• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Saturday, October 10, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (28)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
October 10, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (28)
FacebookTwitterWhatsapp

شاکر شفیع نے کچھ دیر ہمارے ساتھ بیٹھنے کے بعد گھڑی پر ایک نظر ڈالی، پھر مسکراتے ہوئے رخصت ہونے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’اچھا، اب میں چلتا ہوں۔ کانفرنس کا وہ حصہ تو ابھی باقی ہے جس میں اصل مزہ آتا ہے۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’وہ کون سا حصہ؟‘‘
وہ مسکرائے اور بولے:
’’ارے بھئی! مشاعرہ۔۔۔ اب ذرا شاعری کا دور چلے گا۔‘‘
یہ کہتے ہوئے شاکر شفیع ہم سے مصافحہ کرکے واپس ہائر سیکنڈری اسکول چلے گئے، جہاں کانفرنس کا آخری حصہ، یعنی مشاعرہ، منعقد ہونا باقی تھا۔
ان کے جاتے ہی شبیر بانہالی نے قدرے افسوس کے انداز میں کہا:
’’مجھے تو یہ سوچ کر ہی افسوس ہو رہا ہے کہ ہم مشاعرہ چھوڑ کر یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔‘‘
میں نے مسکراتے ہوئے ان کی طرف دیکھا۔ شبیر بانہالی خود شاعر ہیں، اس لیے مشاعرے کی کشش کو سمجھنا مشکل نہیں تھا۔ شاید ان کے اندر کا شاعر انہیں بار بار اس طرف کھینچ رہا تھا جہاں شعرا اپنے کلام کے ساتھ موجود تھے۔
لیکن اگلے ہی لمحے انہوں نے اپنے اس افسوس کو ایک طرف رکھتے ہوئے مشتاق احمد مشتاق کی طرف رخ کیا۔
’’مشتاق صاحب! آپ نے پینل ڈسکشن میں ایک اہم بات کہی تھی کہ کشمیری لوگ ہمیشہ سے کسی نہ کسی غیبی طاقت کے قائل رہے ہیں۔ مجھے یہ بات دلچسپ لگی۔‘‘
مشتاق صاحب کچھ دیر خاموش رہے، پھر پہلو بدلتے ہوئے بولے:
’’یہ بات تو اظہر من الشمس ہے، البتہ میں یہاں ایک بات ضرور کہوں گا۔ لَل دید اور شیخ العالم پر گفتگو کرنے سے پہلے کم از کم پینلسٹس کو پروفیسر رحمان راہی کا مضمون ایک بار ضرور پڑھ لینا چاہیے تھا۔‘‘
شبیر بانہالی نے نہایت معصومیت سے پوچھا:
’’مشتاق صاحب، ہمیں بھی بتائیے کہ راہی صاحب نے اس مضمون میں کیا لکھا ہے؟ اور وہ مضمون کس کتاب میں شامل ہے؟‘‘
مشتاق صاحب نے مختصر سا جواب دیا:
’’’کہوٹ‘ میں۔‘‘
’’’کہوٹ‘؟‘‘ شبیر بانہالی نے نام کو ذہن میں محفوظ کرنے کے لیے دوبارہ دہرایا۔
’’جی ہاں، ’کہوٹ‘ میں موجود ہے۔‘‘
اب تک خاموش بیٹھے پروفیسر شفیع سنبھلی نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔ ان کے لہجے میں شکوہ بھی تھا اور فکری تشویش بھی۔
’’اصل مسئلہ یہی ہے کہ آج کل لوگ مطالعے کے بغیر بھی بحث میں شامل ہو جاتے ہیں۔ کسی موضوع پر بات شروع ہوتی ہے تو ہر شخص اپنی رائے دینے لگتا ہے۔ لیکن اگر پوچھ لیا جائے کہ اس بات کی بنیاد کیا ہے یا یہ کہاں پڑھی ہے، تو پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔‘‘
کچھ لمحوں کے لیے سب خاموش رہے۔
پھر مشتاق صاحب نے شبیر بانہالی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
’’راہی صاحب نے اپنے مضمون میں لَل دید اور شیخ العالم کے کلام کے حوالے سے بڑی اہم باتیں کہی ہیں۔‘‘
شبیر بانہالی نے دلچسپی سے پوچھا:
’’کیا بات کہی ہے انہوں نے؟‘‘
مشتاق صاحب بولے:
’’ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ دونوں کا کلام اس قدر خلط ملط ہو چکا ہے کہ بعض اوقات لَل دید کا کوئی واکھ شیخ العالم سے منسوب ہو جاتا ہے اور کبھی شیخ العالم کا کوئی قول لَل دید کے نام سے مشہور ہو جاتا ہے۔ اب جب تک دونوں کے کلام کو الگ الگ دیکھ پرکھ کر سامنے نہیں لایا جاتا، ہم ان کے بارے میں اعتماد سے کوئی فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘
شبیر بانہالی نے فوراً کہا:
’’یعنی پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ کس کا کلام کیا ہے؟‘‘
’’بالکل!‘‘ مشتاق صاحب نے جواب دیا۔ ’’یہی بنیادی بات ہے۔ ورنہ ہماری بہت سی آرا محض اندازوں پر قائم رہیں گی۔‘‘
پروفیسر سنبھلی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
’’اور یہی کام سب سے مشکل بھی ہے۔‘‘
’’مشکل تو ہے، لیکن کرنا تو پڑے گا،‘‘ مشتاق صاحب بولے۔ ’’خاص طور پر ان شخصیات کے معاملے میں جن کا کلام صدیوں سے لوگوں کی زبان پر چلا آ رہا ہو۔‘‘
وہ ذرا رکے، پھر اپنی بات آگے بڑھائی:
’’لَل دید اور شیخ العالم ہمارے لیے صرف ادبی شخصیات نہیں ہیں۔ ان کے ساتھ لوگوں کی عقیدت بھی وابستہ ہے۔ اس لیے جب ان کے کلام پر تنقیدی گفتگو ہوتی ہے تو معاملہ صرف ادب تک محدود نہیں رہتا، لوگوں کے جذبات بھی درمیان میں آ جاتے ہیں۔‘‘
شبیر بانہالی نے اثبات میں سر ہلایا۔
مشتاق صاحب نے کہا:
’’اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان پر تنقیدی گفتگو نہ کی جائے۔ ضرور کی جائے، لیکن ٹھوس بنیادوں پر۔ پرانے نسخے دیکھے جائیں، مختلف روایتوں کا تقابل کیا جائے اور زبان کے بدلتے ہوئے استعمال کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔ کسی واکھ کا کسی کتاب میں کسی شخصیت کے نام سے درج ہونا ہی اس کی نسبت کا قطعی ثبوت نہیں ہو سکتا۔‘‘
مجھے ان کی بات اہم محسوس ہوئی۔ کسی ادبی روایت کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے مشہور ہونے پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ وہ روایت کن ذرائع سے ہم تک پہنچی ہے۔
شبیر بانہالی نے مسکراتے ہوئے پوچھا:
’’تو پھر لَل دید اور شیخ العالم کو سمجھنے سے پہلے ان کے کلام کو سمجھنا پڑے گا؟‘‘
مشتاق صاحب بھی مسکرائے۔
’’جی ہاں، اور کلام کو سمجھنے کے لیے اس کی زبان، زمانے اور پس منظر کو بھی دیکھنا ہوگا۔ ہم اکثر پہلے شخصیت کے بارے میں ایک رائے قائم کر لیتے ہیں اور پھر اسی رائے کی روشنی میں اس کا کلام پڑھتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ پہلے کلام کو سمجھیں، پھر اس کی بنیاد پر کوئی رائے قائم کریں۔‘‘
پروفیسر سنبھلی نے بات آگے بڑھائی:
’’لیکن لَل دید اور شیخ العالم کا کلام صرف کتابوں میں محفوظ نہیں رہا۔ لوگوں نے اسے یاد رکھا، اپنی زبان سے آگے پہنچایا اور نسل در نسل منتقل کیا۔‘‘
’’جی،‘‘ مشتاق صاحب نے کہا، ’’اور یہی چیز اس تحقیق کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔‘‘
شوکت شفیع نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا:
’’کیونکہ جب کوئی چیز لوگوں کے حافظے کا حصہ بن جاتی ہے تو وہ صرف متن نہیں رہتی، روایت بھی بن جاتی ہے۔‘‘
’’بالکل،‘‘ پروفیسر سنبھلی بولے۔ ’’زبانی روایت میں بعض چیزیں محفوظ رہتی ہیں، بعض بدل جاتی ہیں اور کبھی نئی چیزیں بھی شامل ہو جاتی ہیں۔ محقق کے لیے چیلنج یہ ہے کہ دستیاب شواہد کی مدد سے ان تبدیلیوں کو سمجھنے کی کوشش کرے۔‘‘
شبیر بانہالی نے پوچھا:
’’تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ لَل دید اور شیخ العالم پر نئے سرے سے کام کرنے کی ضرورت ہے؟‘‘
پروفیسر سنبھلی نے جواب دیا:
’’ضرورت تو بہت ہے، لیکن یہ کام کسی ایک آدمی کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے کشمیری زبان کے ماہرین، ادبی محققین، تاریخ دانوں اور قدیم مخطوطات کو پڑھنے والے ماہرین کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ مختلف نسخوں کا تقابل کرنا ہوگا اور جہاں کسی واکھ کی نسبت مشکوک ہو، وہاں اس حقیقت کو واضح طور پر سامنے لانا ہوگا۔‘‘
گفتگو اب لَل دید اور شیخ العالم سے آگے بڑھ کر ہمارے پورے ادبی اور تاریخی ورثے تک پہنچ چکی تھی۔ میرے ذہن میں ایک سوال ابھر رہا تھا: ہم اپنے ماضی کو کس طرح سمجھتے ہیں؟ کیا صرف ان روایات کے ذریعے جو نسل در نسل ہم تک پہنچی ہیں، یا ان کی تحقیق بھی کرتے ہیں؟
شاید دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے۔ عقیدت ہمیں بتاتی ہے کہ کسی شخصیت کی لوگوں کے دلوں میں کیا جگہ ہے، جبکہ تحقیق یہ جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ اس شخصیت سے متعلق تاریخی اور ادبی دعووں کی بنیاد کتنی مضبوط ہے۔ دونوں میں تضاد ضروری نہیں، بشرطیکہ روایت کو تحقیق کا متبادل نہ سمجھا جائے اور تحقیق کے نام پر شواہد سے آگے بڑھ کر کوئی دعویٰ نہ کیا جائے۔
شوکت شفیع کچھ دیر خاموشی سے ہماری گفتگو سنتے رہے۔ پھر ہلکے سے مسکراتے ہوئے بولے:
’’لیکن یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ لَل دید اور شیخ العالم دونوں کتابوں سے زیادہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کا کلام گھروں میں بھی ہے، محفلوں میں بھی، خانقاہوں میں بھی اور لوگوں کی زبان پر بھی۔‘‘
ان کی بات نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ کسی شخصیت کا کتابوں میں محفوظ ہونا ایک بات ہے، لیکن لوگوں کی اجتماعی یادداشت میں زندہ رہنا بالکل دوسری بات۔ کتاب کے متن کو مختلف نسخوں سے پرکھا جا سکتا ہے، مگر لوگوں کے حافظے میں محفوظ صدیوں پرانی روایت تک پہنچنے کے لیے ایک مختلف نوعیت کی محنت درکار ہوتی ہے۔
لَل دید اسی لیے آج بھی ہمارے لیے محض ماضی کی ایک شخصیت نہیں ہیں۔ ان کے کلام، ان سے وابستہ روایتوں اور ان کے فکری اثرات کو سمجھنے کے لیے ہر نسل کو اپنے سوالات کے ساتھ ان کی طرف لوٹنا پڑتا ہے۔
آج ہمارے پاس قدیم نسخوں کے تقابل، لسانی تجزیے اور تاریخی تحقیق کے پہلے سے کہیں زیادہ امکانات موجود ہیں۔ لیکن وسائل کی موجودگی اپنی جگہ، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری علمی محنت کرنے کو تیار ہیں؟
میں ابھی انہی خیالوں میں گم تھا کہ شبیر بانہالی نے ایک نیا سوال اٹھا دیا:
’’مشتاق صاحب! ایک بات بتائیے۔ اگر کسی واکھ کی نسبت پرانے نسخوں میں بھی مختلف ملتی ہو، تو پھر ہم کیسے طے کریں گے کہ اس کا اصل شاعر کون ہے؟‘‘
مشتاق صاحب نے ان کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
’’بس، اب آپ اصل سوال تک پہنچے ہیں۔ لیکن اس کا جواب اتنا آسان نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔‘‘
ان کی بات سن کر میں نے محسوس کیا کہ ہماری گفتگو کا ایک نیا دروازہ کھلنے والا ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں تھا کہ لَل دید اور شیخ العالم کا کون سا کلام کس سے منسوب ہے، بلکہ یہ بھی تھا کہ قدیم ادبی روایتوں میں کسی متن کی اصل شناخت تک پہنچنے کے لیے کن اصولوں اور شواہد کی ضرورت ہوتی ہے۔(جاری)

Previous Post

District Employment, Counselling Centre Anantnag organises Udyam Jagriti Program for Ex-Servicemen

Next Post

ایک باپ کی میراث، سپاہیوں کا بھائی چارہ: بی ایس ایف افسران نے شادی کے موقع پر اپنے مرحوم ساتھیوں کے اہلِ خانہ کا ساتھ نبھایا

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
ایک باپ کی میراث، سپاہیوں کا بھائی چارہ: بی ایس ایف افسران نے شادی کے موقع پر اپنے مرحوم ساتھیوں کے اہلِ خانہ کا ساتھ نبھایا

ایک باپ کی میراث، سپاہیوں کا بھائی چارہ: بی ایس ایف افسران نے شادی کے موقع پر اپنے مرحوم ساتھیوں کے اہلِ خانہ کا ساتھ نبھایا

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.