کرناہ// شاہ پلہ کرناہ میں واقع بیت العلوم دارالعلوم میں جمعہ کی شام اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دارالعلوم کے ساتھ ملحقہ دو رہائشی مکانات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کے بلند شعلے دور دور تک دکھائی دے رہے تھے، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
مقامی لوگوں کے مطابق آگ تقریباً چار بجے کے قریب ظاہر ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی آس پاس کی بستیوں کے لوگ رضاکارانہ طور پر موقع پر پہنچے اور آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، پولیس اور فوجی اہلکار بھی فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔
آگ بجھانے کی کارروائی میں فوج نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ فوج کی مختلف یونٹوں نے اپنی گاڑیاں اور فائر فائٹنگ کا ضروری سامان موقع پر پہنچایا۔ فوج کی جانب سے فائر انجن بھی لایا گیا، جس کے ذریعے فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز اور مقامی رضاکاروں کے ساتھ مل کر آگ پر قابو پانے کی کارروائی کی گئی۔ بی ایس ایف کے اہلکاروں نے بھی ریسکیو اور آگ بجھانے کی کارروائی میں بھرپور تعاون کیا، جبکہ دیگر فوجی یونٹوں کے اہلکار اور آرٹی یونٹ کے جوان بھی موقع پر موجود رہے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
فوجی اہلکاروں، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، پولیس اور مقامی لوگوں کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں آگ کو مزید رہائشی علاقوں تک پھیلنے سے روک لیا گیا۔ بروقت کارروائی کے باعث آس پاس کے مزید مکانات اور پوری بستی کو بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔
تاہم آتشزدگی کے نتیجے میں بیت العلوم دارالعلوم کو شدید نقصان پہنچا۔ بتایا جاتا ہے کہ دارالعلوم میں تقریباً 40 بچے دینی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ آگ سے دارالعلوم کی عمارت اور اندر موجود سامان کو شدید نقصان پہنچا۔
اس دوران قریبی دو رہائشی مکانات بھی آگ کی زد میں آ گئے۔ متاثرہ مکانات میں محمد رفیع خواجہ ولد عبدالرحمن خواجہ اور کفیل الرحمان ولد خلیل الرحمان کے مکانات شامل ہیں۔ دونوں مکانات کو شدید نقصان پہنچا جبکہ گھروں میں موجود قیمتی سامان اور دیگر املاک بھی آگ کی نذر ہوگئیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق محمد رفیع خواجہ کے گھر میں تقریباً پانچ روز قبل شادی ہوئی تھی اور شادی کے لیے رکھا گیا بیشتر سامان بھی آتشزدگی میں جل کر خاکستر ہوگیا، جس کے باعث متاثرہ خاندان کو لاکھوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ آگ اچانک لگی اور اس کے پھیلاؤ کی رفتار انتہائی تیز تھی۔ تاہم آگ لگنے کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکیں۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
علاقہ مکینوں نے کرناہ میں فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے عملے کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں فائر سروس کے عملے، گاڑیوں اور دیگر ضروری وسائل میں اضافہ کیا جائے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت اور مؤثر انداز میں نمٹا جاسکے۔
مقامی لوگوں نے انتظامیہ، فوج، بی ایس ایف، پولیس، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز اور رضاکاروں کی کوششوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی اہلکاروں کی جانب سے اپنی گاڑیاں، فائر انجن اور آگ بجھانے کا ضروری سامان فوری طور پر موقع پر پہنچانے سے امدادی کارروائیوں میں نمایاں مدد ملی اور آگ کو مزید پھیلنے سے روکنے میں تمام اداروں اور مقامی رضاکاروں کی مشترکہ کوششیں اہم ثابت ہوئیں۔
