• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Sunday, October 4, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس ( 21)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
October 4, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس ( 21)
FacebookTwitterWhatsapp

تیسری نشست کی پہلی کڑی مکمل ہوتے ہی منظور احمد شاہ ( ناظم )نے سید عباس جوہر کو اپنا نوحہ ” تریش ہنز گراو”پیش کرنے کی دعوت دی۔ جوں ہی عباس صاحب نے نوحہ کا پہلا بند پڑھا،اور ٹیپ کا مصرع سنتے ہی سامعین مبہوت ہو کر رہ گئے۔
“ژےٚ کیٛاہ گَژھِ ہی اگر کانٛہہ ترٛیش چییٚہِ ہے”
ہر طرف سے ’’مکرر! مکرر!‘‘ کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ ایک طرف سید عباس جوہر ایک کے بعد ایک بند پڑھتے جا رہے تھے اور دوسری طرف سامعین کی آنکھیں بھیگتی جا رہی تھیں۔امین بٹ صاحب سمیت پورا مجمع ایک عجیب سی جذباتی کیفیت میں مبتلا تھا۔ کسی بھی رقیق القلب انسان کے لیے سید جوہر عباس کا لکھا ہوا یہ نوحہ سننا آسان نہ تھا؛ ہر بند دل پر دستک دیتا اور آنکھوں کو نم کر دیتا۔
ژٕ اوسُکھ نا سکیٖنٕنۍ ناد بوزان
سۅتیٛامٕتۍ ترٛیشہِ ۂتۍ فٔرۍیاد بوزان
ۂٹِس ٲسٕے سۅ اڈٕ کٔج باکھ لٔجمٕژ
ژےٚ ٲسٕے غٲرتَس زَن شرٛاکھ لٔجمٕژ
ژےٚ کیٛاہ گَژھِ ہی اگر کانٛہہ ترٛیش چییٚہِ ہے
میں زندگی میں پہلی بار نوحہ سن رہا تھا، جس میں واقعۂ کربلا کا منظر اس شدت اور تاثیر کے ساتھ کھینچا گیا تھا کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کربلا ہماری آنکھوں کے سامنے برپا ہو رہی ہو۔ خصوصاً معصوم شہدائے کربلا کی پیاس، ان کے تڑپتے ہوئے لب اور فرات کا سامنے موجود ہونے کے باوجود پانی نہ ملنے کا منظر اس درد کے ساتھ بیان کیا گیا کہ دل بے اختیار بھر آیا۔ فرات کے پانی کو دیکھ کر بھی تشنہ لب رہ جانے والے ان معصوموں کی حالت پر نوحے میں جس انداز سے افسوس اور کرب کا اظہار کیا گیا تھا، اس نے فضا کو مزید سوگوار بنا دیا تھا۔ الفاظ آگے بڑھتے جاتے اور ہر منظر دل میں اترتا جاتا۔ عباس صاحب کی آواز، نوحے کے الفاظ اور سامعین کی خاموش آنکھیں—سب مل کر ایسی فضا پیدا کر رہے تھے کہ دل پسیج کر رہ گیا تھا۔
سید عباس جوہر کے نوحے پر گفتگو کے لیے جناب واحد رضا کو ڈائس پر دعوت دی گئی۔ واحد رضا صاحب ایک ہمہ جہت اور ہر فن مولا شخصیت ہیں۔ کسی بھی موضوع پر گفتگو ہو، وہ نہ صرف اس کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ انہیں جامع اور مؤثر انداز میں سامعین تک پہنچانے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔
انہوں نے نہایت عمدگی اور سلیقے کے ساتھ سید عباس جوہر کے نوحے پر گفتگو کی۔ اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے نوحے میں پیش کیے گئے مختلف مناظر، واقعات اور جذباتی کیفیات کو ایک ایک کرکے سامنے رکھا اور ان کی تشریح و توصیف کی۔ انہوں نے محض نوحے کے ظاہری بیان تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے پسِ منظر میں کارفرما جذبات، درد، الم اور انسانی کرب کو بھی نمایاں کرنے کی کوشش کی۔ ان کے تجزیے سے یہ بات واضح ہو رہی تھی کہ نوحہ محض واقعۂ کربلا کے واقعات کی منظوم ترجمانی نہیں، بلکہ اپنے اندر ایک گہرا جذباتی اور انسانی تجربہ بھی سموئے ہوئے ہے۔
واحد رضا کی گفتگو کا انداز بھی خاصا دل نشیں تھا۔ وہ ایک ایک منظر کو اس طرح کھول کر بیان کر رہے تھے کہ سامعین کے سامنے نوحے کی تصویری کیفیت ابھرنے لگی۔ کہیں زبان و بیان کی خوبیوں کی طرف توجہ دلائی، کہیں شاعر کے تخیل اور منظر نگاری کو موضوع بنایا اور کہیں ان اشعار میں پوشیدہ درد و سوز کو محسوس کرنے کی دعوت دی۔ ان کی گفتگو نے یوں محسوس کرایا کہ ایک اچھی تخلیق صرف پڑھی یا سنی نہیں جاتی، بلکہ اسے اس کے مختلف تہوں میں اتر کر محسوس بھی کیا جاتا ہے۔
اس نشست میں جناب فیاض تلگامی اور سید جوہر عباس نے جو تخلیقات پیش کیں، ان دونوں کا تعلق عقیدتی ادب سے تھا۔ ایک طرف نعت تھی اور دوسری طرف نوحہ۔ دونوں اپنی جگہ عقیدت، محبت اور روحانی وابستگی کے اظہار کی اہم شعری اصناف ہیں۔ تاہم ان تخلیقات کو سنتے ہوئے میرے ذہن میں ایک خیال بار بار گردش کرتا رہا کہ کاش اس نشست میں عقیدتی ادب کی ایک اور اہم صنف ’’لیلا‘‘ کو بھی شامل کیا گیا ہوتا۔
میرا خیال تھا کہ جب نشست کا بنیادی محور ہی عقیدتی ادب تھا اور نعت و نوحہ جیسی اصناف کو اس کا حصہ بنایا گیا تھا تو ’’لیلا‘‘ کو بھی نمائندگی ملتی تو اس نشست کا دائرہ مزید وسیع اور متنوع ہو جاتا۔ اس طرح سامعین کو عقیدتی شاعری کے مختلف اسالیب، موضوعات اور اظہار کے مختلف طریقوں سے آشنا ہونے کا موقع ملتا۔
عقیدتی ادب کی خوب صورتی ہی شاید یہ ہے کہ اس میں عقیدت ایک ہی رنگ میں ظاہر نہیں ہوتی؛ کہیں نعت کی صورت میں محبتِ رسول ﷺ کا اظہار ہوتا ہے، کہیں نوحے میں واقعۂ کربلا کے المیے اور اہلِ بیتؓ سے وابستگی کا بیان سامنے آتا ہے اور کہیں دوسری اصناف اپنے مخصوص فنی پیرایے میں مذہبی و روحانی جذبات کو زبان عطا کرتی ہیں۔ اگر اس نشست میں ایسی مختلف اصناف کو یکجا کیا جاتا تو یہ محض دو تخلیقات پر گفتگو کی نشست نہ رہتی بلکہ عقیدتی ادب کے مختلف رنگوں اور اس کی فنی وسعت کا ایک مختصر مگر خوب صورت تعارف بھی بن جاتی۔
یہ محض ایک خیال تھا جو نشست کے دوران میرے ذہن میں آیا، کیونکہ بعض اوقات کسی ادبی پروگرام کی معنویت اس بات سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس میں کسی صنف کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے جڑی ہوئی دوسری اصناف کے لیے بھی دروازے کھولے جائیں۔ (جاری)

Previous Post

شاہ پلہ کرناہ میں بیت العلوم دارالعلوم میں آتشزدگی، دو رہائشی مکانات بھی متاثر، لاکھوں روپے کی املاک خاکستر

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.