کرناہ، 10 ستمبر: سرحدی سب ڈویژن کرناہ کے علاقے کنڈی سے فیض آباد تک رابطہ سڑک کی تعمیر کے دیرینہ مطالبے کو بالآخر عملی جامہ پہنایا جا چکا کی ہے۔ سڑک کے اس اہم منصوبے کو گرین سگنل ملنے پر فیض آباد کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ منصوبے کی کل متوقع لاگت تقریباً 4 کروڑ روپے بتائی گئی ہے، جبکہ اس میں سے 3.5 کروڑ روپے کی منظوری ہوچکی ہے۔
اس اہم پیش رفت پر فیض آباد کے عوام نے حکومت، متعلقہ محکموں اور خصوصاً سب ڈویژنل مجسٹریٹ کرناہ ریاض احمد کا شکریہ ادا کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کنڈی–فیض آباد سڑک ان کی ایک دیرینہ ضرورت اور برسوں پرانا مطالبہ تھا، جس کے لیے وہ مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
فیض آباد کے عوام کی جانب سے ریٹائرڈ سب انسپکٹر اشرف میر اور ریٹائرڈ ماسٹر رشید اعوان نے ایس ڈی ایم کرناہ ریاض احمد اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا برسوں پرانا مطالبہ بالآخر پورا ہونے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے لوگوں کو اس سڑک کی اشد ضرورت تھی اور اس کی تعمیر سے عوام کو آمدورفت کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، تجارت اور روزمرہ زندگی میں بھی نمایاں سہولت حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سڑک کی منظوری نہ صرف فیض آباد بلکہ کنڈی اور آس پاس کے علاقوں کے لیے بھی ترقی کی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ بہتر سڑک رابطہ علاقے کے لوگوں کو مرکزی علاقوں سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت اور روزگار کے مواقع کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
اس منصوبے کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ کنڈی کے متعدد مقامی لوگوں نے سڑک کی تعمیر کے لیے اپنی مالکانہ اراضی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ علاقے کے وسیع تر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔کنڈی کے لوگوں نے کہا کہ ایس ڈی ایم کرناہ ریاض احمد کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے لیے دکھائے جانے والے خلوص، ایمانداری، سنجیدگی اور عوام کے ساتھ محبت و ہمدردی نے انہیں متاثر کیا، جس کے بعد انہوں نے سڑک کے لیے اپنی قیمتی زمین دینے کا فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب انتظامیہ اور عوام کے درمیان اعتماد قائم ہو اور افسران لوگوں کے مسائل کو سنجیدگی سے سنیں تو عوام بھی ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے اپنا بھرپور تعاون پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی زمین علاقے کی بہتر سڑک اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے دینا ان کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔
مقامی لوگوں نے کہا کہ کنڈی کے زمینداروں کی جانب سے اراضی فراہم کرنا ایک قابلِ تحسین اور مثالی اقدام ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے ترقیاتی منصوبے کی تکمیل میں عوامی تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
4 کروڑ کا منصوبہ، 3.5 کروڑ منظور
ذرائع کے مطابق کنڈی–فیض آباد سڑک کے پورے منصوبے کی کل لاگت تقریباً 4 کروڑ روپے ہے، جبکہ فی الحال 3.5 کروڑ روپے کی منظوری حاصل ہوچکی ہے۔ عوام نے امید ظاہر کی ہے کہ باقی رقم کی منظوری اور دیگر ضروری رسمی کارروائیوں کو بھی جلد مکمل کیا جائے گا تاکہ سڑک کی تعمیر کا کام زمینی سطح پر تیزی سے شروع ہوسکے۔
فیض آباد کے عوام نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ منصوبے کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے اور تعمیراتی کام میں معیار کو اولین ترجیح دی جائے، تاکہ برسوں سے سڑک کی سہولت کے منتظر لوگوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
عوامی حلقوں نے کہا کہ کنڈی–فیض آباد سڑک صرف ایک رابطہ سڑک نہیں بلکہ علاقے کی ترقی، خوشحالی اور بہتر مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت مستقبل میں بھی کرناہ کے دور دراز اور سرحدی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے اسی جذبے کے ساتھ اقدامات جاری رکھے گی۔
فیض آباد کے عوام نے ایک مرتبہ پھر ایس ڈی ایم کرناہ ریاض احمد، حکومت اور کنڈی کے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس اہم منصوبے کی تکمیل کے لیے اپنی زمین دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ عوام کا کہنا ہے کہ اجتماعی تعاون اور انتظامیہ کی سنجیدہ کوششوں سے ہی اس دیرینہ خواب کو حقیقت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

