کرناہ/ اگست 8/ سب ڈویژن کرناہ کے عوام کی دیرینہ مانگ کو پورا کرتے ہوئے نالہ بت موجی پر کنڈی اور دلدار کے مقامات پر پیدل آمدورفت کے لیے دو پلوں کی تعمیر کو یو ٹی کیپیکس بجٹ کے تحت باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔ دونوں منصوبوں کی منظوری سے نالہ بٹ موجی کے اطراف آباد لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ مقامی آبادی نے حکومت اور متعلقہ نمائندگان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق کنڈی اور دلدار میں تعمیر کیے جانے والے دونوں فٹ برجوں میں سے ہر ایک کی مجموعی تخمینہ لاگت 40 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ ابتدائی مرحلے میں ہر پل کے لیے 12 لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ منصوبوں کا مقصد نالہ بٹ موجی کے دونوں اطراف رہنے والی آبادی کو محفوظ، آسان اور مختصر راستہ فراہم کرنا ہے۔
نالہ بٹ موجی کے باعث برسوں سے مقامی لوگوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر بارشوں اور برف باری کے دوران نالے میں پانی کی سطح بڑھنے سے لوگوں کے لیے ایک طرف سے دوسری طرف جانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں طلبہ کو اسکول اور تعلیمی اداروں تک پہنچنے، خواتین اور بزرگوں کو ضروری کاموں کے لیے سفر کرنے، جبکہ روزانہ مزدوری یا دیگر پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے آنے جانے والے افراد کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کنڈی اور دلدار میں فٹ برجوں کی تعمیر سے نہ صرف دونوں اطراف کی آبادی کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا بلکہ لوگوں کو نالہ عبور کرنے کے لیے طویل یا غیر محفوظ راستے اختیار کرنے کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے محض دو پلوں کی تعمیر نہیں بلکہ علاقے کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات میں ایک اہم پیش رفت ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان منصوبوں کو منظوری دلانے میں ممبر اسمبلی کرناہ جاوید احمد مرچال کی مسلسل کاوشوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ عوامی مسائل اور بالخصوص دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کمی کو مختلف سطحوں پر اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے ان فٹ برجوں کی تعمیر کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانے کی کوشش کی۔
ممبر اسمبلی کرناہ جاوید احمد مرچال نے کہا کہ عوام سے کیے گئے وعدوں کو مرحلہ وار عملی شکل دی جا رہی ہے اور کرناہ کے دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش آمد و رفت، سڑک، پل، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کنڈی اور دلدار میں فٹ برجوں کی تعمیر سے مقامی آبادی کو خاص طور پر طلبہ، خواتین، بزرگوں اور روزانہ سفر کرنے والے افراد کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ ان کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کا اصل مقصد عوام کی روزمرہ مشکلات کو کم کرنا اور دور دراز علاقوں کے لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
دریں اثنا، کنڈی، دلدار اور نالہ بٹ موجی کے آس پاس رہنے والے لوگوں نے فٹ برجوں کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم عوامی ضرورت کی تکمیل قرار دیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ طویل عرصے سے درپیش تھا اور مختلف مواقع پر متعلقہ حکام کے سامنے اسے اٹھایا جاتا رہا ہے۔
مقامی آبادی نے امید ظاہر کی کہ منظوری کے بعد منصوبوں کے ٹینڈر اور دیگر رسمی کارروائیوں کو جلد مکمل کرکے تعمیراتی کام زمینی سطح پر شروع کیا جائے گا۔ لوگوں نے متعلقہ محکمے سے مطالبہ کیا کہ تعمیر کے دوران معیار، مضبوطی اور حفاظتی اصولوں کا خاص خیال رکھا جائے تاکہ یہ فٹ برج طویل عرصے تک عوام کے لیے محفوظ اور قابلِ استعمال رہیں۔
عوام نے کہا کہ کرناہ جیسے دشوار گزار اور پہاڑی علاقے میں چھوٹے مگر عوامی ضرورت سے جڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے روزمرہ زندگی میں بڑا فرق پیدا کرتے ہیں۔ کنڈی اور دلدار میں فٹ برجوں کی تعمیر بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس سے مقامی آبادی کو برسوں سے درپیش آمد و رفت کی مشکلات کم ہونے کی امید ہے۔
مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نالہ بٹ موجی کے دیگر حساس مقامات کا بھی جائزہ لیا جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں مزید پلوں، حفاظتی دیواروں اور دیگر بنیادی سہولیات کی تعمیر کو ترجیح دی جائے، تاکہ بارشوں اور برف باری کے دوران عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
