پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ انسان خوراک کے بغیر کچھ عرصہ زندہ رہ سکتا ہے، مگر پانی کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پانی کے قدرتی وسائل کو محفوظ رکھنا صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے سرحدی علاقہ کرناہ آج پانی کے ایک ایسے ممکنہ بحران کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے سنگین اثرات آنے والے برسوں میں یہاں کے عام لوگوں کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
کرناہ کبھی اپنے چشموں، ندی نالوں اور قدرتی آبی ذخائر کے حوالے سے ایک مالا مال خطہ سمجھا جاتا تھا۔ پہاڑوں سے نکلنے والے چشمے کئی علاقوں میں لوگوں کی پینے کے پانی کی بنیادی ضرورت پوری کرتے تھے۔ مگر گزشتہ کچھ عرصے سے قدرتی پانی کے ان ذرائعوں میں مسلسل کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ کئی چشمے یا تو خشک ہو چکے ہیں یا ان میں پانی کی مقدار پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ یہ صورت حال محض قدرتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ اس میں جہاں موسمی تبدیلیاں، جنگلات میں کمی، بارشوں کے انداز میں تبدیلی اور ماحولیاتی عوامل اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، وہیں انسانی غفلت بھی ایک اہم وجہ ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے قدرتی وسائل کو ہمیشہ ایک ایسی چیز سمجھا جس کا استعمال تو کیا جا سکتا ہے، مگر اسے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری محسوس نہیں کی۔
حالیہ دنوں میں کرناہ کے مختلف گاؤں سے پینے کے پانی کی قلت اور مشکلات کی اطلاعات سامنے آنا ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ بعض علاقوں میں لوگوں کو پانی کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث عوام نے احتجاج بھی کیا۔ یہ احتجاج صرف چند دن کی پانی کی قلت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے اور مستقبل کے بحران کی علامت سمجھا جانا چاہیے۔ اگر آج کسی گاؤں میں پانی کے لیے لوگ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اگر قدرتی ذرائع اسی رفتار سے کم ہوتے رہے اور متبادل انتظامات نہ کیے گئے تو آنے والے پانچ، دس یا بیس برس بعد صورتحال کیا ہوگی؟کیا ہم اس وقت تک انتظار کریں گے جب پانی کی ایک بالٹی کے لیے لوگوں کو میلوں سفر کرنا پڑے؟
یہاں حکومت اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داری بھی انتہائی اہم ہے۔ کرناہ کے قدرتی آبی وسائل کے حوالے سے ایک جامع اور طویل مدتی پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کسی عارضی ذریعے سے چند دنوں کے لیے پانی فراہم کرنا مستقل حل نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ کرناہ کے تمام قدرتی آبی ذرائعوں کا سائنسی سروے کیا جائے، ان کی نشاندہی کی جائے، ان کا ریکارڈ مرتب کیا جائے اور ہر چشمے، نالے اور قدرتی ذخیرے کے تحفظ کے لیے الگ منصوبہ بنایا جائے۔ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے چھوٹے اور بڑے واٹر ہارویسٹنگ منصوبے شروع کیے جائیں۔ قدرتی چشموں کے اردگرد غیر ضروری تعمیرات اور ایسی سرگرمیوں کو روکا جائے جو ان کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کرتی ہیں۔
اسی طرح جنگلات کے تحفظ اور بڑے پیمانے پر شجرکاری کو بھی پانی کے تحفظ کی پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔
سیاسی قیادت کی ذمہ داری بھی کم نہیں اس معاملے میں سیاسی قیادت کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ کسی علاقے کی سیاسی قیادت کا کردار صرف انتخابات کے دوران عوام سے ووٹ مانگنے یا ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ پانی جیسا بنیادی مسئلہ مستقل سیاسی اور انتظامی توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر آج کرناہ کے مختلف علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہو رہی ہے تو اس مسئلے کو اسمبلی، انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے سامنے مستقل بنیادوں پر اٹھانے کی ضرورت ہے۔کرناہ کے لیے ایک Long-Term Water Security Plan کی ضرورت ہے، جس میں اگلے دس، بیس اور تیس برس کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی جائے۔ اگر آج ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کس نظر سے دیکھیں گی؟
کرناہ کے پہاڑ، چشمے، ندیاں اور قدرتی وسائل اس علاقے کی اصل دولت ہیں۔ اگر یہ وسائل محفوظ رہیں گے تو آنے والی نسلوں کے لیے زندگی آسان رہے گی۔ اگر ہم نے انہیں ضائع کر دیا تو ترقی کے بڑے بڑے دعوے بھی ہماری بنیادی ضرورت پوری نہیں کر سکیں گے۔ آج ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم کرناہ میں پانی کے قدرتی وسائل کو محفوظ کر لیں۔ اگر آج بھی ہم غفلت کی نیند میں سوے رہے تو ممکن ہے کہ آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال کریں کہ جب چشمے خشک ہو رہے تھے، پانی کے ذخائر کم ہو رہے تھے اور خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی، تب ہم خاموش کیوں رہے؟
کالم نگار:
محمد حفیظ میر
Contact No: 7006756956
