محمد امین بٹ کی استقبالیہ تقریر ختم ہوتے ہی پورے پنڈال میں تالیوں کی گونج سنائی دی۔ محسوس ہوتا تھا کہ سامعین نے ان کی گفتگو کو نہ صرف غور سے سنا تھا بلکہ اس کے جذبے اور فکر کو بھی محسوس کیا تھا۔ شاکر صاحب نے امین بٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک بار پھر مائیک سنبھال لیا۔
مائیک ہاتھ میں آتے ہی ان کے لہجے میں وہی مخصوص بے تکلفی اور برجستگی لوٹ آئی۔ انہوں نے سب سے پہلے ایک بات کا اعتراف کیا:
’’افتتاحی نشست پہلے ہی خاصی تاخیر سے شروع ہوئی ہے، اور اس کے بعد ابھی ہماری دو نشستیں اور ایک مشاعرہ بھی باقی ہے۔‘‘
پنڈال میں ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ شاکر صاحب نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا:
’’اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہمارے سیشن بھی نمازوں کے اوقات کے ساتھ ساتھ چلیں گے۔ جوں ہی اذان ہوگی، سمجھ لیجیے نشست برخاست!‘‘
ان کے اس برجستہ جملے پر پنڈال میں ایک بار پھر ہنسی اور مسکراہٹ کی لہر دوڑ گئی۔ واقعی، طویل پروگرام کو وقت کے ساتھ سمیٹنے کا اس سے زیادہ سادہ اور عملی طریقہ شاید اور کیا ہوسکتا تھا۔
پھر انہوں نے قدرے سنجیدہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا:
’’اب میری التجا ڈاکٹر ستیش ومل صاحب سے ہوگی کہ وہ کانفرنس کا کلیدی خطبہ مرحمت فرمائیں۔‘‘
شاکر صاحب کے الفاظ کے ساتھ ہی پنڈال کی نظریں ڈاکٹر ستیش ومل کی طرف اٹھ گئیں۔ اب محفل ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے والی تھی..جہاں استقبال اور تعارف کے بعد موضوع کے فکری اور علمی پہلو سامنے آنے تھے۔
ڈاکٹر ستیش ومل نے مائیک سنبھالتے ہوئے کہا کہ ’’موضوع بڑا ہے، اور میرے لیے ممکن نہیں کہ ایک ہی مقالے میں اس کے تمام حدود و اربعہ کا احاطہ کرسکوں۔تاہم میں نے یہ کوشش کی ہے کہ عقیدتی ادب کو تنقیدی کسوٹی پر کیسے پرکھا جاءے ۔
اس تمہید کے بعد ستیش جی نے اپنا مقالہ پڑھنا شروع کیا۔ ان کی آواز میں ایک خاص ٹھہراؤ تھا۔ایک ایک لفظ پوری وضاحت کے ساتھ ادا ہورہا تھا اور محسوس ہوتا تھا کہ وہ محض مقالہ نہیں پڑھ رہے بلکہ اپنے موضوع کو سامعین کے سامنے ترتیب وار کھولتے جارہے ہیں۔
سب سے پہلے انہوں نے اس بنیادی سوال کو موضوع بنایا کہ آخر عقیدتی ادب کسے کہا جائے؟ عقیدتی ادب کی تعریف، اس کے دائرۂ کار اور اس کی مختلف صورتوں کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے طویل تحریری دلائل پیش کیے۔ اس کے بعد گفتگو ایک اور اہم مرحلے میں داخل ہوئی، جہاں انہوں نے عقیدتی ادب کو محض عقیدے اور جذبات کے اظہار تک محدود رکھنے کے بجائے اسے تنقیدی کسوٹی پر پرکھنے کے اصول و ضوابط پر مدلل روشنی ڈالی۔
ان کی گفتگو میں حوالہ بھی تھا، استدلال بھی، اور موضوع کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی کوشش بھی۔ وہ ایک نکتے سے دوسرے نکتے کی طرف اس طرح بڑھ رہے تھے جیسے کسی پیچیدہ نقشے کی پرتیں ایک ایک کرکے کھول رہے ہوں۔ کبھی تعریف کی طرف لوٹتے، کبھی تنقید کے اصولوں کو سامنے رکھتے اور کبھی عقیدتی ادب کی ادبی قدر و قیمت پر گفتگو کرتے۔
مقالہ خاصا طویل تھا اور سچ کہوں تو پنڈال میں بیٹھے کچھ سامعین پر اس طوالت کا اثر بھی دکھائی دینے لگا تھا۔ کسی نے اپنی نشست پر پہلو بدلا، کسی نے پانی کی بوتل اٹھائی، اور کچھ نگاہیں بے اختیار گھڑی کی طرف بھی اٹھنے لگیں۔ شاید شاکر صاحب کی ابھی کچھ دیر پہلے کہی ہوئی بات بھی کئی لوگوں کو یاد آگئی تھی کہ ’’جوں ہی اذان ہوگی، سمجھو نشست برخاست!‘‘
لیکن ڈاکٹر ستیش ومل اپنی روانی میں بدستور آگے بڑھ رہے تھے۔ ان کے لیے موضوع محض ایک رسمی کلیدی خطبہ نہیں تھا۔ وہ اسے ایک علمی مسئلے کے طور پر لے کر اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کررہے تھے۔ پنڈال میں جہاں ایک طرف کچھ لوگ طوالت محسوس کررہے تھے، وہیں بہت سے سامعین پوری توجہ کے ساتھ ان کی گفتگو سن بھی رہے تھے۔
میں نے ایک لمحے کے لیے شوکت صاحب کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پر وہی مخصوص سنجیدگی تھی جو ان کی شخصیت کا خاصا ہے۔ وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور دھیمی آواز میں بولے:
’’سالک! ستیش جی نے مقالہ یقیناً بڑی محنت سے لکھا ہے، لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ کانفرنس کا مرکزی موضوع ابھی پوری طرح ٹچ نہیں ہو رہا۔‘‘
میں نے ان کی بات سن کر قدرے حیرت سے کہا:
’’آپ نے شاید ستیش جی کے مقالے کے عنوان پر زیادہ دھیان نہیں دیا۔ انہوں نے ’عقیدتی ادب کا تنقیدی جائزہ‘ کو موضوع بنایا ہے، جبکہ کانفرنس کا مرکزی موضوع ’کشمیری زبان کو عقیدتی ادب کی دین‘ ہے۔ دونوں موضوعات میں فرق تو ہے۔‘‘
شوکت صاحب نے میری طرف دیکھا، جیسے وہ میرے جواب کے اگلے حصے کا انتظار کررہے ہوں۔ میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
’’اب اصل بات یہ دیکھنی ہوگی کہ باقی نشستوں میں جو مقالے پڑھے جائیں گے، ان میں کانفرنس کے مرکزی موضوع سے کس حد تک مناسبت پیدا ہوتی ہے۔ کیا گفتگو اس بات پر ہوگی کہ عقیدتی ادب نے کشمیری زبان کی تشکیل، ترویج اور بقا میں کیا کردار ادا کیا، یا پھر بات صرف عقیدتی ادب کے فلسفے، اس کی تعریف اور اس کے عمومی مباحث تک محدود رہے گی؟‘‘
شوکت صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔ شاید ان کے ذہن میں بھی یہی سوال تھا۔ کانفرنس کا موضوع اپنی جگہ بہت واضح تھا، مگر اس موضوع کی اصل معنویت اسی وقت سامنے آتی جب مختلف مقالہ نگار عقیدتی ادب اور کشمیری زبان کے باہمی رشتے کو اپنے اپنے زاویے سے سامنے لاتے۔
میں نے دوبارہ اسٹیج کی طرف دیکھا۔ ڈاکٹر ستیش ومل بدستور اپنا مقالہ پڑھ رہے تھے۔ ان کی آواز پنڈال میں ایک ہی روانی سے گونج رہی تھی، مگر میرے ذہن میں اب ایک نیا سوال پیدا ہوچکا تھا۔۔۔کیا آنے والی نشستیں اس کانفرنس کے مرکزی سوال کا جواب تلاش کرپائیں گی؟
شوکت صاحب نے مجھے اشارہ کرکے پنڈال سے باہر بلایا تاکہ بازار جاکر کچھ کھا سکیں۔پنڈال سے باہر نکلتے ہی سب سے پہلے کشمیری اور اردو کے نظم نگار جناب حسن اظہر پر پڑی۔ ایک طویل عرصے کے بعد انہیں دیکھا تو خوشی ہوئی۔ مصافحے اور گلے ملنے کے بعد ان کی پہلی اور واحد شکایت یہی تھی کہ میری وہ نظمیں جو شیرازہ میں شائع ہوئی ہیں، ان کا مشاہرہ آج تک نہیں ملا۔ میں ابھی ان کی شکایت کا جواب دے ہی رہا تھا کہ سامنے سے صاحبِ اسلوب کشمیری شاعر جناب شہناز رشید، صوفی مزاج منش شہزاد منظور ، کشمیری افسانہ نگار جی ۔ایم ماہر اور نوجوان شاعرومترجم نثار اعظم آتے دکھائی دیے۔ میں نے گرم جوشی کے ساتھ سب سے مصافحہ کیا۔
جناب شہناز رشید کا میں دل سے احترام کرتا ہوں۔ موصوف معاصر کشمیری شاعری کا ایک بڑا نام ہیں، اس لیے ان سے گفتگو کرنا ہمیشہ میرے لیے باعثِ مسرت اور فخر رہا ہے۔ ایک بات میں نے کئی بار محسوس کی ہے کہ شہناز صاحب محفلوں میں عموماً خاموشی کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور غیر ضروری گفتگو سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں۔ شاید مزاجاً حساس ہونے کی وجہ سے وہ ہر محفل میں بہت زیادہ گھلنے ملنے کے بجائے خاموش مشاہدے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ایک طرف اسٹیج پر ڈاکٹر ستیش ومل کا مقالہ جاری تھا اور دوسری طرف پنڈال کے باہر شہناز رشید اور دیگر شخصیات ادب کے مختلف موضوعات پر گفتگو میں مصروف تھے۔ میں من ہی من میں سوچ رہا تھا کہ کسی ادبی کانفرنس کی معنویت صرف اسٹیج پر ہونے والی تقاریر اور مقالوں تک محدود نہیں ہوتی ۔پنڈال کے باہر ہونے والی یہ بے تکلف گفتگو بھی اپنی جگہ ایک اہم ادبی سرگرمی ہے۔ کبھی کبھی ایسی غیر رسمی محفلوں میں ہونے والی باتیں بھی اتنی ہی معنی خیز ہوتی ہیں جتنی اسٹیج سے کہی جانے والی گفتگو،بلکہ بعض اوقات تو اصل ادبی فضا وہیں تشکیل پاتی ہے۔(جاری

