امروہی کرناہ، 28 جولائی: روبل ناگی آرٹ فاؤنڈیشن (RNAF) نے اے ماشیلکر فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منگل کے روز کشمیر میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی کمیونٹی ہیلتھ کیئر منصوبے کا آغاز کیا۔ اس منصوبے کا آغاز سرحدی علاقوں امروہی، ٹنگدھار اور شونگلی پورہ-سنگم روڈ، لوکچر کالونی سے کیا گیا۔
بیان کے مطابق اس منصوبے کے تحت AffEx Kit نامی سی ڈی ایس سی او (CDSCO) سے منظور شدہ AI سے لیس طبی آلات کا استعمال کیا جائے گا، جو ایک ہی کمیونٹی دورے کے دوران خون کی کمی (انیمیا)، غذائی قلت، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کی غیر معمولی آوازوں (Cardiac Murmurs)، تپ دق (TB)، دمہ (Asthma)، دائمی پھیپھڑوں کی بیماری (COPD) سمیت متعدد عام بیماریوں کی ابتدائی جانچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جن افراد میں کسی بیماری کا خطرہ پایا جائے گا، انہیں مزید تشخیص اور علاج کے لیے قریبی طبی مراکز سے رجوع کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔
اس پروگرام کا ایک اہم مقصد مقامی خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانا بھی ہے۔ انہیں AI سے لیس تشخیصی آلات چلانے، ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹمز کے انتظام اور کمیونٹی سطح پر صحت کی جانچ مہمات کی قیادت کرنے کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ منتظمین کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف احتیاطی صحت کے نظام کو فروغ ملے گا بلکہ دور افتادہ سرحدی علاقوں کی خواتین کے لیے روزگار اور قیادت کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
روبل ناگی آرٹ فاؤنڈیشن کی بانی روبل ناگی نے کہا کہ یہ منصوبہ ان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ان کا تعلق جموں و کشمیر کے ایک فوجی خاندان سے ہے اور وہ طویل عرصے سے خطے میں تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے، ہنر مندی کی تربیت اور سماجی فلاح و بہبود کے شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا:”جموں و کشمیر ہمیشہ میرے دل کے بہت قریب رہا ہے۔ ہمارا مشن یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر خاندان، خواہ وہ کسی بھی دور دراز علاقے میں رہتا ہو، معیاری صحت کی سہولیات، تعلیم اور ترقی کے مواقع سے مستفید ہو۔ مقامی خواتین کو AI پر مبنی صحت کی مہارتوں سے آراستہ کر کے ہم نہ صرف صحت کے بہتر نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں بلکہ اندرونی سطح پر مضبوط اور خود کفیل کمیونٹیز بھی تشکیل دے رہے ہیں۔”
روبل ناگی آرٹ فاؤنڈیشن اور اے ماشیلکر فاؤنڈیشن کے درمیان یہ اشتراک جموں و کشمیر کے پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں تک جدید ٹیکنالوجی پر مبنی صحت کی سہولیات پہنچانے، جامع ترقی کو فروغ دینے اور مقامی کمیونٹیز کو بااختیار بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

