افتتاحی نشست اب اس مرحلے میں داخل ہونے والی تھی جہاں ایوانِ صدارت میں موجود مقتدر شخصیات کی تقاریر کا سلسلہ شروع ہونا تھا کہ اچانک عصر کی اذان کی آواز پنڈال میں گونج اٹھی۔ شفیع شاکر نے صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے نشست ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔
اعلان ہوتے ہی مہمانان اپنی نشستوں سے اٹھ کر پنڈال سے باہر آگئے۔ کچھ لوگ عصر کی نماز ادا کرنے کے لیے جامع مسجد کی طرف روانہ ہوگئے، جبکہ کچھ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں بٹ گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پنڈال کے باہر ایک عجیب سی چہل پہل شروع ہوگئی۔ کوئی کسی سے حال احوال پوچھ رہا تھا، کوئی کسی پرانے دوست سے گلے مل رہا تھا اور کوئی آنے والی نشستوں کے بارے میں گفتگو میں مصروف تھا۔ یوں چند لمحوں میں پورا ماحول رسمی کانفرنس سے نکل کر ایک بے تکلف ادبی میلے کی صورت اختیار کرگیا۔
اسی دوران فوٹو گرافی کا سلسلہ بھی چل نکلا اور فوٹو گرافی سے یاد آیا کہ جمیل انصاری صاحب کا تذکرہ بھی لازمی بنتا ہے۔ انصاری صاحب اپنی ہی دھن میں مست، ادیبوں اور شاعروں کے تصویری لمحے محفوظ کرنے میں مصروف تھے۔ بعض لوگ تو خود آگے بڑھ کر ان سے گزارش کررہے تھے:
’’جمیل صاحب! ہمیں بھی کسی فریم کا حصہ بنائیے۔‘‘
جمیل انصاری کو دیکھ کر مجھے ہمیشہ ’’ہر فن مولا‘‘ کی ترکیب یاد آتی ہے۔ دعوت ناموں کی تیاری سے لے کر پریس ریلیز کی ترتیب تک، کانفرنس کی تنظیمی اور تشہیری سرگرمیوں میں ان کا کردار نمایاں رہتا ہے۔ جہاں کہیں کوئی ادبی گفتگو یا محفل سجتی ہے، جمیل انصاری بھی اپنے کیمرے کے ساتھ نہ جانے کہاں سے نمودار ہوجاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے وہ علاء الدین کے چراغ سے نکلنے والے اس جن کی طرح محسوس ہوتے ہیں، جو لمحہ بھر میں موقع پر پہنچ کر بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ ان ادبی لمحوں کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرلیتے ہیں ۔ یوں جمیل انصاری محض تصویریں نہیں کھینچتے، بلکہ ادبی محفلوں کے ان یادگار لمحوں کو بھی محفوظ کرتے ہیں جو وقت گزرنے کے بعد کسی دستاویز کی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں۔
بہرحال، اس گہماگہمی میں ایک شخصیت نے مجھے خاص طور پر اپنی طرف متوجہ کیا۔ وہ تھے جناب شاہد دلنوی۔ موصوف سوٹ بوٹ میں اس طرح ملبوس تھے جیسے کسی بارات میں شرکت کے لیے نکلے ہوں۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ شمالی کشمیر کے ادیبوں کے لیے ادبی مرکز کمراز کی سالانہ کانفرنس میں شرکت بھی کسی بارات سے کم کہاں ہے!
شاہد صاحب ایک اچھے شاعر ہی نہیں، سلجھے ہوئے نقاد اور پختہ کار فکشن نگار بھی ہیں۔ بعض لوگ انہیں صرف شاعر کی حیثیت سے جانتے ہیں، لیکن میں نے ان کے ناول بھی پڑھے ہیں، اس لیے ان کی ادبی شخصیت کو ایک ہی صنف تک محدود کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔میں ان کے قریب گیا تو انہوں نے بڑی فرحت و انبساط کے ساتھ میرا ماتھا چوما اور دعائیں دیں۔ ان کے اس بے تکلف انداز نے ہمیشہ کی طرح مجھے متاثر کیا۔ ذاتی طور پر مجھے شاہد صاحب سے گفتگو کرنے میں خاصا لطف آتا ہے۔ ان کی گفتگو میں ایک ایسی بے ساختگی ہے جو سامنے والے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔خاص طور پر جب وہ کسی ادبی موضوع پر بات کرتے ہیں تو ان کے اندر اختلاف کرنے کی جرأت بھی دکھائی دیتی ہے اور اگر مخاطب کے موقف میں دلیل ہو تو اسے تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں ۔ شاید یہی چیز کسی سنجیدہ ادبی شخصیت کو محض اپنی رائے رکھنے والے شخص سے الگ کرتی ہے۔ اختلاف اپنی جگہ، لیکن دلیل کے سامنے اپنی رائے پر نظرِ ثانی کرنے کا حوصلہ ہی گفتگو کو مکالمہ بناتا ہے۔
ابھی میں دلنوی صاحب سے محوِ گفتگو ہی تھا کہ شاکر شفیع نے اعلان کیا کہ پانچ منٹ کے بعد افتتاحی نشست کی باقی کارروائی دوبارہ شروع کی جائے گی۔ پنڈال سے باہر موجود مہمانان آہستہ آہستہ اپنی اپنی نشستوں کی طرف لوٹنے لگے۔ اسی اثنا میں میری نظر مولانا شوکت حسین کینگ پر پڑی۔
مولانا کی باغ و بہار شخصیت کا یہ عالم ہے کہ وہ جس طرف سے گزرتے ہیں، محفل میں موجود لوگ بے اختیار ان کی تعظیم و تکریم کے لیے اپنی نشستوں سے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کے اندر ایک ایسی بے ساختہ کشش ہے جو رسمی تعارف کی محتاج نہیں۔
میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ عصرِ حاضر میں مولانا شوکت حسین کینگ ان منفرد مذہبی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مذہبیات کے ساتھ ساتھ ادبیات پر بھی گہری دسترس حاصل کی ہے۔ ان کی گفتگو میں مذہبی بصیرت کے ساتھ ادبی ذوق کی آمیزش انہیں ایک منفرد شناخت عطا کرتی ہے۔
جوں ہی کینگ صاحب اسٹیج کے قریب پہنچے، شاکر شفیع نے آگے بڑھ کر ان کا خیرمقدم کیا اور براہِ راست ایوانِ صدارت میں تشریف فرما ہونے کی درخواست کی۔ یوں افتتاحی نشست کی فضا ایک بار پھر سنجیدہ اور رسمی رنگ میں ڈھلنے لگی۔
شاکر شفیع نے ایوان صدارت کا رخ کرتےہوئے ڈاکٹر عبدالحفیظ مسعودی کو اپنے تاثرات پیش کرنے کی دعوت دی ۔
ڈاکٹر عبدالحفیظ مسعودی نے ادبی مرکز کمراز کی پوری ٹیم کو کانفرنس کے انعقاد پر مبارکبادی پیش کی۔ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ مجھے ایک اور فنکشن میں جانا ہے جہاں میری کتاب ” Cricket in Conifers ” کی رسم رونمائی انجام دی جاری ہے ۔اس لئے میں اپنے تاثرات مختصرا آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کروں گا ۔ سب سے پہلے جناب گلزار احمد پرے کو قرآنِ مقدس کے کشمیری ترجمے پر مبارکباد پیش کررہا ہوں ۔کیونکہ قران پاک کا ترجمہ کرنا ایک سعادت ہے اور ہر شخص کے نصیب میں نہیں ہوتا ہے ۔
عقیدتی ادب اور کشمیری زبان کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’…عقیدتی ادب نے کشمیری زبان کے ذخیرۂ الفاظ کو وسعت دی، جس میں مختلف ادوار میں سنسکرت، عربی، فارسی،اردو اور دیگر زبانوں سے آنے والے الفاظ بھی شامل ہوتے گئے۔‘‘
انہوں نے اس موقع پر عقیدہ، اعتقاد اور عقیدت کو الگ الگ مفاہیم رکھنے والی اصطلاحات قرار دیا اور اس فرق کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کی گفتگو کا یہ پہلو خاص طور پر قابلِ توجہ تھا، کیونکہ کانفرنس کا موضوع بھی عقیدتی ادب کے ذریعے کشمیری زبان کی تشکیل اور اس کے ادبی سرمائے کو سمجھنے سے متعلق تھا۔
یہاں پر قارئین کے گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ ڈاکٹر حفیظ مسعودی تقریر و تحریر، دونوں میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں سامعین کو اپنی گرفت میں لینے کی ایک خاص قدرت ہے۔ حال ہی میں ان کی کتاب ’’Sharda to Sansad‘‘ بھی منظرِ عام پر آکر اہلِ علم و ادب سے داد و تحسین حاصل کرچکی ہے۔ ایک بات بہرحال طے ہے کہ حفیظ صاحب نہ صرف نبض شناس ہیں بلکہ ربط شناس بھی ہیں۔ وہ موقع، محفل اور سامعین کی کیفیت کو بھانپ کر اپنی گفتگو کا رخ متعین کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔(جاری)

