ہر سال کی طرح اس سال بھی ادبی مرکز کمراز کی جانب سے ایک دعوت نامہ بذریعہ واٹس ایپ موصول ہوا۔ ایک لمحے کے لیے نگاہیں کانفرنس کے عنوان پر ٹھہر گئیں۔ اس بار کانفرنس کا موضوع نہایت دلکش، بامعنی اور اپنے اندر ایک وسیع تہذیبی و ادبی جہان سمیٹے ہوئے تھا:
’’کاشر زبانئ عقیدتی ادبک دیت‘‘
ایک طرف ربیع الاول کا متبرک مہینہ اپنی روحانی برکتوں کے ساتھ جلوہ گر تھا اور دوسری طرف کانفرنس کا عنوان بھی اسی نسبت سے نہایت موزوں محسوس ہورہا تھا۔ یوں محسوس ہوا جیسے ادبی مرکز کمراز نے اس مرتبہ محض ایک ادبی اجتماع کا اہتمام نہیں کیا، بلکہ کشمیری زبان کے اس عقیدتی سرمائے کی طرف متوجہ ہونے کی ایک سنجیدہ اور بامعنی کوشش کی ہے، جس نے صدیوں سے کشمیری سماج کے مذہبی احساس، تہذیبی حافظے اور شعری اظہار کو اپنے اندر محفوظ رکھا ہے۔
5ستمبر2026 صبح جب میں نے یہ طے کیا کہ دفتر میں دوسرے نصف حصے کی چھٹی رکھ کر حاجن کی طرف رختِ سفر باندھوں گا، تو اچانک موبائل فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ میں نے فون کی اسکرین پر نظر ڈالی تو ایک مانوس نام روشن ہورہا تھا۔ نام دیکھتے ہی دل میں ایک خوشگوار سی فرحت دوڑ گئی۔دوسری طرف فکشن رائٹرز گلڈ کے نائب صدر، جناب شوکت شفیع تھے۔
سلام دعا کے بعد انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں دریافت کیا:
’’سالک صاحب! حاجن جانے کا کوئی ارادہ ہے؟‘‘
میں نے نہایت ادب سے عرض کیا:
’’ان شاء اللہ، جانے کا پکا ارادہ ہے۔‘‘
بات آگے بڑھی تو میں نے کہا:
’’آپ ایک بجے صنعت نگر چوک تک آجائیے، وہیں سے اکٹھے چلتے ہیں۔‘‘
یوں ایک مختصر سی ٹیلی فونک گفتگو نے اس دن کے سفر کو ایک نئی معنویت عطا کردی۔ اب حاجن کا سفر محض ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر نہیں رہا تھا، ساتھ ایک ایسے ہم سفر کی رفاقت بھی میسر تھی جن کے ساتھ راستے میں ادب، زبان، کشمیر اور کشمیری ادبی روایت پر گفتگو کا امکان ہمیشہ خوش آئند رہتا ہے۔
مقررہ وقت کے آس پاس میں صنعت نگر چوک پہنچا تو شہر کی معمول کی مصروفیات اپنے عروج پر تھیں۔ گاڑیوں کی آمدورفت، لوگوں کی چہل پہل اور سڑکوں پر پھیلی ہوئی روزمرہ زندگی کے بیچ ہمارے لیے ایک مختلف نوعیت کا سفر منتظر تھا۔حاجن کی طرف، جہاں ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس ہمارا انتظار کررہی تھی۔
گاڑی میں خود ڈرائیو کررہا تھا اور شوکت شفیع صاحب بائیں جانب والی نشست پر براجمان ہوتے ہوئے اپنے مخصوص بے تکلفانہ انداز میں گویا ہوئے۔
’’How are you, gentleman?‘‘
میں نے مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
’’شکر اللہ کا‘‘
یہ مختصر سا مکالمہ جیسے سفر کی ابتدائی جھجک کو توڑ گیا۔ گاڑی اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی۔تقریباً پندرہ منٹ کی مسافت کے بعد جب شالہ ٹینگ سے آگے ہم نے باںڈی پوری کا راستہ پکڑا تو راستہ کشادہ ہوتا گیا اور موسم کا منظرنامہ بھی بتدریج بدلنے لگا۔آسمان پر چھائے بادل یکایک گہرے ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے موسلادھار بارش نے ہمارے سفر کا استقبال شروع کردیا۔ بارش کی بوندیں گاڑی کی ونڈ اسکرین پر مسلسل دستک دینے لگیں۔بارش کے اس اچانک نزول نے سفر کی کیفیت ہی بدل دی تھی۔ سڑک بھیگ چکی تھی، درختوں کے پتے بارش سے دھل کر اور زیادہ شفاف دکھائی دے رہے تھے اور دور کے پہاڑ بادلوں کی اوٹ میں کبھی ظاہر ہوتے اور کبھی نظروں سے اوجھل ہوجاتے۔اسی دوران شوکت شفیع صاحب نے خاموشی توڑی۔ ان کی آواز میں اس بار پہلے جیسی بے تکلفی کے بجائے ایک خاص سنجیدگی تھی۔
’’سالک صاحب، ادبی مرکز کمراز کی کانفرنس میں شرکت کرنا میرے لیے باعث افتخار ہے۔‘‘
میں نے ان کی طرف ایک لمحے کے لیے دیکھا، پھر سڑک پر نگاہیں مرکوز رکھتے ہوئے سوال کیا:
’’آخر اس کانفرنس میں ایسی کیا خاص بات ہے؟‘‘
میرے سوال پر شوکت صاحب قدرے سنجیدہ ہوگئے۔ چند لمحے خاموش رہے، جیسے اپنے ذہن میں کسی پرانی بات کو ترتیب دے رہے ہوں۔ پھر آہستہ سے بولے:
’’سیفی سوپوری صاحب ہمیشہ بڑے محبت بھرے انداز میں ادبی مرکز کمراز کے ابتدائی دور کا ذکر کیا کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اس تنظیم کو قائم کرنے والے لوگ نہایت مخلص اور زبان و ادب کے لیے بے لوث جذبہ رکھنے والے لوگ تھے۔ ان کی نظر میں ادبی مرکز کمراز کی بنیاد صرف ایک ادبی تنظیم کے قیام کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ ان لوگوں کی اجتماعی محبت، خلوص اور محنت کا ثمرہ تھا جنہوں نے کشمیری زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے اپنی توانائیاں وقف کیں۔
سیفی صاحب جب ان شخصیات کا ذکر کرتے تو ان کے لہجے میں ایک خاص اپنائیت محسوس ہوتی تھی۔ وہ پروفیسر محی الدین حاجنی کی بذلہ سنجی، رشید نازکی کا تدبر، نشاط انصاری کی علمیت ،محمد احسن احسن کے خلوص اور مشعل سلطان پوری کی سنجیدگی کا خصوصی طور پر تذکرہ کیا کرتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ سب لوگ صرف ادبی مرکز کمراز کے کارکن یا عہدیدار نہیں تھے، بلکہ اس ادارے کی روح اور اس کی ابتدائی شناخت کا حصہ تھے۔ ان کے ساتھ ساتھ وہ دوسرے مخلص کارکنوں کی محنت کو بھی ہمیشہ قدر کی نگاہ سے یاد کرتے تھے۔‘‘
یہ باتیں کرتے کرتے شوکت صاحب کے لہجے میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ آگیا۔ ابھی تک جو گفتگو بے تکلفی سے جاری تھی، اس میں اچانک ایک گہری سنجیدگی در آئی۔ محسوس ہورہا تھا کہ وہ محض ادبی مرکز کمراز کے بانیوں اور ابتدائی کارکنوں کا ذکر نہیں کررہےہیں، بلکہ اپنی یادوں کے کسی ایسے گوشے کا دروازہ کھول رہے ہیں جس سے ان کی اپنی ایک گہری نسبت وابستہ ہے۔
بارش بدستور جاری تھی۔ گاڑی کی رفتار نسبتاً کم ہوگئی تھی۔ ونڈ اسکرین کے پار بارش کی دبیز تہہ اور دھند میں لپٹے ہوئے راستے کے درمیان شوکت صاحب کی آواز مسلسل سنائی دے رہی تھی۔
’’دیکھیے، کسی ادبی تنظیم کا قائم ہوجانا اور بات ہے، لیکن کسی ادبی تنظیم کا کئی دہائیوں تک زندہ رہنا، اپنی شناخت برقرار رکھنا اور نسل در نسل اہلِ قلم کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنا بالکل دوسری بات ہے۔ ادبی مرکز کمراز کی اصل اہمیت بھی میرے خیال میں یہی ہے۔‘‘
میں خاموشی سے سنتا رہا۔
انہوں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا:
’’یہ صرف کانفرنس منعقد کرنے والی تنظیم نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ایک پوری ادبی روایت، ایک اجتماعی اخلاص اور اپنی زبان و ادب کے لیے کام کرنے کا جذبہ موجود ہے۔ سیفی صاحب اسی اخلاص کی بات کیا کرتے تھے۔‘‘
ان کی گفتگو نے میرے ذہن میں بھی کئی سوالات جگا دیے تھے۔ میں نے سوچا، واقعی کسی ادبی تنظیم کی عمر صرف اس کے قیام کے برسوں سے نہیں ناپی جاسکتی۔ اصل پیمانہ تو یہ ہے کہ اس نے اپنے عہد کے ادیبوں، شاعروں اور اہلِ علم کو کیا دیا، نئی نسل کو اپنے ساتھ کس طرح جوڑا اور زبان و ادب کے لیے کس نوعیت کی فکری فضا پیدا کی۔
بارش اب کچھ اور تیز ہوگئی تھی۔ سڑک پر پانی کی ایک مسلسل چادر سی بچھ گئی تھی۔ گاڑی کے اندر ایک عجیب سی خاموشی اور باہر بارش کا شور۔۔۔دونوں مل کر سفر کو ایک الگ ہی آہنگ دے رہے تھے۔
شوکت صاحب کی بات ابھی جاری تھی، اور مجھے محسوس ہورہا تھا کہ حاجن تک پہنچنے سے پہلے ہی اس سفر نے کانفرنس کا ایک ایسا تعارف میرے سامنے رکھ دیا ہے جو کسی دعوت نامے یا پروگرام شیٹ میں درج نہیں تھا۔ (جاری)
