قارئین،تعلیم انسان کی زندگی بدلنے کی سب سے مؤثر قوت سمجھی جاتی ہے، اور جب یہی روشنی دور افتادہ اور دشوار گزار سرحدی علاقوں تک پہنچتی ہے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ جموں و کشمیر کے سرحدی خطے کرناہ اور ٹنگڈار سے تعلق رکھنے والے تین طلبہ کی قومی سطح کے طبی داخلہ امتحان نیٹ (NEET) 2026میں کامیابی اسی حقیقت کا عملی ثبوت ہے۔ ان نوجوانوں نے نہ صرف اپنی ذاتی محنت کا لوہا منوایا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ اگر مناسب رہنمائی، معیاری تعلیم اور سازگار ماحول میسر ہو تو سرحدی علاقوں کے طلبہ بھی قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرسکتے ہیں۔اس سال آرمی گڈوِل اسکولوں کے تین ہونہار طلبہ نے نیٹ امتحان میں کامیابی حاصل کرکے پورے کرناہ،ٹنگڈار خطے کا سر فخر سے بلند کردیا۔ آرمی گڈوِل اسکول وین کی طالبہ انشاء فاطمہ نے 571 نمبر حاصل کرکے شاندار کامیابی درج کی، جبکہ آرمی گڈوِل اسکول حاجی نار کے طالب علم فیصل مغل نے 501 اور زبیر الطاف نے 472 نمبر حاصل کیے۔ ملک کے مشکل ترین مقابلہ جاتی امتحانات میں شمار ہونے والے نیٹ میں یہ کامیابی اس لیے بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ان طلبہ کا تعلق ایسے سرحدی علاقوں سے ہے جہاں آج بھی تعلیمی وسائل، کوچنگ سہولیات اور دیگر بنیادی امکانات بڑے شہروں کے مقابلے میں محدود ہیں۔کرناہ اور ٹنگڈار جیسے پہاڑی سرحدی علاقے اپنی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ جغرافیائی مشکلات کے لیے بھی معروف ہیں۔ شدید برف باری، دشوار گزار راستے، موسمی بندشیں اور محدود تعلیمی وسائل یہاں کے طلبہ کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان علاقوں کے نوجوان مسلسل یہ ثابت کر رہے ہیں کہ کامیابی کا انحصار صرف سہولیات پر نہیں بلکہ عزم، محنت اور صحیح رہنمائی پر بھی ہوتا ہے۔ نیٹ جیسے قومی امتحان میں کامیابی اس بات کی روشن مثال ہے کہ سرحدی علاقوں کے نوجوان بھی کسی سے کم نہیں۔
قارئین کو بتادیں کہ آرمی گڈوِل اسکولوں نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سرحدی علاقوں میں معیاری تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سن 1999 میں قائم ہونے والا آرمی گڈوِل اسکول حاجی نار اور اس کے ساتھ آرمی گڈوِل اسکول وین نے ہزاروں طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا ہے۔ ان اداروں نے صرف نصابی تعلیم تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ طلبہ کی شخصیت سازی، قائدانہ صلاحیتوں کی نشوونما، کھیلوں، سائنسی سرگرمیوں اور ہم نصابی پروگراموں پر بھی خصوصی توجہ دی۔ یہی جامع تعلیمی ماحول طلبہ کو قومی سطح کے مقابلہ جاتی امتحانات میں حصہ لینے اور نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے کا حوصلہ فراہم کرتا ہے۔انشاء فاطمہ، فیصل مغل اور زبیر الطاف کی کامیابی کئی برسوں کی مسلسل محنت، منظم تیاری اور والدین و اساتذہ کی رہنمائی کا نتیجہ ہے۔ کسی بھی طالب علم کے لیے نیٹ امتحان میں کامیابی ایک بڑا سنگ میل ہوتی ہے، لیکن جب یہی کامیابی دور دراز سرحدی اور پہاڑی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ حاصل کریں تو اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ان کی کامیابی ان تمام نوجوانوں کے لیے امید کا پیغام ہے جو محدود وسائل کے باوجود بڑے خواب دیکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔گزشتہ چند برسوں کے دوران آرمی گڈوِل اسکولوں کے طلبہ مختلف تعلیمی میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ بورڈ امتحانات میں نمایاں نتائج، قومی سطح کے مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابیاں، ممتاز تعلیمی اداروں میں داخلے اور اختراعی و تحقیقی سرگرمیوں میں شرکت اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان اداروں نے سرحدی علاقوں میں تعلیم کا معیار بلند کرنے میں قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے۔ ان اسکولوں کی یہ روایت واضح کرتی ہے کہ صلاحیتیں کسی ایک علاقے یا طبقے تک محدود نہیں ہوتیں، بلکہ مناسب مواقع ملنے پر ہر طالب علم اپنی منزل حاصل کرسکتا ہے۔تعلیمی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ اس نوعیت کی کامیابیاں جموں و کشمیر کے تعلیمی منظرنامے میں مثبت تبدیلی کی علامت ہیں۔ آج سرحدی اور دور افتادہ علاقوں کے نوجوان طب، انجینئرنگ، سول سروسز، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔ یہ کامیابیاں نہ صرف پرانے تصورات کو بدل رہی ہیں بلکہ یہ پیغام بھی دے رہی ہیں کہ جغرافیائی فاصلے اور محدود وسائل بلند حوصلوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔کرناہ، ٹنگڈھار اور دیگر سرحدی علاقوں کے طلبہ کے لیے ان تین نوجوانوں کی کامیابی یقیناً مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔ جب کسی علاقے کے نوجوان قومی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھاتے ہیں تو اس کے اثرات صرف ایک خاندان یا ایک ادارے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ نئی امنگوں اور نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے لگتا ہے۔ اس سے والدین میں بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے اعتماد پیدا ہوتا ہے اور دیگر طلبہ بھی محنت اور لگن کے ساتھ اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔یہ کامیابی صرف انشاء فاطمہ، فیصل مغل اور زبیر الطاف کی ذاتی فتح نہیں بلکہ ان کے والدین، اساتذہ، آرمی گڈوِل اسکولوں کی انتظامیہ اور پورے سرحدی معاشرے کی مشترکہ کاوشوں کا ثمر ہے۔ یہ نوجوان اس حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہیں کہ اگر تعلیم کو ترجیح دی جائے، طلبہ کی صحیح رہنمائی کی جائے اور انہیں بہتر ماحول فراہم کیا جائے تو دور دراز سرحدی بستیاں بھی ملک کو بہترین ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان اور دیگر ماہرین فراہم کر سکتی ہیں۔ بلاشبہ ان کی یہ کامیابی جموں و کشمیر کے روشن تعلیمی مستقبل کی ایک امید افزا علامت ہے۔
