کرناہ// کرناہ میں سومو یونین کی جانب سے بس سروس کے خلاف ہڑتال کی گئی، جس کے باعث دن بھر سومو گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔ سومو یونین نے علاقے میں چلنے والی بس سروس کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم مقامی عوام نے یونین کی ہڑتال اور مطالبے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے بس سروس کو غریب عوام کے لیے ایک بڑی راحت قرار دیا ہے۔
سومو یونین کے صدر نثار احمد چک نے کہا کہ بس سروس شروع ہونے سے مقامی سومو ڈرائیوروں اور گاڑی مالکان کے روزگار پر براہِ راست اثر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد نوجوانوں نے قرض لے کر گاڑیاں خریدی ہیں اور اپنی روزی روٹی کا ذریعہ بنایا ہے، جبکہ کئی پڑھے لکھے نوجوان بھی سومو چلا کر اپنے اہلِ خانہ کا خرچ پورا کر رہے ہیں۔
نثار احمد چک کا کہنا تھا کہ “ہم نے قرض لے کر گاڑیاں خریدی ہیں اور اپنے روزگار کا ذریعہ بنایا ہے۔ بس سروس شروع ہونے کے بعد ہماری سواری اور آمدنی میں شدید کمی آئی ہے، جس سے ہمارے لیے قرضوں کی اقساط اور گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔” انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ سومو یونین کے مسائل کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے بس سروس کے معاملے پر مناسب فیصلہ کیا جائے۔
دوسری جانب مقامی عوام کا کہنا ہے کہ بس سروس شروع ہونے سے عام اور غریب لوگوں کو سفری سہولت میسر ہوئی ہے اور وہ کم کرائے میں اپنے سفر کا انتظام کر پا رہے ہیں۔ عوام کے مطابق سومو گاڑیوں کے نسبتاً زیادہ کرائے کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کے لیے سفر کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ بس سروس ان کے لیے ایک بڑی راحت ثابت ہو رہی ہے۔
مقامی لوگوں نے کہا کہ عوام کو بہتر اور سستی سفری سہولت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور کسی ایک ٹرانسپورٹ سروس کے روزگار کو تحفظ دینے کے لیے عوام کو سستی سفری سہولت سے محروم کرنا مناسب نہیں۔ تاہم عوام نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ سومو یونین کے خدشات کو بھی سنا جائے اور تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ایسا حل نکالا جائے جس میں ٹرانسپورٹروں کے روزگار کے ساتھ ساتھ عوامی سہولت بھی برقرار رہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مناسب مسابقت ہونی چاہیے تاکہ مسافروں کو بہتر سہولیات اور مناسب کرائے میں سفر کی سہولت حاصل ہو سکے

