• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Friday, October 9, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

8 اکتوبر 2005 کا تباہ کن زلزلہ: کرناہ کے زخم آج بھی تازہ، 21 برس بعد بھی یادیں دلوں کو رُلا دیتی ہیں:

پیرزادہ سعید by پیرزادہ سعید
October 9, 2026
in اردو خبریں
A A
8 اکتوبر 2005 کا تباہ کن زلزلہ: کرناہ کے زخم آج بھی تازہ، 21 برس بعد بھی یادیں دلوں کو رُلا دیتی ہیں:
FacebookTwitterWhatsapp

رناہ، 8 اکتوبر: 8 اکتوبر 2005ء کا دن جموں و کشمیر، بالخصوص سرحدی علاقہ کرناہ کی تاریخ کے ان سیاہ ترین ابواب میں شامل ہے جسے وقت کی گرد بھی دھندلا نہیں سکی۔ اس تباہ کن زلزلے کو گزرے 21 برس بیت چکے ہیں، لیکن اس سانحے کی یادیں آج بھی کرناہ کے سینکڑوں خاندانوں کے دلوں میں اسی شدت کے ساتھ زندہ ہیں۔ وہ چند لمحے صرف عمارتیں ہی نہیں لے گئے تھے بلکہ خاندان بکھر گئے، اپنوں کی زندگیاں چھن گئیں اور کئی نسلوں کی یادیں ملبے تلے دفن ہوگئیں۔
8 اکتوبر 2005ء کی صبح تقریباً 9 بج کر 25 منٹ پر پاکستان اور جموں و کشمیر کے وسیع علاقوں کو 7.6 شدت کے ایک طاقتور زلزلے نے ہلا کر رکھ دیا۔ زلزلے کے شدید جھٹکوں نے پہاڑوں، وادیوں، دیہات اور شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس کی مثال خطے کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
کرناہ جیسے دور افتادہ، پہاڑی اور سرحدی علاقے میں اس زلزلے کے اثرات انتہائی تباہ کن ثابت ہوئے۔ چند ہی لمحوں میں مکانات زمین بوس ہوگئے، سڑکیں تباہ ہوئیں، مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور سینکڑوں خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہوگئے۔ اس وقت مواصلاتی نظام بھی محدود تھا، جس کے باعث متاثرہ علاقوں تک فوری امداد، بچاؤ کارروائیوں اور طبی سہولیات پہنچانا ایک انتہائی مشکل چیلنج بن گیا تھا۔
مقامی اطلاعات کے مطابق اس تباہ کن زلزلے میں کرناہ میں 311 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ تقریباً 1800 افراد زخمی ہوئے۔ آج بھی چار افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث ان کے خاندان برسوں گزرنے کے باوجود اپنے پیاروں کے بارے میں جواب کے منتظر اور ایک ناقابلِ بیان غم کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
زلزلے کے بعد کرناہ خوف، بے یقینی اور سوگ میں ڈوب گیا تھا۔ لوگ اپنے تباہ شدہ گھروں سے باہر کھلے آسمان تلے بیٹھے اپنے پیاروں کی خیریت معلوم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کئی مقامات پر ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری رہیں، جبکہ متعدد خاندان اپنے رشتہ داروں کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھٹکتے رہے۔
سول سوسائٹی چیئرمین پیرزادہ سراج الدین قریشی نے ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے 2005ء کے زلزلے کی تباہ کاریوں کو یاد کیا اور متاثرہ عوام کے لیے ہندوستانی فوج کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفت کے بعد پیدا ہونے والے انتہائی مشکل حالات میں ہندوستانی فوج نے کرناہ کے لوگوں کی مدد میں اہم کردار ادا کیا۔ سڑکوں کی تباہی، دشوار گزار پہاڑی علاقے اور محدود مواصلاتی سہولیات کے باوجود فوجی اہلکاروں نے امدادی و بچاؤ کارروائیوں میں تعاون کیا اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے میں بھی مدد کی۔
ان مشکل ترین لمحات میں طبی امداد کی فراہمی خاص طور پر اہم تھی، کیونکہ ہزاروں افراد زلزلے کے نتیجے میں زخمی ہوئے تھے۔ ہندوستانی فوج کی جانب سے فراہم کی جانے والی مدد نے اس وقت کئی زخمیوں تک علاج اور طبی سہولیات پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، جب مقامی وسائل شدید دباؤ میں تھے۔ کرناہ کے عوام کے لیے ان مشکل دنوں میں کی جانے والی یہ امداد آج بھی ان کی اجتماعی یادداشت کا ایک اہم حصہ ہے۔
8 اکتوبر کا زلزلہ محض ایک قدرتی آفت نہیں تھا بلکہ اس نے پورے خطے کی سماجی، معاشی اور انسانی زندگی کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ پاکستان اور جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں دسیوں ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ لاکھوں افراد زخمی یا بے گھر ہوئے۔ زلزلہ صبح کے وقت آیا، جب بچے اسکولوں میں موجود تھے، اور متعدد اسکولوں کی عمارتیں منہدم ہونے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بچے بھی جاں بحق ہوئے۔ اپنے بچوں کو کھونے والے خاندانوں کے لیے یہ ایسا غم تھا جسے الفاظ میں بیان کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
مکانات، اسکول، سڑکیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچہ بڑے پیمانے پر تباہ ہوا۔ ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے اور انہیں عارضی پناہ گاہوں اور انسانی امداد پر انحصار کرنا پڑا، خصوصاً اس وقت جب سردیوں کا موسم قریب آ رہا تھا۔
کرناہ کے لوگوں کے لیے 8 اکتوبر محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک ایسی ذاتی اور اجتماعی یاد بن چکا ہے جو بے شمار خاندانوں کی زندگیوں کا دردناک حصہ ہے۔ کسی نے والد کھویا، کسی نے ماں، کسی نے بھائی یا بہن، جبکہ متعدد بچے ہمیشہ کے لیے اپنے والدین اور دیگر قریبی رشتہ داروں سے محروم ہوگئے۔
کئی خاندانوں کے گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے اور ان کے پاس زندگی کی پرانی یادوں کے سوا کچھ باقی نہ بچا۔ بہت سے لوگ کئی دن تک اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں رہے، جبکہ متعدد خاندان اپنے عزیزوں کو سپردِ خاک کرنے کے بعد ایسے سکوت سے دوچار ہوئے جس کی بازگشت آج بھی ان کے گھروں میں محسوس کی جاسکتی ہے۔
اس سانحے نے کرناہ کے عوام کی ہمت، اتحاد اور ثابت قدمی کو بھی نمایاں کیا۔ مقامی لوگوں، رضاکاروں، سول انتظامیہ، امدادی اداروں اور ہندوستانی فوج نے مل کر متاثرین کی مدد کی اور بچاؤ و بحالی کی کوششوں میں حصہ لیا۔ دشوار گزار پہاڑی علاقے، تباہ شدہ سڑکوں اور سخت حالات کے باوجود لوگوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور مدد کا سلسلہ جاری رکھا۔
اس سانحے کو گزرے 21 برس ہوچکے ہیں، لیکن زلزلے کو یاد کرنا صرف ماضی کے درد کو تازہ کرنا نہیں بلکہ مستقبل کے لیے سبق حاصل کرنا بھی ہے۔ زلزلے کبھی پیشگی اطلاع دے کر نہیں آتے۔ اس لیے کرناہ جیسے پہاڑی اور زلزلہ خیز علاقوں میں زلزلہ مزاحم تعمیرات، محفوظ اسکولوں، تربیت یافتہ مقامی رضاکاروں، جدید ریسکیو آلات، مناسب طبی سہولیات، ایمبولینس سروس اور قابلِ اعتماد ہنگامی مواصلاتی نظام کی اشد ضرورت ہے۔
2005ء کے تجربے نے یہ واضح کردیا تھا کہ دور افتادہ اور جغرافیائی طور پر دشوار علاقوں میں قدرتی آفت کے دوران فوری ریسکیو اور طبی ردعمل کس قدر اہم ہوتا ہے۔ بروقت امداد، مربوط بچاؤ کارروائیاں اور آسانی سے دستیاب طبی سہولیات قدرتی آفت کے وقت قیمتی انسانی جانیں بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں۔
آج جب 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کو یاد کیا جا رہا ہے، کرناہ کے پہاڑ بظاہر خاموش ہیں، لیکن ملبے تلے ہمیشہ کے لیے دفن ہوجانے والوں کی یادیں آج بھی ان وادیوں میں بسنے والے لوگوں کے دلوں میں گہری نقش ہیں۔
اس زلزلے نے سینکڑوں جانیں لیں، ہزاروں افراد کو زخمی کیا اور بے شمار خاندانوں کو اپنے پیاروں کی تلاش میں چھوڑ دیا۔ تاہم اس سانحے نے مشکل ترین حالات میں انسانیت، اتحاد، ہمدردی اور بروقت امداد کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
اللہ تعالیٰ 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبروں کو نور سے منور فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبرِ جمیل اور ہمت عطا فرمائے۔ آمین۔
کچھ سانحات وقت گزرنے کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے، بلکہ تاریخ کا حصہ بن کر ہر سال ہمارے سامنے لوٹ آتے ہیں۔ 8 اکتوبر 2005ء بھی ایسا ہی ایک دن ہے—ایک ایسا دن جسے کرناہ کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔

Previous Post

عرس تقریبات کے درمیان شان حیدر، نامی تصنیف، اجراء، چرارشریف میں خاص ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا تھا۔

پیرزادہ سعید

پیرزادہ سعید

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.