• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Sunday, October 4, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (22)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
October 4, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (22)
FacebookTwitterWhatsapp

تنقیدی نشست کے مکمل ہوتے ہی منظور احمد شاہ نے ایوانِ صدارت کا رخ کرتے ہوئے کہا:’’اب میں محمد سلیم سالک صاحب کو اپنے تاثرات پیش کرنے کی دعوت دے رہا ہوں۔‘‘
منظور صاحب کی دعوت پر میں مائک کی طرف آیا۔ سچ کہوں تو میرے ذہن میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا جسے میں ابھی ختم ہونے والی تنقیدی نشست کے حوالے سے کہہ سکتا۔ چنانچہ میں نے صاحبِ صدر سے گزارش کی کہ اگر وہ مناسب سمجھیں تو تنقیدی نشست کے بجائے اس سے قبل ہونے والی پینل ڈسکشن کے حوالے سے اپنے چند استفسارات سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
صاحبِ صدر، جناب مشتاق احمد مشتاق نے سر ہی سے اثبات میں اجازت مرحمت فرمائی۔چند لمحے توقف کے بعد میں نے کہنا شروع کیا:
’’میں ادب کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں۔ اس لیے میرے ذہن میں کچھ سوالات ہیں۔ یہاں علم و ادب سے وابستہ کئی جید شخصیات موجود ہیں، اس لیے اگر میری بات میں کوئی تسامح ہو تو امید ہے کہ وہ میری اصلاح فرمائیں گی۔
لَل دید چودھویں صدی سے تعلق رکھتی ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ تاریخی روایات کے مطابق لَل دید کی پیدائش تقریباً 1320ء کے آس پاس ہوئی۔ یہاں میں تھوڑی دیر کے لیے رکنا چاہتا ہوں۔ آپ 1320ء کی تاریخ ذہن میں رکھیے گا۔
یہ وہی زمانہ تھا جب ذلچو، جسے بعض تاریخی ماخذوں میں ذلجو , ذلچا یا ذولقدر خان کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے، کشمیر پر حملہ آور ہوا۔ 1320ء کی اس یلغار نے وادی کو شدید تباہی اور بربادی سے دوچار کر دیا۔ حملہ آوروں نے آبادیوں کو اجاڑا، گھروں کو نذرِ آتش کیا اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور لوٹ مار کی۔ اسی ہنگامہ خیز صورتِ حال میں راجہ سہدیو کشمیر سے نکل کر کشتواڑ کی طرف چلا گیا اور وادی کو حملہ آوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
اس دور کی تباہی کا اندازہ اس روایت سے بھی لگایا جاتا ہے جسے کشمیری مورخ غلام رسول بٹ نے اپنے ایک مضمون میں نقل کیا ہے کہ ذلچو خان کی بربریت کے بعد کشمیر میں صرف گیارہ گھر باقی رہ گئے تھے۔ تاہم ’’گیارہ گھر‘‘ کی یہ تعداد تاریخی طور پر کس حد تک درست ہے، اس بارے میں احتیاط ضروری ہے۔ یہ ممکن ہے کہ یہ عدد اس عہد کی بے پناہ تباہی اور ویرانی کو ظاہر کرنے والی ایک مقبول تاریخی روایت ہو۔ اس روایت کی صحت اور اصل ماخذ کا تعین مورخین اور محققین ہی زیادہ مستند طور پر کر سکتے ہیں۔
یہاں میں ذرا ایک اور پہلو کی طرف آنا چاہتا ہوں۔
ہم لَل دید کے زمانے کو صرف ایک ادبی عہد سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، لیکن اگر ہم اسی زمانے کے سیاسی اور تہذیبی پس منظر پر ایک نظر ڈالیں تو صورتِ حال کچھ اور دکھائی دیتی ہے۔
چودھویں صدی کے آغاز میں کشمیر میں راجہ سہدیو کی حکومت تھی۔ سہدیو لوہارا خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اس زمانے کی علمی اور درباری روایت میں سنسکرت کو ایک نمایاں مقام حاصل تھا۔ پھر 1320ء کے آس پاس کشمیر کی سیاسی صورتِ حال زلچو کی وجہ اچانک بدل جاتی ہے۔ سہدیو کشمیر سے چلے جاتے ہیں اور رِنچن اقتدار میں آتے ہیں، جن کا تعلق لداخ سے تھا۔ بعد میں انہوں نے حضرت بلبل شاہ کے ہاتھ پر بیعت کی، اسلام قبول کیا اور سلطان صدرالدین کے نام سے معروف ہوئے۔ حضرت بلبل شاہ کا تعلق وسطی ایشیا کی صوفیانہ روایت سے تھا اور ان کے ساتھ فارسی اسلامی علمی روایت بھی کشمیر میں ایک نئے انداز سے سامنے آتی ہے۔
اب ذرا اس پورے منظرنامے کو ایک ساتھ رکھیے۔
ایک طرف سنسکرت کی علمی و درباری روایت، دوسری طرف لداخ سے آنے والا حکمران، اور تیسری طرف وسطی ایشیا سے آنے والی فارسی اسلامی علمی روایت۔ اس پورے پس منظر سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ کشمیری زبان کو اس زمانے میں ریاستی یا درباری سرپرستی حاصل نہیں تھی۔ لیکن اس کے باوجود کشمیری زبان نے اپنی ادبی قوت لل دید کی صورت میں پیدا کی۔
کیونکہ لل دید کے کلام کو پڑھتے ہوئے کہیں سے بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ ہم کسی ایسی زبان کا سامنا کر رہے ہیں جو ابھی ادبی اظہار کے ابتدائی مرحلے میں ہو۔ ان کے ہاں زبان پختہ ہے، استعارہ پختہ ہے، علامت پختہ ہے، فکری اظہار میں گہرائی ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عام انسان کے روزمرہ تجربے، احساس اور مشاہدے کو شعری زبان میں ڈھالنے کی ایک غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ یہ پختگی محض ایک فرد کی تخلیقی صلاحیت کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ اس کے پیچھے کسی نہ کسی سطح پر ایک زندہ، متحرک اور مسلسل ارتقا پذیر لسانی ماحول ضرور موجود رہا ہوگا۔
یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ کشمیری عوام مقامی سطح پر کشمیری ہی بولتے ہوں گے، کیونکہ کوئی بھی زبان محض درباروں اور کتابوں میں نہیں، بلکہ گھروں، بازاروں، گلیوں اور روزمرہ زندگی میں بولے جانے سے زندہ رہتی ہے۔ چنانچہ غالب امکان یہی ہے کہ اس زمانے میں عام کشمیری اپنی روزمرہ گفتگو میں کشمیری زبان ہی استعمال کرتے ہوں گے۔ گھروں میں بچوں سے بات چیت، بازاروں میں لین دین، کھیتوں میں کام کرتے ہوئے باہمی گفتگو، میلوں اور تہواروں میں ہونے والی بات چیت۔۔۔ یہ سب کشمیری زبان ہی کے ذریعے ہوتی ہوگی۔ زبان کا اصل رشتہ بھی تو اسی روزمرہ زندگی سے قائم ہوتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر کشمیری زبان عوام میں اتنی قدیم، زندہ اور متحرک تھی، تو پھر اس کے قدیم ادبی اظہار کے آثار ہمیں کہاں ملتے ہیں؟ کیا اس زمانے میں کشمیری زبان کا کوئی لوک ادب موجود تھا جس کے ذریعے ہم اس زبان کے قدیم تانے بانے جوڑ سکیں؟ کیا لوک گیت، کہاوتیں، داستانیں، مذہبی یا عوامی گیت اور زبانی روایتیں اس قدیم کشمیری ادبی شعور کے کچھ سراغ اپنے اندر محفوظ کیے ہوئے ہیں؟
یا پھر یہ سوال یوں بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر لل دید کے کلام میں ہمیں ایک ایسی زبان ملتی ہے جو شعری اظہار کے اعتبار سے پہلے ہی خاصی پختہ ہو چکی تھی، تو اس پختگی تک پہنچنے کا وہ سفر کہاں ہے؟
لل دید سے پہلے کشمیری زبان کن مراحل سے گزری؟ اس کے لفظ، محاورے، تشبیہیں، استعارے اور شعری اظہار کی روایت کہاں تشکیل پاتی رہی؟ اور کیا ہمارے پاس ایسے قدیم لسانی یا لوک شواہد موجود ہیں جن کی مدد سے ہم اس گم شدہ یا کم محفوظ ادبی روایت کی کڑیاں دوبارہ جوڑ سکیں؟
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں تحریری تاریخ سے آگے بڑھ کر لوک روایت، زبانی ادب، قدیم الفاظ، مقامی اساطیر، کہاوتوں اور مختلف ثقافتی روایتوں کی طرف دیکھنا پڑے گا۔ کیونکہ ممکن ہے کشمیری زبان کی ابتدائی ادبی تاریخ کتابوں میں کم اور لوگوں کی زبان پر زیادہ محفوظ رہی ہو۔
یہاں میں پروفیسر شاد رمضان صاحب سے جاننا چاہوں گا کہ لَل دید کے کلام کی لفظیات کا لسانی تناسب کیا ہے؟ ان کے کلام میں سنسکرت کے الفاظ کتنے ہیں اور خالص کشمیری لفظیات کا حصہ کتنا ہے؟‘‘
میرے سوال کے جواب میں پروفیسر شاد رمضان صاحب نے برجستگی سے کہا:
’’لَل دید کی شاعری میں سنسکرت تقریباً بیس فیصد ہے، جبکہ کشمیری لفظیات کا حصہ تقریباً اسی فیصد ہے۔‘‘
شاد صاحب کا جواب سن کر میں نے اپنی بات آگے بڑھائی:
آئیے، ذرا وقت کی سیڑھی سے ایک ایک قدم پیچھے اترتے ہیں۔
لَل دید سے پہلے، تیرہویں صدی میں ہمیں شیٹی کنٹھ کی ’’مہانَے پرکاش‘‘ ملتی ہے، جس کے تقریباً 92 اشعار دستیاب ہیں۔ یہ کلام قدیم کشمیری میں ہے، اگرچہ اس میں سنسکرت آمیز لفظیات نمایاں ہیں۔ یعنی لَل دید سے تقریباً ایک صدی پہلے ہمیں کشمیری زبان میں ایک باقاعدہ شعری نمونہ ضرور مل جاتا ہے۔
اب ایک قدم اور پیچھے چلتے ہیں۔
بارہویں صدی میں کلہن کی ’’راج ترنگنی‘‘ ہمارے سامنے آتی ہے۔ کشمیر کی تاریخ اور تہذیبی حافظے کا یہ ایک غیر معمولی ماخذ ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پورے عظیم الشان متن میں کشمیری زبان کے صرف دو جملے ملتے ہیں۔
چلیے، ایک قدم اور پیچھے چلتے ہیں۔
گیارہویں صدی میں کشمیر ہمیں دو بڑے سنسکرت عالم اور ادیب عطا کرتا ہے: سوم دیو اور کشمیندر۔
سوم دیو کی ’’کتھا سرت ساگر‘‘ اور کشمیندر کی ’’کتھا منجری‘‘ آج بھی ہندوستانی ادبی روایت کے اہم متون میں شمار ہوتی ہیں۔ لیکن دونوں کا اظہار سنسکرت میں ہے۔ ہمیں ان عظیم ادبی سرمایوں میں کشمیری زبان کا کوئی باقاعدہ شعری نمونہ دکھائی نہیں دیتا۔
اب دسویں صدی کی طرف آئیے۔
یہاں ہمیں ابھینو گپت جیسا عظیم فلسفی، مفکر، جمالیات شناس اور ادیب ملتا ہے۔ ان کا فکری اور فلسفیانہ ترکہ بعد کی کشمیری فکری روایت، بالخصوص لَل دید کے کلام میں بھی کسی نہ کسی سطح پر محسوس کیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ہمارے سامنے جو تحریری سرمایہ ہے، اس کی زبان بنیادی طور پر سنسکرت ہے؛ کشمیری لفظیات کا باقاعدہ تحریری نمونہ ہمارے ہاتھ نہیں آتا۔
اب نویں صدی میں پہنچتے ہیں۔
یہاں آنند وردھن جیسا عظیم جمالیات شناس سامنے آتا ہے، جس نے ’’دھونیا لوک‘‘ کے ذریعے ہندوستانی شعریات کو ایک نئی فکری جہت عطا کی۔ لیکن یہاں بھی زبانِ تحریر سنسکرت ہی ہے۔
اور اگر ہم اس سے بھی پیچھے، آٹھویں اور ساتویں صدی کی طرف جائیں تو ’’نیلمت پران‘‘ جیسا اہم متن ہمارے سامنے آتا ہے، جو کشمیر کی قدیم تہذیبی، مذہبی اور ثقافتی روایت کے مطالعے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ مگر وہاں بھی ہمیں کشمیری زبان کا ایسا باقاعدہ تحریری ذخیرہ نہیں ملتا جس سے اس دور کی کشمیری لسانی صورتِ حال کو براہِ راست سمجھا جا سکے۔
اب میرا اصل سوال یہ ہے:
ساتویں صدی سے لے کر تیرہویں صدی تک، کشمیری زبان کہاں تھی؟
اگر کشمیر میں لوگ بولتے تھے تو ان کی زبان کے تحریری آثار کہاں ہیں؟
اگر لوک روایت موجود تھی تو اس کے نمونے کہاں ہیں؟
اگر شاعری ہوتی تھی تو اس کے اشعار کہاں ہیں؟
اگر مذہبی، صوفیانہ یا عوامی گیت رائج تھے تو ان کا کوئی تحریری یا روایتی سراغ کیوں نہیں ملتا؟
اور اگر لَل دید کے زمانے تک پہنچتے پہنچتے کشمیری زبان شعری اظہار کی ایسی پختگی حاصل کر چکی تھی کہ اس میں لَل دید جیسا عظیم شعری سرمایہ وجود میں آ گیا، تو اس پختگی تک پہنچنے کا وہ درمیانی سفر کہاں ہے؟
یہاں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے سامنے صرف لَل دید کی شاعری کا سوال نہیں، بلکہ کشمیری زبان کی پوری ادبی تاریخ کا ایک بڑا تحقیقی خلا موجود ہے۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں لَل دید اور شیخُ العالم کی بحث کو محض ان دونوں بزرگ شعرا کے کلام، مذہبی فکر یا فلسفیانہ تصورات تک محدود رکھنے کے بجائے ایک اور تحقیقی دروازہ کھولنا چاہیے۔
وہ دروازہ ہے:کشمیری زبان کی قدیم ترین شعری اور ادبی روایت کی تلاش۔
ممکن ہے اس دروازے کے پیچھے ہماری زبان و ادب کے وہ کئی پوشیدہ ابواب موجود ہوں جنہیں ابھی تک ہم پوری طرح دریافت نہیں کر سکے۔
شاید لَل دید آغاز نہیں، بلکہ ایک طویل اور گم شدہ روایت کی وہ روشن کڑی ہیں جو اچانک ہماری تاریخ کے صفحات پر نمایاں ہو جاتی ہیں۔
اور اگر ایسا ہے تو پھر اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ لَل دید سے پہلے کشمیری شاعری تھی یا نہیں۔ اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ وہ شاعری کہاں چلی گئی؟ اس کے آثار کہاں محفوظ ہیں؟ اور ہماری ادبی تاریخ کے کن صفحات کے درمیان وہ روایت آج بھی خاموش پڑی ہے؟
آخر میں، میں اسی جملے کے ساتھ آپ سے رخصت چاہوں گا کہ لَل دید اور شیخُ العالم کو سمجھنے کے لیے مذکورہ بالا سوالات کے جوابات تلاش کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ان کے کلام کا مطالعہ کرنا۔(جاری)

Previous Post

The Growing Drinking Water Crisis in Karnah: Today’s Neglect, Tomorrow’s Thirst:

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.