ٹریکٹروں کے ذریعے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر ریت، باجری اور پتھر نکالنے کا سلسلہ دن رات جاری ہے، جس پر مقامی زمینداروں اور عوام نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مقامی زمینداروں نے نمایندے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس غیر قانونی کان کنی کے باعث نہ صرف زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے بلکہ ٹراؤٹ نالے کی قدرتی ساخت، آبی حیات اور پورا ماحولیاتی نظام بھی مسلسل متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے زرعی زمینوں کو محفوظ رکھنے کے لیے تعمیر کیے گئے حفاظتی کریٹ بند بھی بعض ٹریکٹر مالکان نے مبینہ طور پر اکھاڑ دیے ہیں، جبکہ نکالا گیا ریت، باجری اور پتھر رات کی تاریکی میں کلاروس سے لولاب تک مختلف مقامات پر فروخت کیا جاتا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق رات بھر ٹریکٹروں کی آمدورفت سے عوام کی نیند بھی متاثر ہوتی ہے اور مسلسل شور و غل کی وجہ سے لوگ سخت پریشانی کا شکار ہیں۔
زمینداروں نے مزید بتایا کہ مسلسل کھدائی کے باعث نالے کی قدرتی ساخت تبدیل ہو رہی ہے، جس سے زرعی اراضی، ٹراؤٹ مچھلیوں کے مسکن اور ماحولیات کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں اس کے مزید سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس چوکی کلاروس نے کئی بار کارروائی کرکے ان عناصر کی لگام کسنے کی کوشش کی، جس پر وہ پولیس کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔ اسی طرح محکمہ مائننگ اور محکمہ فشریز نے بھی جرمانے عائد کیے، تاہم ان کے مطابق اس کے باوجود مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔
آخر میں مقامی زمینداروں اور عوام نے ضلع انتظامیہ کپواڑہ، ڈسٹرکٹ مائننگ آفیسر کپواڑہ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر موقع کا معائنہ کرکے ٹراؤٹ نالہ میں جاری مبینہ غیر قانونی کان کنی پر مکمل روک لگائیں اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں، تاکہ زرعی زمینیں، ٹراؤٹ نالہ، آبی حیات، ماحولیاتی نظام اور سرکاری املاک کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

